تعارف

تاریخِ ادب میں ناگزیر حیثیت رکھنے کے باوجود ننگ و ناموس سے محروم فن کاروں کی فہرست بنائی جائے تو غالباً شاہ حاتم اس میں سب سے زیادہ گُم نام نظر آئیں گے۔ شاہ حاتم کا پورا نام شیخ ظہور الدین تھا اور حاتمؔ تخلص تھا۔ آپ شاہ حاتمؔ کہلاتے تھے۔ لفظ ظہور میں آپ کی تاریخ ولادت پنہاں ہے یعنی ۱۱۱۱ھ۔ آپ دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ خاص دہلی کے رہنے والے سپاہی پیشہ آدمی تھے۔ آپ کے والد کا نام شیخ فتح الدین ہے۔ حاتم شاہ بزرگ محمد امین کے مرید تھے۔ نواب عمدۃ الملک امیر خاں صوبہ دار الہ آباد کے مطبخ کے داروغہ تھے۔ امیر خاص کے بعد ہدایت علی خاں، مراد علی خاں، فاخر خاں وغیرہ امراء کبھی کبھی ملازمت دے کر مالی مدد کرتے رہے آخر میں تعلقات ظاہری سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ 

ادبی تعارف

شاہ حاتم نے ۱۲۲۸ھ میں شاعری کا آغاز کیا جب ان کی عمر فقط سترہ سال تھی۔ شاہ صاحب کے مزاج میں ظرافت بہت تھی قلعہ دہلی کے نیچے شاہ تسلیم ایک آزاد منیش فقیر کا تکیہ تھا وہاں روزانہ نشست رہتی ، شاہ حاتم کا ابتدائی رنگ ایہام گوئی تھا۔ بعد کو یہ رنگ ترک کردیا تھا زبان کی درستی کی طرف بھی متوجہ ہوئے بہت سے غیر مانوس اور غیر فصیح الفاظ ترک کردیے مگر افسوس ہے کہ ان کے معاصرین نے اس طرف کافی توجہ نہیں کی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک شخص کا محدود مگر مفید خیال زیادہ پھیلنے نہ پایا۔

شاہ حاتمؔ اپنے مقدمہ دیوان زادہ میں لکھتے ہیں بات صرف اتنی ہے کہ بعد میں اس اصول کی پابندی خواص و عوام دونوں کے لیے ضروری کردی گئی اور بے چارے شاہ حاتمؔ کی بات ان کے منہ اور قلم سے نکل کر دیوان زادہ تک محدود رہی۔ بہرحال اصلاح زبان کے خیال کرنے والوں میں پہلا نمبر شاہ حاتمؔ کا ہے۔ کردار و گفتار کے اعتبار سے شمالی ہند میں صوفیانہ شاعری کی روایت انہی سے شروع ہوتی ہے۔ بیشتر تذکرہ نگاروں نے آپ کے نام کو غلط لکھا ہے۔ بنا کسی تحقیق و تلاش کے ظہور الدین حاتم کی جگہ محمد حاتم لکھتے رہے ہیں جس سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی کہ یہ دونوں الگ الگ شعراء کے نام ہیں۔

شاگرد

بہت سے نام ور شعراء آپ کے شاگرد گزرے ہیں۔ مرزا سوداؔ ان کے ایسے شاگرد تھے جن پر استاد کو فخر تھا۔ استاد سعادت یار خاں رنگینؔ ، محمد امان ،نثار ؔ مکند سنگھ فارغؔ بھی ان کے شاگردوں میں سے تھے۔ انھوں نے اب اور یہاں اکثر آجاتے ہیں دیوان زادہ کے دیباچہ میں اپنے ۴۵ شاگردوں کے نام گنوائے ہیں۔ ان میں مرزا محمد رفیع سوداؔ بھی ہیں۔ دیوان زادہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تاباںؔ نے بھی ان سے اصلاح لی ہے۔

دیوان

ان کا پہلا دیوان درّانی تاخت و تاراج میں ضائع ہو گیا۔ دوسرا دیوان مسمی بہ دیوان زادہ باقی ہے۔ جس میں غزلیں ، مخمس ،رباعیاں، مستزاد ترجیع بند، ساقی نامہ، دو مثنویاں  قہوہ اور تمباکو کی تعریف میں اور ایک شہر آشوب بعنوان بارہ صدی ہے جس میں محمد شاہی عہد کی معاشی زبوں حالی کا نقشہ خوب پیش کیا ہے۔ غزلوں میں مضامین ان کے عاشقانہ و عارفانہ ہیں۔   

آخری ایام

آپ کا انتقال ۱۱۹۷ھ مطابق ۱۷۳۴ء میں ہوا۔ آپ سر زمینِ شاہ جہاں آباد میں سپردِ خاک ہیں۔

شاہ حاتم پر ایک کوئز

شیخ ظہورالدین حاتم 1
Advertisements