Advertisement
  • کتاب” ابتدائی اردو” برائے چوتھی جماعت
  • سبق نمبر09: مضمون
  • سبق کا نام : شہید بھگت سنگھ

خلاصہ سبق:شہید بھگت سنگھ

سبق “شہید بھگت سنگھ” میں آزادی کی جنگ کے سلسلے میں بھگت سنگھ کی دی گئی قربانیوں کو سراہا گیا ہے۔ ہندوستانیوں نے انگریزوں کی غلامی سے آزادی کے حصول کے لیے ان کے خلاف لڑائی لڑی۔جسے ہم آزادی کی جنگ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔انگریزوں کے خلاف لڑائی لڑنے والوں میں دو گروہ شامل تھے جن میں ایک نرم دل گروہ تھا جس کے لیڈر مہاتما گاندھی تھے جبکہ دوسرا گرم دل تھا جس کے رہنما بھگت سنگھ تھے۔

بھگت سنگھ پنجاب کے ضلع لائل پور میں موجودہ پاکستان کے جڑانوالہ تحصیل میں 27 ستمبر 1907ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کے چچا بھی آزادی کی جنگ میں شامل تھے اور کئی بار جیل بھی گئے۔بھگت سنگھ نے انٹر پاس کے بعد پی سیاست میں دلچسپی لینی شروع کر دی اور اسی دوران جلیانوالہ باغ کا واقع ہوا جس میں ہزاروں بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔بھگت سنگھ امرتسر جا کرجلیانوالہ باغ کی وہ سرز مین دیکھی۔

Advertisement

بھگت سنگھ نے اس واقعے کے بعد ان نوجوانوں سے رابطہ کیا جو انگریزوں کے خلاف لڑائی کے لیے تیار تھے۔ چندر شیکھر اور بھگت جیسے نوجوانوں نے ان کی رہنمائی کا بیڑا اٹھایا۔ بھگت سنگھ کے انقلابی دوستوں میں رام پرساد ، اشفاق اللہ خاں، سکھ دیواور راج گرو اہم تھے۔سب آزادی کی جنگ کے لیے نکلے۔لاہور میں سائمن کمشن کے خلاف نکالے جانے والے جلوس میں لالہ لاجپت رائے پیش پیش تھے۔

Advertisement

اس جلوس پر انگریزی پولیس نے بہت بے دردی سے لاٹھیاں برسائیں۔ جس میں لالہ لاج پت رائے بری طرح زخمی ہو گئے اور اسی حالت میں کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی اور منظم ہوئے۔انھوں نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہوئے 8 اپریل 1929ء کو سینٹرل اسمبلی میں اجلاس کے دوران بم پھینکے اور اسمبلی کے ہال میں انقلاب زندہ باد کے نعرے لگائے۔

Advertisement

ان کا مقصد کسی کو مارنا نہیں بلکہ انگریزوں کے خلاف غم و غصہ کا اظہار تھا۔اس جرم کی پاداش میں ان پر مقدمہ چلایا گیا اور بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو لاہور سینٹرل جیل میں 23 مارچ 1931ء کو شام سات بج کر پندرہ منٹ پر پھانسی دی گئی۔اس وقت ان کی عمر 23 سال تھی اور ماں، باپ اور دادا زندہ تھے۔ جنگ آزادی کے ان متوالوں نے اپنی جان نچھاور کرکے ہمیں آزادی کا تحفہ دیا۔ آج ہم ایک آزاد ملک کے باشندے ہیں۔ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی یہ قربانی ہمیشہ ہر ہندوستانی کے دل میں ان کی یاد تازہ رکھے گی۔

سوچیے بتائیے اور لکھیے۔

ہندوستانیوں نے انگریزوں کے خلاف لڑائی کیوں لڑی؟

ہندوستانیوں نے انگریزوں کی غلامی سے آزادی کے حصول کے لیے ان کے خلاف لڑائی لڑی۔

Advertisement

انگریزوں کے خلاف لڑائی لڑنے والوں کے کون سے دو گروہ تھے؟

انگریزوں کے خلاف لڑائی لڑنے والوں میں ایک نرم دل گروہ تھا جس کے لیڈر مہاتما گاندھی تھے جبکہ دوسرا گرم دل تھا جس کے رہنما بھگت سنگھ تھے۔

بھگت سنگھ کی پیدائش کب اور کہاں ہوئی ؟

بھگت سنگھ پنجاب کے ضلع لائل پور میں موجودہ پاکستان کے جڑانوالہ تحصیل میں 27 ستمبر 1907ء کو پیدا ہوئے۔

Advertisement

لالہ لاجپت راۓ کی موت کیسے ہوئی؟

لالہ لاجپت رائے لاہور میں سائمن کمشن کے خلاف نکالے جانے والے جلوس میں پیش پیش تھے۔ اس جلوس پر انگریزی پولیس نے بہت بے دردی سے لاٹھیاں برسائیں۔ جس میں لالہ لاج پت رائے بری طرح زخمی ہو گئے اور اسی حالت میں کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے کب اور کہاں بم پھینکے تھے ؟

بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے 8 اپریل 1929ء کو سینٹرل اسمبلی میں اجلاس کے دوران بم پھینکے۔

Advertisement

بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو کب اور کہاں پھانسی دی گئ تھی؟

بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو لاہور سینٹرل جیل میں 23 مارچ 1931ء کو شام سات بج کر پندرہ منٹ پر پھانسی دی گئی۔

نیچے دیے ہوۓ لفظوں سے خالی جگہوں کو پر کیجیے:

  • جلیانوالہ باغ ، 27ستمبر1907ء ، جڑاوالا ، سائمن کمیشن ، لالہ لاجپت رائے ، انقلاب زندہ باد، 23مارچ 1931ء۔
  • بھگت سنگھ پنجاب کے ضلع لائل پور میں جڑا والا تحصیل میں 27ستمبر1907ء کو پیدا ہوئے۔
  • بھگت سنگھ امرتسر جا کرجلیانوالہ باغ کی وہ سرز مین دیکھی ۔
  • اسی دوران لاہور میں سائمن کمیشن کے خلاف ایک زبردست جلوس نکلا۔
  • جس میں لالہ لاجپت رائے پیش پیش تھے۔
  • اسمبلی کے ہال میں انقلاب زندہ باد کے نعرے لگائے۔ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو 23 مارچ 1931ء کو پھانسی دی گئی۔

ہر لفظ کے سامنے تین لفظ ہیں۔ان میں جو متضاد ہوں ان کو خالی جگہ میں لکھیے :

  • غلامی: فوجی،آزادی، لشکر= آزادی
  • نرم: سخت، لکڑی، گرم= سخت
  • جنگ: صلح، لڑائی، فوج= صلح
  • زمین: مٹی، گھر، آسمان= آسمان
  • موت: انسان، زندگی، حیوان= زندگی
  • نوجوان: بوڑھا ، بچہ، لڑکا= بوڑھا

ان جملوں کے سامنے ✅ یا ❎ کا نشان لگائیے۔

  • بھگت سنگھ ساٹھ برس زندہ ر ہے۔❎
  • بھگت سنگھ کی شہادت کے وقت ان کی ماں زندہ نہیں تھیں ۔❎
  • مہاتما گاندھی نرم دل کے لیڈر تھے ۔✅
  • چندرشیکھر آزاد بھگت سنگھ کے دوست تھے۔✅
  • بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں پر انگریزوں نے مقد مہ نہیں چلایا۔❎
  • آج ہم آزاد ملک کے شہری ہیں ۔✅
  • ابا جان اخبار پڑھ رہے ہیں۔
  • امی جان ٹیلی ویژن دیکھ رہی ہیں ۔
  • را شد واک مین سن رہا ہے ۔
  • نادر و چائے پی رہی ہے۔
  • ثانیہ سبق لکھ رہی ہے ۔

ان جملوں میں پڑھ رہے ، دیکھ رہی، سن رہا ، پی رہی اور لکھ رہی جیسے لفظ کسی کام کے کرنے کے بارے میں بتارہے ہیں ۔ پڑھنا، پینا سننا،لکھنا فعل ہیں۔نیچے دی گئی تصویروں سے کون سا کام معلوم ہوتا ہے خالی جگہ میں لکھیے :

  • پڑھ رہی ہے۔: کھا رہا ہے 2:1
  • پتنگ اڑا رہا ہے۔: چائے نکال رہی ہے۔ 4:3

جنگ آزادی میں حصہ لینے والوں کی تصویروں کو پہچانیے اور ان کے نام سے ملائیے۔

مہاتما گاندھی (۱)۱
بھگت سنگھ (2)۲
چندر شیکھر آزاد (3)۳
رام پرساد بسمل (4)۴
اشفاق اللہ خان (5)۵
سکھ دیو (6)۶
راج گرو (7)۷
لالہ لاجپت رائے (8)۸

ان جملوں پرغور کیجیے:

چندرشیکھر آزاد اور بھگت سنگھ نے گرم دل کی رہنمائی کا بیڑا اٹھا یا۔ میں بھی سر پر کفن باندھ کر نکلے۔
انھوں نے پورے ملک کا نام روشن کیا۔

Advertisement

او پر تینوں جملوں میں محاوروں کا استعمال ہوا ہے۔
محاورہ عام بول چال میں چند ایسے الفاظ کا مجموعہ ہوتا ہے جس میں الفاظ اپنے اصل معنی کے بجاۓ مختلف معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

کالم الف میں محاورے ہیں ، کالم ب میں ان کے مطلب دیے ہیں ۔ اشارے کے مطابق صحیح جوڑ ملائے:

الف:ب:
بیڑا اٹھاناذمے داری قبول کرنا (1)
جان نچھاور کرناجان قربان کرنا (2)
سر پرکفن باندھنامرنے کے لیے تیار ہو جانا (3)
اینٹ کا جواب پتھر سے دیناکسی سخت بات کا جواب زیادہ سختی سے دینا (4)
نام روشن کرناعزت بڑھانا (5)
Advertisement