تعارف

شکیلہ رفیق اردو کی ایک مشہور کہانی نگار ہیں جو اس وقت ٹورنٹو ، کینیڈا میں مقیم ہیں۔ آپ خاموش طبع ، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سلیقہ مند خاتون ہیں۔ وہ کہانی سنانے کا فن جانتی ہیں اور بھاری الفاظ اور انجان علامتوں کو استعمال کرنے سے پرہیز کرتی ہیں۔ سیتا پور (یو پی) میں پیدا ہونے والی شکیلہ رفیق نے کراچی یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹر کیا ہے۔ انھوں نے تقریباً سات سال تک پاکستان ایئر لائن میں کام کیا۔

ادبی آغاز

شکیلہ رفیق نے جب لکھنے کا آغاز کیا تو افسانہ ‘درد کا ملاپ’ لکھا جو رسالہ ‘نیا دور’ میں شائع ہوا اور نہ صرف ملک بھر میں مقبول ہوا بلکہ پاکستان و ہندوستان کے دوسرے رسالوں میں بھی دو بار نقل کا گیا۔

تصانیف

آپ کے افسانوی مجموعے کا نام
"کچھ دیر پہلے نیند سے” ہے۔
آپ نے عصمت چغتائی سے ملاقات کا حال بیان کیا اور اس کتاب کو "عصمت آپا” کے نام سے شائع کیا گیا۔

عصمت آپا

آپ کی کتاب ‘عصمت آپا’ پر ناقدین نے رائے دی جن میں سے چند کا بیان مندرجہ ذیل ہے :
پروفیسر سحر انصاری نے اس حقیقت کی تعریف کی کہ عصمت آپا کے پہلے ایڈیشن میں ان کی نظر میں آنے والی کچھ غلطیاں نئے ورژن میں سنبھال لی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ :
"عصمت چغتائی ایک صریح عورت تھیں۔ انھوں نے اپنے ذہن میں بات کی ، یہی وجہ ہے کہ جب کسی نے ان سے نوجوان نسل کو ترقی پسند مصنفین کے بارے میں بتانے کو کہا تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ کب تک نوجوان کی انگلیوں کو تھامے گا اور ان کی رہنمائی کرے گا۔”

اس کتاب کی تعریف کرتے ہوئے شاعرہ عذرا عباس نے کہا کہ :
"ایک وقت تھا جب میں شکیلہ کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتی تھی۔ لیکن جب میں نے ‘عصمت آپا’ کو پڑھا تو مصنفہ کے بارے میں میرے خیالات بدل گئے۔ انھوں نے کہا عصمت کی طرح شکیلہ کو بھی محسوس ہوا تھا کہ اس نے کیا لکھا ہے۔”

شاعری

شکیلہ رفیق نے افسانہ نگاری کرنے کے بعد شاعری کی جانب توجہ دی۔
شکیلہ رفیق کی شاعری میں مشرقی عورت کے دکھوں اور سکھوں ، امتحانوں اور آزمائشوں کے رنگ بھی نطر آتے ہیں۔ شکیلہ رفیق اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ محبت مختلف کیفیات کا نام ہے کبھی ہجر ’کبھی وصال’ کبھی قربتیں ’کبھی دوریاں’ کبھی عنایتیں’ کبھی شکایتیں۔ وہ ان کیفیات کو اپنی شاعری میں اس طرح پیش کرتی ہیں :

؀ وہ میرا ہے بھی اور نہیں بھی ہے
بے یقینی بھی ہے یقیں بھی ہے
مل بھی جاتا ہے کھو بھی جاتا ہے
دور ہے اور یہیں کہیں بھی ہے

ناقدین کی رائے

ڈاکٹر جمیل جالبی کہتے ہیں :
"شکیلہ رفیق کی کہانیاں ہمارے معاشرے کی عام گھریلو زندگی کی کہانیاں ہیں۔ وہ زندگی جہاں غم اور خوشی ایک ساتھ پلتے ہیں اور ہر پل نئی نئی کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ شکیلہ رفیق نے انہیں گہرے مشاہدے اور ہر دم بدلتی زندگی کے تجربوں سے حاصل کی ہوئی کہانیوں سے ایسا رنگ پیدا کیا ہے جو ان کا اپنا مخصوص رنگ ہے۔”

عصمت چغتائی لکھتی ہیں :
"شکیلہ رفیق نے خوبصورت انداز میں اپنے معاشرے کی عورت کے رِستے ، دبے ناسوروں کا جھپکتی آنکھوں سے سراغ لگایا ہے۔”

Advertisements