شہر آشوب کی تعریف

شہر آشوب اس نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی دور کے مصائب یا کسی شہر پر نازل ہونے والی آفات کا ذکر ہو۔ اس میں عموماً زمانے کی نیرنگی، حالات کی ابتری، اہل کمال کی ناقدری اور امرا کی بے زری کا ذکر ہوتا ہے۔اردو شاعری میں اس صنف کا خاصا رواج رہا ہے۔ جعفرزٹلی، شاکر ناجی، میر اور سودا نے بہت عمدہ شہر آشوب کہے ہیں جن سے ان کے عہد کے حالات آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔خاص طور پر سودا کو اس صنف میں حد کمال حاصل تھا۔ سودا سپاہیوں کی بزدلی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں؀

پڑے جو کام انہیں تب نکل کے کھائی سے
رکھیں وہ فوج جو موتی پھرے لڑائی سے
پیادے ہیں سو ڈریں سرمنڈاتے نائی سے
سوار گر پڑیں سوتے ہیں چارپائی سے

کرے جو خواب میں گھوڑا کسی کے نیچے الول



Close