شیخ سعدی شیرازی کے اقوال

  • علم کے بغیر انسان اللہ تعالی کو بھی نہیں پہچان سکتا۔
  • سلام کرنے میں پہل کرو اور ہر ایک سے شریفانہ سلوک کرو۔
  • مذہب صرف لوگوں کی خدمت میں ہے، تسبیح کے دانوں اور مصلے میں نہیں۔
  • حسن بناؤ سنگھار کے بغیر ہی دل کو موہ لیتا ہے۔
  • اگر تو کسی ایک شخص کی بھی تکلیف دور کردے تو یہ زیادہ بہتر کام ہے بہ نسبت اس کے کہ تو حج کو جائے اور راستے کے ہر پڑاؤ پر ایک ایک ہزار رکعت نماز پڑھتا جائے۔
  • جو ہوش میں ہے وہ کبھی تکبر نہیں کرتا۔
  • عقلمند آدمی اس وقت تک نہیں بولتا جب تک خاموشی نہیں ہو جاتی۔
  • فطری کمینگی برسوں میں بھی معلوم نہیں ہوتی۔
  • جو نصیحت نہیں سنتا اسے لعنت ملامت سننے کا شوق ھے۔
  • چالاکی درباریوں کے لیے وصف ہے اور درویشوں کے لیے خامی۔
  • شیر بھوکا مر جانا پسند کرتا ہے، کتے کا جھوٹا کھانا کبھی پسند نہیں کرتا۔
  • خدمت سے خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے۔
  • میں اللہ تعالی سے ڈرتا ہوں، اللہ تعالی کے بعد اس شخص سے ڈرتا ہوں جو اللہ تعالی سے نہیں ڈرتا۔
  • بخیل آدمی کی دولت اس وقت زمین سے باہر آتی ہے جب وہ خود زمین کے نیچے چلا جاتا ہے۔
  • اگر کسی فقیر کے پاس ایک روٹی ہوتی ہے تو وہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی کسی غریب کو دے دیتا ہے لیکن اگر بادشاہ کے پاس ایک ملک ہوتا ہے تو وہ ایک اور ملک چاہتا ہے۔
  • جتنے دن زندہ رہو اسے غنیمت سمجھو اور اس سے پہلے کے لوگ تمہیں مردہ کہیں نیکی کر جاؤ۔
  • دوسروں کا مزاج چاہے تمہیں پسند نہ ہو لیکن تمہیں اپنی نیک مزاجی نہیں چھوڑنی چاہیے۔
  • تین چیزوں کو بقا نہیں ہے۔ مال کو تجارت کے بغیر، علم کو بحث کے بغیر اور ملک کو تدبیر کے بغیر۔
  • دشمن کا مشورہ ماننا خطا لیکن سننا روا ہے۔
  • اگر کسی چوپائے پر کتابیں لدی ہوں تو وہ نہ تو محقق ہوجاتا ہے اور نہ دانشمند۔
  • برائی کا بدلہ برائی سے دینا آسان ہے اگر تو جواں مرد ہے تو برائی کا بدلہ احسان سے دے۔
  • وہ پارسا جو مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں وہ قبلہ کی طرف پشت کر کے نماز پڑھ رہے ہیں۔
  • اگر کوئی مانگنے والا عاجزی سے تجھ سے مانگے تو اس کو دے دو ورنہ کوئی ظالم تجھ سے زور سے لے لے گا۔
  • جس عالم کا صرف کہنا ہی کہنا ہو یعنی عمل نہ ہو وہ جو کچھ کہے گا اس کا اثر کسی پر نہ ہوگا۔
  • اگر تجھے دوسروں کی تکلیف کا احساس نہیں ہے تو تو اس قابل نہیں کہ تجھے انسان کہا جائے۔
  • دو باتیں خلاف عقل ہیں۔ بولنے کے وقت چپ رہنا اور چپ رہنے کے وقت بولنا۔
  • ز بان کٹا ھوا اور گوشہ تنہائی میں گونگا بہرہ بن کر بیٹھا ہوا انسان اس سے بہتر ہے جس کی زبان قابو میں نہ رہے۔
  • شر پھیلانے والا خود بھی شر میں مبتلا ہوتا ہے۔
  • دس آدمی ایک دسترخوان پر کھا لیتے ہیں لیکن دو کتے ایک مردار پر گزارا نہیں کر سکتے۔ اسی طرح لالچی ایک دنیا حاصل کرکے بھی بھوکا ہے اور قناعت کرنے والا ایک روٹی سے بھی سیر ھو جاتا ہے۔
  • موتی اگر کیچڑ میں گر جائے تو بھی قیمتی ہے اور گرد آسمان پر چڑھ جائے تو بھی بے قیمت ہے۔
  • جو بدوں کی صحبت میں بیٹھے اگرچہ ان کی عادات اختیار نہ کرے برا ہی کہلائے گا جیسا کہ کوئی شخص شراب کی بھٹی پر جا کر نماز پڑھے تو وہ شراب خور ہی کہلائے گا۔



Close