شوریدہ کاشمیری

شوریدہ کاشمیری کی پیدائش جموں کشمیر میں ہوئی – یہ کشمیر کی وہ عظیم ہستی ہیں جن کا نام بڑے پیمانے پر آج بھی لیا جاتا ہے- آج شوریدہ اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ ان کے نہ ہونے کی وجہ سے ان کا نام بھی ڈوب جائے- لوگوں کے دل میں آج بھی ان کی شناخت اور ان کا رنگ بسا ہوا ہے- لوگ آج بھی ان کو بہت ہی عزت کے ساتھ یاد کرتے ہیں-

شوریدہ اپنی سوانح حیات لکھ کر سب کے سامنے پیش کرنا چاہتے تھے لیکن وقت سے پہلے ہی ان کا بلاوا آگیا اور یہ اللہ کو پیارے ہوگئے- 

شوریدہ کاشمیری کا اصل نام غلام محمد ملک اور تخلص شوریدہ تھا۔ شوریدہ کاشمیری کے نام سے مشہور ہوئے۔ 18 مارچ 1924ء میں تحصیل شوپیاں کے گاؤں پنجورہ میں پیدا ہوئے۔

شوریدہ کی ابتدائی تعلیم جموں و کشمیر کے ہی ایک گاؤں کے مکتب میں ہوئی- شوریدہ نے سات سال کی عمر میں قرآن پاک مکمل کرلی تھی- پھر مدرسہ میں داخلہ لیا اور وہاں انہوں نے اردو پڑھی- پانچویں کلاس پاس کرنے کے بعد قصبہ کے مڈل اسکول میں اردو کے ساتھ ساتھ ہی عربی٬ انگریزی اور ریاضی کی تعلیم بھی حاصل کی-امتحان میں پاس ہونے کے بعد اسلامیہ ہائی اسکول سرینگر میں ان کا داخلہ ہوا- اور یہیں سے ان کو شعر و ادب کا شوق شروع ہوا-

1921ء میں انہوں نے میٹرک پاس کی پھر 1923ء میں ایف، اے پاس کیا- اور بی، اے کی ڈگری لینے کے بعد 1955ء میں اردو سے ایم، اے بھی پاس کیا- اور پھر ایک گورنمنٹ کالج میں یہ لیکچرار بن گئے۔ اردو ریسرچ کے دوران شوریدہ نے اپنے استاد پروفیسر آل احمد سرور کی بدولت بہت سارے مشاعروں میں اپنا جلوہ دکھایا- ہر شخص ان کی قدر کرنے لگا اور ان کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

شوریدہ اپنے دور کے بہت ہی زیادہ نامی شخص رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ادب بلکہ سماج اور سیاست پر بھی کافی زور دیا-شوریدہ نے فیض کے ساتھ ساتھ مولانا مودوری کی کتابوں سے بھی خود کے نظریہ میں ان کے خیالات کو شامل کیا ہے۔ آپ نے طالب علمی کے زمانے سے ہی اردو کے کلاسیکی شعراء کے ساتھ آزادؔ، حالیؔ، اقبالؔ اور دوسرے شعراء کی جدید شعری روایات کا بڑی گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرنا شروع کیا اور ان کے اثرات کو ذہنی طور پر قبول کرتے رہے جس کے سبب آپ کے کلام میں قدامت پسندی کے ساتھ ساتھ جدت پسندی کا رجحان بھی صاف نظر آتا ہے۔شوریدہ کاشمیری کے شعر کا ایک نمونہ ملاخطہ ہو-

خوشا میخانہ توحید وہ چھ سو برس پہلے
وہی ساغر چلے سرشار پھر کشمیر ہو جائے-

شوریدہ نے کبھی شدت سے لکھنے کی طرف توجہ نہ دی- اگر دیتے تو یہ اور بھی زیادہ مشہور ہوجاتے- شوریدہ نے اپنے دوستوں کو جو بھی خطوط لکھے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک بہترین قلم کار بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں شوریدہ کے خطوط کے کچھ بند ملاخطہ ہوں۔

"بھائی آج کی سوسائٹی میں لوگوں سے ملنے اور ہم کلام ہونے میں ایک الجھن سی پیدا ہوتی ہے- جو جیسا نظر آتا ہے٬ ویسا نہیں ہے- ہاں جب بھی سیاست نمودار ہوتی ہے تو سب اپنے اپنے مذہب کا لبادہ پہنتے ہیں-"

شوریدہ کاشمیری نے اپنی شعری دنیا میں غزلوں کے ساتھ ہی رباعیاں اور قطعات بھی لکھے ہیں-ان کے دو شعری مجموعے "جوش جنون” اور "جزب دوراں” شائع ہو چکے ہیں جو غزل کے علاوہ نظموں ، قطعات اور رباعیات پر مبنی ہیں۔

شوریدہ کی غزلوں سے زیادہ ان کی نظمیں بہترین ہیں- انہوں نے بہت ہی زیادہ اچھی نظمیں لکھی ہیں- "نیرنگِ زمستان”٬ "سیب عنبریں”٬ "ڈل اور چاند”٬  "ڈل کا منظر”٬ "ساقی سے”٬ "ہنگام شام”٬ جیسی بہت ہی زیادہ مشہور نظمیں لکھی-شوریدہ ان نظموں کے ذریعہ اپنا اردو ادب میں ایک الگ ہی مقام بنائے ہوئے ہیں-

Quiz On Shorida Kashmiri

شوریدہ کاشمیری 1

Written By

Zarnain Nisar

Close