کشمیر پر ایک مضمون

کشمیر اتر پردیش ہندوستان کے جھیلم ندی کی گھاٹی پر واقع ہے۔ کشمیر کی خوبصورتی پوری دنیا کے لئے مثال ہے۔ اسے دنیا کی ایک چھوٹی سی جنت کا بھی خطاب حاصل ہے۔

کشمیر دیکھنے میں بہت ہی زیادہ خوبصورت ہے۔ اس کی خوبصورتی کسی بھی موسم میں کم نہیں ہوتی۔ اس خوبصورت جگہ کو دیکھنے کے لئے لوگ دور دور سے یہاں آتے ہیں اور خاص طور پر لوگ یہاں گرمیوں میں آتے ہیں کیونکہ گرمیوں میں بھی یہاں کا موسم ٹھنڈا اور ہریالی سے بھرا ہوتا ہے۔ سردیوں میں یہاں ہر طرف برف دیکھنے کو ملتی ہے اور لوگ برف کے گولے سے کھیل کر لطف اٹھاتے ہیں۔ پیڑوں پر لال لال سیب لگے ہوتے ہیں۔ یہاں جانے والا ہرشخص یہی کہتا ہے کہ اصلی جنت کشمیر ہی ہے۔

کشمیر میں گھومنے کے لیے بہت سے سیاحتی علاقے ہیں۔ جیسے گل مرگ، سونا مرگ، پتنی ٹاپ وغیرہ۔ گل مرگ علاقہ کشمیر کی جان اور شان ہے۔ کوئی بھی شخص کشمیر جاکر بنا گل مرگ گھومے واپس نہیں لوٹتا۔

کشمیر میں رہنے والے لوگ گوشت کھاتے ہیں۔ زیادہ تر ان کے کھانے میں کباب وغیرہ ہوتے ہیں اور سبزیاں بھی یہ گوشت میں ڈال کر ہی کھاتے ہیں اور کھانے کے بعد میٹھے میں یہ لوگ فیرینی پسند کرتے ہیں۔

کشمیر کے لوگ دیکھنے میں رنگ کے گورے اور بہت ہی خوبصورت ہوتے ہیں۔کشمیر کے سیب پورے ہندوستان میں مشہور ہیں اور یہاں کے اخروٹ اور سارے سوکھے میوے سستے اور اچھے ملتے ہیں۔ کشمیر ایک خوبصورت جگہ تو ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بہت ہی خطرے سے بھری ہوئی جگہ ہے۔ یہاں پر آتنگواد کا بہت ہی زیادہ خطرہ رہتا ہے۔ یہاں کے لوگ ذرا بھی محفوظ نہیں ہیں۔

کشمیر کے لوگوں پر کب گولیاں برس جائیں اور کب بم پھٹ جائے اور کب ان کی جان چلی جائے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کشمیر کی سرحد پر جنگ کا ہونا عام سی بات ہے اور اس میں زیادہ تر معصوم اور بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں۔ جنگ کا ہونا تو صرف کچھ دنوں کا ہوتا ہے، لیکن زندگی نہ جانے کتنے برس روتی ہے۔ نہ جانے کب تک ایسی جنگوں میں بچے بھوک سے مرتے رہیں گے اور کشمیر کی حالت تو کچھ ایسی ہو رہی ہے کہ کشمیر کے مسلمان اگر پاکستان کی گرفت میں آجائیں تو ہندوستانی جاسوس کہلاتے ہیں اور جب ہندوستان کی گرفت میں آجائیں تو آتنگوادی کہلاتے ہیں۔

کشمیر کے مسلمان ہندستان کے ہوتے ہوئے بھی نہ تو ہندوستان کے ہیں اور نہ ہی پاکستان کے ہیں۔ جبکہ ان سب میں ان کا تو کوئی قصور بھی نہیں ہے۔ پھر بھی وہ سزا جھیل رہے ہیں گولیاں جھیل رہے ہیں۔ یہ سارا قصور حکومت کا ہے اگر حکومت چاہے تو کشمیر کی خوبصورتی پھر سے جگمگانے لگے گی اور دہشت گردی کی جگہ محبت اور آزادی کا پرچم لہرانے لگے گا۔

Advertisements