Advertisement

سوال 4 : سفارش کا خلاصہ تحریر کریں جو افسانے کے اصل متن کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو۔

تعارفِ سبق

سبق ”سفارش“ کے مصنف کا نام ”احمد ندیم قاسمی“ ہے۔ یہ سبق کتاب ”کپاس کا پھول“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

Advertisement

تعارفِ مصنف

اردو ادب کے بہترین ناول و افسانہ نگار ، ڈراما نویس ، کالم نویس ، صحافی، ادیب، نقاد اور دانشور احمد ندیم قاسمی صاحب ۲۰ نومبر ۱۹۱۴ کو سرگودھا کی تحصیل خوشاب کی کورنگی میں پیدا ہوئے۔ گھروالوں نے ان کا نام احمد شاہ رکھا۔قاسمی صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں خوشاب سے ہی حاصل کی بعد ازیں انھوں نے پنجاب یونی ورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے لاہور میں بطور مصنف کام بھی کیا۔

Advertisement

اس سب کے علاوہ وہ مترجم بھی تھے انہوں نے جاپانی نظموں کے اردو میں تراجم بھی کیے اور ریڈیو اور ٹی وی کے لیے لازوال ڈرامے بھی لکھے۔ ان کے افسانوں کا بڑا حصہ نہ صرف ہندی زبان میں بلکہ بہت سے افسانے روسی، چینی، فارسی اور انگریزی کے علاوہ پنجابی، بنگلہ، سندھی، گجراتی اور مراٹھی جیسی علاقائی زبانوں میں بھی منتقل ہو چکا ہے۔

Advertisement

خلاصہ

اس سبق میں مصنف دراصل ایک کہانی بیان کررہے ہیں جس کا مقصد ہمیں اس تلخ حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ ہم انسان اپنی غیر ضروری ذاتی مصروفیات میں اس قدر گُم ہوجاتے ہیں کہ اپنے آس پاس بسنے والے لوگوں کی اہم معاملوں میں بھی مدد کرنے کا وقت نہیں نکال پاتے اور پھر اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ان کے سانے جھوٹ کا سہارا لیتے رہتے ہیں۔ اگر ان کا کام ہماری مدد کے بغیر ہی مکمل ہوجاتا ہے تب بھی ہم شرمندہ ہو کر انھیں سچائی بتانے کے بجائے اس کام پر داد وصول کرنے لگتے ہیں جو دراصل ہم نے کیا ہی نہیں ہوتا ہے۔

مصنف افسانے کے آغاز اپنی مصروفیات اور کوچوانوں کی قلت کا ذکر کرتے ہیں اور وہیں گھوڑا گاڑی کے انتظار کے دوران اپنی کوچوان فیکے سے ہوئی ملاقات کا حال بیان کرتے ہیں۔ دراصل ایک حکیم کا دیا گیا سرمہ لگانے کے بعد فیکے کے باپ کی ایک آنکھ کی بینائی چلی جاتی ہے اور کافی ٹوٹکے کرنے کے باوجود ان کو آرام نہیں ملتا اس لیے وہ ہسپتال چلے جاتے ہیں۔ دو ہسپتا بدلنے کے باوجود بھی ڈاکٹر فیکے کے باپ کا چیک اپ نہیں کرتے اس لیے فیکا مصنف سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اس کے باپ کے علاج کے لیے ہسپتال میں سفارش کردیں۔

مصنف فیکے کو اپنے ایک ڈاکٹر دوست کا نام بتاتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اگر آج کام نہ ہوا تو کل وہ فیکے کے ساتھ خود ہسپتال جائیں گے۔ اس کے بعد وہ اپنی مصروفیات میں غرق ہوجاتے ہیں اور فیکے کے بارہا کہنے کے باوجود بھی نہ ہسپتال جاتے ہیں اور نہ ہی ڈاکٹر جبار کو کال کرتے ہیں۔ ایک دن فیکا انھیں ملتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے باپ کو ہسپتال میں داخل کرلیا گیا ہے تب مصنف اس سے جھوٹ کہتے ہیں کہ میں نے ڈاکٹر جبار کو کال کردی تھی فیکا ان کا شکر گزار ہو کر وہاں سے چلا جاتا ہے اور کچھ دن بعد آکر بتاتا ہے کہ ابا کی ایک آنکھ کا آپریشن ہوا تو دوسری پر بھی اثر پڑگیا اور اب مزید دو آپریشن ہونا باقی ہیں۔

مصنف ایک مرتبہ پھر اس سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر سے بات کریں گے لیکن انھیں کال کرنے پر ان کی ڈاکٹر سے بات نہیں ہوپاتی۔ اسی سب میں کافی وقت گزر جاتا ہے اور فیکا ایک روز ان کے گھر آتا ہے۔ مصنف فیکا کو آج سچ بتانے کے لیے لفظوں کا چناؤ کررہے ہوتے ہیں کہ فیکا انھیں بتاتا ہے کہ میرے باپ کی بینائی واپس آگئی ہے اور مصنف بجائے اسے سچ کے بتانے کے اپنی انا کا بھرم رکھ کر اس کی داد وصول کرتے ہیں اور فیکا عمر بھر کے لیے ان کا غلام ہونے کا اعلان کردیتا ہے۔ مصنف اس مرتبہ بھی خاموش رہتے ہیں اور بغیر سفارش کئیے ہی فیکا کی نظروں میں معتبر بن جاتے ہیں۔

سوال 1 : افسانہ "سفارش” پیشِ نظر رکھتے ہوئے درج ذیل جملے مکمل کریں۔

  • ۱ : جی نہیں فیکے کے چہرے پر (بھول پن ) کا چھینٹا پڑ گیا۔
  • ۲ : فیکے کی آنکھوں میں (ممنونیت) کی نمی جاگی۔
  • ۳ : کیا پتا آنکھ کے کسی کونے کھدرے میں (بینائی) کا بھورا پڑا رہ گیا ہو۔
  • ۴ : گھٹنا پاجامے میں سے (جھانک) رہا ہو تو باری کیسے آئے بابو جی۔
  • ۵: جھوٹ نے میری (ندامت) کو کان سے پکڑ کر ایک طرف ہٹا دیا۔

سوال 2 : "سفارش” کا متن مدِ نظر رکھتے ہوئے درج ذیل سوالات کے مختصر جواب تحریر کریں جو تین سطور سے زائد نہ ہوں۔

۱ : فیکے کے باپ کی بینائی کیوں جاتی رہی؟

جواب : فیکے کے باپ کی بینائی مصری شاہ میں ایک حکیم سے خریدے سرمے کو لگانے کی وجہ سے جاتی رہی۔

Advertisement

۲ : سفارش کرنے والے نے”کارڈ” پر کیا لکھا؟

جواب : سفارش کرنے والے نےکارڈ پر لکھا تھا کہ ”جبار صاحب اس کا کام کر دیجئے۔ یہ بیچارا بڑا غریب آدمی ہے، دعائیں دے گا۔“

۳ : سفارش کرنے والے نے فیکے کی موجودگی میں ڈاکٹر جبار کو کب فون کیا؟

جواب : سفارش کرنے والے نے فیکے کی موجودگی میں ڈاکٹر جبار کو جمعے کی شام کو فون کیا۔

Advertisement

۴ : سفارش کرنے والے نے اپنے نوکر کو کیوں ڈانٹا؟

جواب : سفارش کرنے والے نے اپنے نوکر کو فیکے کو اس کی موجودگی کا بتانے پر ڈانٹا۔

۵ : فیکے نے عمر بھر مصنف کا نوکر رہنے کا اعلان کیوں کیا؟

جواب : فیکے کے باپ کی آنکھوں کا علاج ہوگیا اور انکھیں ٹھیک ہوگئی تو فیکے نے سفارش کرنے والے کے احسان کے زیرِ اثر ساری عمر نوکر رہنے کا اعلان کیا۔

Advertisement

سوال 3 : ”سفارش“ کا مرکزی خیال تحریر کریں۔

جواب : افسانہ سفارش کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ہم انسان اپنی غیر ضروری ذاتی مصروفیات میں اس قدر گُم ہوجاتے ہیں کہ اپنے آس پاس بسنے والے لوگوں کی اہم معاملوں میں بھی مدد کرنے کا وقت نہیں نکال پاتے اور پھر اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ان کے سانے جھوٹ کا سہارا لیتے رہتے ہیں۔ اگر ان کا کام ہماری مدد کے بغیر ہی مکمل ہوجاتا ہے تب بھی ہم شرمندہ ہو کر انھیں سچائی بتانے کے بجائے اس کام پر داد وصول کرنے لگتے ہیں جو دراصل ہم نے کیا ہی نہیں ہوتا ہے۔

سوال 5 : سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل پیرا گراف کی تشریح کریں۔

فیکے کی آنکھوں میں ممنونیت کی نمی جاگی ۔۔۔۔۔ مریض کو ذرا سا دیکھ لے۔

Advertisement

حوالہ متن

یہ اقتباس سبق ”سفارش“ سے لیا گیا ہے۔ اس سبق کے مصنف کا نام ”احمد ندیم قاسمی“ ہے۔ یہ سبق کتاب ”کپاس کا پھول“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

سیاق و سباق

اس سبق میں مصنف لکھتے ہیں کہ ہم انسان اپنی غیر ضروری ذاتی مصروفیات میں اس قدر گُم ہوجاتے ہیں کہ اپنے آس پاس بسنے والے لوگوں کی اہم معاملوں میں بھی مدد کرنے کا وقت نہیں نکال پاتے اور پھر اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ان کے سانے جھوٹ کا سہارا لیتے رہتے ہیں۔ اگر ان کا کام ہماری مدد کے بغیر ہی مکمل ہوجاتا ہے تب بھی ہم شرمندہ ہو کر انھیں سچائی بتانے کے بجائے اس کام پر داد وصول کرنے لگتے ہیں جو دراصل ہم نے کیا ہی نہیں ہوتا ہے۔

Advertisement

تشریح

اس اقتباس سے پہلے مصنف اپنی مصروفیات اور کوچوانوں کی قلت کا ذکر کرتے ہیں اور وہیں گھوڑا گاڑی کے انتظار کے دوران اپنی کوچوان فیکے سے ہوئی ملاقات کا حال بیان کرتے ہیں۔ اس اقتباس میں دراصل فیکا انھیں بتاتا ہے کہ ایک حکیم کا دیا گیا سرمہ لگانے کے بعد فیکے کے باپ کی ایک آنکھ کی بینائی چلی گئی ہے اور کافی ٹوٹکے کرنے کے باوجود ان کو آرام نہیں ملا اس لیے وہ ہسپتال بھی گئے۔ دو ہسپتال بدلنے کے باوجود بھی ڈاکٹر فیکے کے باپ کا چیک اپ نہیں کررہے ہیں اس لیے فیکا اس اقتباس میں مصنف سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اس کے باپ کے علاج کے لیے ہسپتال چل کر سفارش کردیں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement