علامہ اقبال

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”دنیائے اسلام“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام علامہ اقبال ہے۔ یہ نظم کلیاتِ اسماعیل اقبال سے ماخوذ کی گئی ہے۔

تعارفِ شاعر

شیخ محمد اقبال سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا ، ضربِ کلیم ، بالِ جبریل اور ارمغان حجاز ان کے اردو کلام پر مشتمل کتابیں ہیں۔ پہلے وطن دوستی پھر ملت دوستی اور پھر انسان دوستی ان کی شاعری کے اہم موضوعات ہیں۔ آپ نے مسلمانوں کے سیاسی شعور کو صحیح سمت عطا کی۔

کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں
مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز

اس شعر میں علامہ اقبال کہہ رہے ہیں کہ تم مجھے ترک و عرب کی داستانیں کیوں سنا رہے ہو۔ مجھے ترک و عرب کی فتوحات کا علم ہے لیکن جب وہ اسلام سے دور ہوئے تو ان سے سب کچھ چھن گیا۔ اس لیے ہمیں اب ماضی یاد کرنے کے بجائے حال پر توجہ دینی چاہیے۔

حکمتِ مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کردیتا ہے گاز

اس شعر میں علامہ اقبال کہتے ہیں کہ مغرب نے ایسی چال چلی کہ مسلمانوں کو بانٹ دیا اور آپس میں ان کی جنگ کروا دی اور مغرب کی اس سازش سے پوری امتِ مسلم ٹکڑوں میں یوں بٹ گئی جیسے گاز سونے کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتا ہے۔

ہوگیا مانندِ آب ارزاں مسلماں کا لہو
مضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے راز

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا لہو اب پانی کی طرح بہتا ہے اور ارزاں ہوچکا ہے اور ہم پریشان اس لیے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے پیغام کو نہیں سمجھ رہے جس میں ہمیں اتحاد سے رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

ربط و ضبطِ ملتِ بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بےخبر

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ مسلم امت کا اتحاد ہی مشرق کی نجات کا سبب بن سکتا ہے لیکن ایشیا والے یعنی کے تمام مسلمان اس بات سے اب تک بےخبر ہیں اور دشمن کی سازش کے تحت حصوں میں بٹ چکے ہیں۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لیکر تا بہ خاکِ کاشغر

اس شعر میں شاعر مسلمانوں کو مشورہ دے رہے ہیں اور نصیحت کررہے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو حرم کی حفاظت کرنی ہے تو انھیں ایک ہونا پڑے گا۔ نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر کی خاک تک اگر تمام مسلمانوں میں اتحاد نہیں ہوگا تو وہ دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔

جو کرے گا امتیازِ رنگ و خوں مٹ جائے گا
ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والا گہر

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اگر مسلمان آپس میں رنگ و خون اور نسل کی بنیاد پر تفریق کریں گے اور ایک دوسرے پر خود کو فوقیت دیں گے تو وہ بہت جلد اس دنیا سے مٹ جائیں گے۔ شاعر کہتے ہیں جو بھی ایسا کرے گا اس کا انجام بہت برا ہوگا چاہے وہ ترک کا خرگاہی ہو یا عرب کا گہر۔

نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدّم ہوگئی
اڑ گیا دنیا سے تو مانندِ خاک رہ گزر

اس شعر میں شاعر مسلمانوں کو تاکید کررہے ہیں کہ اگر مسلمان اسی طرح رنگ و نسل اور خون کی بنیاد پر بٹے رہے تو ہمارا کوئی رعب دشمن پر باقی نہیں رہے گا۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب ہمیں آپس میں نسل کی بنیاد پر تفریق کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم خاک کی مانند ہوجائیں گے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور وہ ہوا کے زور پر ادھر سے ادھر اڑتی رہتی ہے، ہماری بھی پھر وہی حالت ہوجائے گی۔

اس نظم کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر 2 : درج ذیل الفاظ و تراکیب کے معنی بتائیے .

الفاظمعنی
پنہاںچھپا ہوا
حکمتِ مغربمغرب کی چال
گازسونے پگھلانے والا آلہ
دانائے رازراز کا جاننے والا
ملتِ بیضامسلمان

سوال نمبر 3 : درج ذیل اشعار کی وضاحت کیجیے۔

حکمتِ مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کردیتا ہے گاز

اس شعر میں علامہ اقبال کہتے ہیں کہ مغرب نے ایسی چال چلی کہ مسلمانوں کو بانٹ دیا اور آپس میں ان کی جنگ کروادی اور مغرب کی اس سازش سے پوری امتِ مسلم ٹکڑوں میں یوں بٹ گئی جیسے گاز سونے کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتا ہے۔

نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدّم ہوگئی
اڑ گیا دنیا سے تو مانندِ خاک رہ گزر

اس شعر میں شاعر مسلمانوں کو تاکید کررہے ہیں کہ اگر مسلمان اسی طرح رنگ و نسل اور خون کی بنیاد پر بٹے رہے تو ہمارا کوئی رعب دشمن پر باقی نہیں رہے گا۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب ہمیں آپس میں نسل کی بنیاد پر تفریق کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم خاک کی مانند ہوجائیں گے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور وہ ہوا کے زور پر ادھر سے ادھر اڑتی رہتی ہے، ہماری بھی پھر وہی حالت ہوجائے گی۔

سوال نمبر 4 : درج ذیل بیانات میں سے درست بیان پر (درست) کا نشان لگائیے۔

  • (الف) ملی اتحاد کے لیے تعصب نقصان دہ ہے۔(✔)
  • (ب) قومی ترقی کے لیے اتحاد کی کوئی ضرورت نہیں۔(✖)
  • (ج) نظم کے ان اشعار میں قوافی ہیں مگر ردیف نہیں ہے۔(✔)
  • (د) گاز ، سونے کے ٹکڑے جوڑ دیتا ہے۔(✖)
  • (ہ) ملتِ بیضا کے ربط وضبط میں مشرق کی نجات ہے۔(✔)

سوال نمبر 5 : درست جواب پر (درست) کا نشان لگائیے:

(الف) اس نظم میں نیل سے مراد ہے:

  • (۱)ندی
  • (۲)نیلا رنگ
  • (۳)دریا ✔
  • (۴)جھیل

(ب) نظم "دنیاے اسلام” سے سبق ملتا ہے:

  • (۱)نفاق کا
  • (۲)اتحاد کا ✔
  • (۳)خوش اخلاقی کا
  • (۴)جنگ کا

(ج) اس نظم میں داستان سنانے کا ذکر ہے:

  • (۱)ایران و توران کی
  • (۲) ترک و عرب کی ✔
  • (۳)مشرق و مغرب کی
  • (۴)شمال جنوب کی

(د )کاشغر شہر ہے :

  • (۱)عربستان کا
  • (۲)افغانستان کا
  • (۳)ترکستان کا
  • (۴)چین کا ✔

(ہ) جو امیتازِ رنگ و خوں کرے گا وہ :

  • (۱)باقی رہے گا
  • (۲)خوش رہے گا
  • (۳)مٹ جائے گا ✔
  • (۴)ترقی کرے گا

سوال نمبر 6 : اس نظم میں مجاز مرسل کے طور پر کون کون سے لفظ استعمال ہوئے ہیں؟

جواب : اس نظم میں مجاز مرسل کے طور پر ترک و عرب اور نیل کے ساحل سے خاکِ کاشغر کو استعمال کیا گیا ہے۔

سوال نمبر ۷ :
اپنی کتاب کی دوسری نظموں یا غزلوں کے پانچ اشعار لکھ کر ردیف اور قافیے کی نشان دہی کیجیے :

خلق کے سرور ، شافع ِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم
مرسلِ داور ، خاص پیمبر صلی اللہ علیہ وسلم
  • قافیہ : محشر ، پیمبر
  • ردیف : صلی اللہ علیہ وسلم
نورِ مجسم ، نیرِ اعظم ، سرورِ عالم ، مونسِ آدم
نوح کے ہمدم ، خضر کے رہبر صلی اللہ علیہ وسلم
  • قافیہ : رہبر
  • ردیف : صلی اللہ علیہ وسلم
بحر ِ سخاوت ، کانِ مروت، آیۂ رحمت ، شافعِ امت
مالکِ جنت ، قاسم ِ کوثر صلی اللہ علیہ وسلم
  • قافیہ : کوثر
  • ردیف : صلی اللہ علیہ وسلم
رہبر ِ موسی ، ہادیٔ عیسی ، تارکِ دنیا ، مالکِ عقبی
ہاتھ کا تکیہ ، خاک کا بستر صلی اللہ علیہ وسلم
  • قافیہ : بستر
  • ردیف : صلی اللہ علیہ وسلم
مہر سے مملو ریشہ ریشہ ، نعت امیرؔ ہے اپنا پیشہ
وِرد ہمیشہ رہتا ہے اکثر صلی اللہ علیہ وسلم
  • قافیہ : اکثر
  • ردیف : صلی اللہ علیہ وسلم