Advertisement

تعارف

سراج الدین علی خان کی پیدا ئش گوالیار میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی زندگی گوالیار میں گذری، اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ گوالیار کی زبان کو اچھی طرح  سے جانتے  اور ان کے نزدیک اس زبان کی بڑی اہمیت ہے۔ ان کی زندگی کا ۱۵ سے ۱٦ سالہ زمانہ زندگی گوالیار میں گزرا۔ خان آرزو کے والد کا  نام حسام  الدین تھا۔

Advertisement

سراج الدین علی خان آرزو فارسی اور اردو کے معتبر شعراء میں شمار کیے جاتے ہیں۔ خان آرزو  ہندوستان میں فارسی زبان و ادب کے ایک نابغہ روزگار عالم تھے۔ وہ کٹیرالتصانیف دانشور تھے۔ان کی ساری تصانیف کا احاطہ مشکل کام ہے ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی ہمہ گیری ہے، وہ بیک وقت فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں یکساں دسترس رکھتے تھے۔

Advertisement

ادبی تعارف

وہ شاعر ، ادیب ماہر دستور زبان، ماہر لسانیات، نقاد، رہنگ نگار، تذکرہ نویس وغیرہ امور میں یکتائے روزگار تھے، اور یہ بات بلا تکلف کہی جا سکتی  ہے کہ خان آرزو جیسے بالغ نظر فاضل بہت کم گذرے ہیں۔ ان کی ہمہ گیر جہت شخصیت بے مثال سمجھی جاتی ہے۔ فن لسانیات ،دستور زبان ،فرہنگ نویسی تذکرہ نگاری میں ان کی مثال نہیں ملتی وہ کئی زبانوں میں مہارت رکھتے تھے، فارسی عربی اردو ،ہندی سنسکرت کے بے بدل فاضل تھے۔

Advertisement

خان آرزو کی علمیت اور ادبی مہارت کا اندازہ اس موقع پر ہوتا ہے کہ روایتی شاعر ہوتے ہوئے انہوں نے روایت شکنی کی ہمت افزائی کی اور اس پر اعتراض کو صحیح نہیں سمجھا اوراس طرح حیرت انگیز تنقیدی بصیرت کا ثبوت دیا۔ یہ ایسا نازک وقت تھا جب ہوا بیدل کے خلاف ہو گئی تھی اور مشرب گوسفندان رکھنے والے ادیب ان کے خلاف محاذ بناے ہوئے تھے لیکن خان آرزو نے لوگوں کی مخالفت کی پرواہ نہ کی اور صرف بیدل کی پر زور مدافعت کی بلکہ حزیں کی شاعری پر گہری ضرب لگائی۔

تصانیف

  • ان کی  تصانیف میں
  • سراج الغات ،
  • چراغ ہدائت ،
  • عطیۂ کبری،
  • معیار الافکار،
  • پیام شوق،
  • جوش وخروش،
  • مہر و ماہ،
  • عبرت فسانہ اور
  • گلکارئ خیال شامل ہیں۔

آخری ایام

عمر کے آخری حصہ میں وہ فیض اباد چلے گئے ۲۷ جنوری ۱۷۵٦ کو ان کا انتقال ہوا۔ بعد میں ان کے آثار دہلی لا کر دفن کئے گئے۔

Advertisement

خان آرزو کی منتخب غزل درج ذیل ہے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement