تعارف

پروفیسر امین اشرف ۱۰ جولائی ۱۹۳۰ کو پیدا ہوئے تھے۔ وہ کچھوچھہ شریف کے مشہور صوفیا خاندان کی ایک ممتاز شخصیت سید حبیب اشرف کے فرزند ِ ارجمند تھے۔ پروفیسر سید امین اشرف علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی میں تدریسی خدمات سے سبکدوش ہوئے تھے۔
پروفیسر سید امین اشرف نے ابتدائی تعلیم کچھوچھہ کے ایک مدرسے میں حاصل کی اور پھر انھیں لکھنؤ کی مشہور درس گاہ ’’ فرنگی محل‘‘ میں داخل کیا گیا، جہاں وہ اپنے والد کی ناگہانی رِحلت کے سبب اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے۔

ادبی زندگی

پروفیسر سید امین اشرف نے اپنی عملی زندگی ایک لائبریرین کی حیثیت سےشروع کی اور جدید تعلیم سے بھی خود کو آراستہ کیا۔ اُنہوں نے گریجویشن کرنے کے بعد ایم اے ہی نہیں کیا بلکہ انگریزی لٹریچر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی لی اور پھر اپنی اسی مادر علمی اور دانشگاہ میں انہوں نے پڑھایا بھی۔ پی ایچ ڈی کے تھیسس میں انہوں نے سروجنی نائیڈو کی شاعری پر بالخصوص روشنی ڈالی ہے۔

شاعرانہ عظمت

اپنی قلندرانہ بے نیازی اور تشہیرو اشاعت کی طرف اپنی بے رعبتی کے سبب اردو کے عام قاری کے لئے سید امین اشرف ناشناسی کا مواد بنے رہے لیکن خواص نے جہاں تک ان کے کلام کی رسائی ممکن ہو سکی ان کے کمال ہنر مندی کا برجستگی کے ساتھ اور جائز طور پر اعتراف کیا اور احساس انبساط اور استعجاب کے ساتھ۔

ان کے لفظوں میں جو نزاکت احساس ،جو شادابی اور رعنائی اور جو ثروت تخئیل ہے وہ کم غزل گوؤں کو نصیب ہوئی ہے۔ امین اشرف کی شاعری میں تنقیح اور تزکیئے کا جو عنصر ہے وہ ان کی اپنی ذات کا پرتو بھی ہے، ان کی خانقاہی وراثت کا فیضان بھی اور ان کا وسیلہ ادراک کا شاخسانہ اور اس طرح ان کا اختصاصی نشان بھی۔ امین اشرف کے فن میں جو ارتقا ہوا ہے وہ خالص جذبے کی زبان سے گزر کر ذہن کی دراکی کی طرف لے جاتا ہے جس کا خصوصی تفاعل اشیاء کو ان کے صحیح تناطر میں رکھنا ہے۔

اشرف کی غزلوں کا سفر سادگی سے محض پیچیدگی کی طرف ہے۔ رنگ قدیم و جدید دونوں طرح کی غزلوں میں رعنائی وبرنائی اور احساس لطافت گہرا اور خیراں کن ہے۔ انھوں نے آزاد نظمیں بھی لکھی ہیں۔ یہاں ایک عجیب و غریب صورت حال نظر آتی ہے کہ ان میں شعری یا تخلیقی سفر پیچیدگی سے سادگی کی طرف ہے۔ابتدائی نظموں میں ارتکاز اور معنویت باہمد گر آمیز ہیں۔ پاکیزہ جذبات و احساسات اور گہرے مفاہیم کی ادائیگی کے لیے دیوان میں جابہ جا احادیث  اور قرآنی تلمیحات سے کام لیا گیا ہے مگر ایک ایک غزل میں اس لحاظ سے منفرد ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری  کے علاوہ سلام ونوحہ اور حضرت علی کی منقبت ، حضرت حسن بصری، غوث پاک، شاہ علاولحق اور دیگر برگزیدہ ہستیوں کے بارے کلام ملتا ہے۔

شعری مجموعے

پروفیسر سید امین اشرف کے تین شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں جن کے نام  جادۂ شب، بہارِ ایجاد اور قفس رنگ  ہیں۔

آخری ایام

اُردو کے ممتاز شاعر اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں انگریزی کے سابق پروفیسر  سید امین نے ۷ فروری ۲۰۱۳ میں ۸۳ برس کی عمر میں دورۂ قلب کے نتیجے میں رِحلت کر گئے۔

منتخب کلام

سید امین اشرف کی خوبصورت غزل مندرجہ ذیل ہے۔

Quiz on Syed Amin Ashraf

سید امین اشرف 1
Advertisements