تندرستی ہزار نعمت ہے

انسانی جسم اللہ تعالیٰ کی قدرت اور کاریگری کا بہترین شاہکار ہے۔اربوں خلیوں پر مشتمل یہ جسم اپنے پیچیدہ نظام کیساتھ معاملات کی انجام دہی کرتاہے۔یہ جسم مشین کی مانند ہے۔مشین جب تک درست حالت میں ہوچلتی رہتی ہے،جونہی کسی پرزے میں کوئی نقص یا خرابی پیدا ہوئی تو مشین کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔جب تک اس پرزے کی خرابی دور نہ کرلی جائے،مشین بے کار پڑی رہتی ہے۔انسانی جسم کی بھی یہی کیفیت ہے۔اگر خدانخواستہ جسم کے کسی حصے میں کچھ خرابی واقع ہو جائے تو جسم کے اعضاء بری طرح متاثر ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں پورا جسم کام کرنا چھوڑ دیتاہے۔

جتنے سخن ہیں سب میں یہی ہے
سخن درست اللہ آبرو سے رکھے اور تندرست

یوں تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کوئی شمار ممکن نہیں۔جیسے ارشاد ربانی ہے کہ
و ان تعدو نعمۃ اللہ لا تحصوھا۔ "اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمارکرنا چاہو تو ہرکز شمار نہ کرسکو گے”
اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ:
فبای آلاء ربکما اتکذبٰن۔ "اے گرو ہ ِ جن و انس!تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے”

مزید فرمایا اس نے ہمیں حق کے راستے پر چلایا،ہدایت کی روشنی بخشی،اپنے پیارے نبی ﷺ کا امتی بنایا۔ہمیں سمجھ،فہم اور ادراک سے نوازا۔ہمیں اچھے برے کا شعور کا بخشا۔ہمیں رزق کی فراوانی عطاکی،سر چھپانے کو چھت دی۔اپنی پہچان کا درس دیا لیکن سب سے بڑھ کر نعمت ہے کہ اس نے ہمیں بہترین جسم عطا کیا اور اس جسم کو صحت اور تندرستی بخشی۔تندرستی ایک بیش بہا نعمت ہے۔وہ لوگ دنیا میں بہت خوش قسمت ہیں جو صحت اور تندرستی جیسی بیش قیمت سے سرفراز ہیں۔شاہانہ جلا،دولت کے خزانے،نشاط و کیف اور دوست و احباب کی قربت دل کو تب ہی خوبصورت لگتی ہے جب انسان تندرست ہو،اس کی صحت اچھی ہو۔صحت کی قدر اس وقت معلوم ہوتی ہے جب انسان بیمار ہوجاتاہے۔بیمار اور تندرست میں زمین آسمان کا فرق ہوتاہے۔

Advertisement

قدر صحت مریض سے پوچھو تندرستی ہزار نعمت ہے

ذراصحت بگڑی تو زندگی کا سارا مزہ کرکرا ہو گیا۔جینے کا لطف جاتا رہا،طبیعت کی بشاشت غائب ہو گئی۔اچھے کھانے بھی بدمزہ معلوم ہونے لگے،دوستوں کا ہنسی مذاق زہر لگنے لگا،مزاج چڑچڑا ہو گیا۔زندگی بوجھ لگنے لگی۔آخر اعزہ و اقارب کب تک برداشت کرتے؟اور یوں انسان تندرستی جیسی نعمت سے محروم ہو کر خاندان بھر کے لیے آزمائش بن جاتاہے۔

انگریزوں کے ایک مقولے کا ترجمہ ہے کہ”صحت دولت ہے“،لیکن حقیقت یہ ہے کہ دولت سے کہیں زیادہ قیمتی چیز صحت ہے بلکہ انمول ہے،بھلا صحت کا دولت کے ساتھ کیا مقابلہ؟اگر کسی کی دولت جاتی رہے لیکن صحت قائم ہو تو وہ محنت کرکے تھوڑے ہی عرصے میں دوبارہ دولت حاصل کرسکتاہے،لیکن اگر کسی کی صحت خراب ہو جائے اور اس کے پاس دولت کے انبار بھی ہوں تو اس کے کس کام کے؟دولت سے تو قیمتی دوائیں خریدی جاسکتی ہیں لیکن صحت تو نہیں خریدی جاسکتی۔
کسی دانا کا قول ہے کہ ”دولت سے عینک تو خرید سکتے ہیں بینائی نہیں،بستر تو خرید سکتے ہیں میٹھی نیند نہیں،دوا تو خرید سکتے ہیں صحت نہیں“۔

انسان کی صحت ٹھیک ہو تو وہ روکھی سوکھی کھا کر بھی تندرست اور توانا رہتاہے۔اس کے صحت مند خون کی سرخی اس کے چہر ے پر جھلکتی ہے۔اس کے بازو کی قوت اس میں خوداعتمادی پیدا کرتی ہے،اس کی دماغی قوت اس میں مومنانہ فراست پیدا کرتی ہے اور اس کی جسمانی قوت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں اس کی مددگار ہوتی ہے۔اس کے لبوں پر کھیلنے والا ہمہ وقتی تبسم اس کے نفسیاتی توازن کی عکاسی کرتاہے،وہ جہاں جاتا ہے عزت پاتاہے،جو اس کے پاس آتا ہے نہال ہوجاتاہے۔اس کے گرد ہر وقت ایسے دوستوں کا ہجوم لگارہتاہے جو اس کی خوش گفتاری اور بلند کرداری کے باعث اس پر جان چھڑکتے ہیں۔غرض انسان دنیا میں جو کچھ چاہتاہے وہ سب کچھ ایک صحت مند انسان کو میسر ہوتاہے۔

”جس کے پاس صحت ہے اس کے پاس امید ہے اور جس کے پا س امید،اس کے پاس سب کچھ ہے“۔

یہ تندرستی یارو بڑی بادشاہی ہے
سچ پوچھیے تو یہ عین فضل الٰہی ہے

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ہم آئے دن ہر جگہ مشاہدہ کرتے رہتے ہیں،لیکن بہت ہی کم لوگ ہیں جو صحت کی حالت میں اس کی قدر کرتے ہیں اور اپنی تندرستی قائم رکھنے کی فکر کرتے ہیں۔بس ہر طرف پیسے کی دوڑ لگی ہے معیار زندگی بلند کرنے کا جنو ن ہے،بینک بیلنس بڑھانے کی دھن میں تندرستی جائے بھاڑ میں،بس پیسہ آنا چاہیے لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ جب صحت ہی نہ رہی تو پیسہ کس کام کا؟بس ہر ایک یہی سوچتا ہے کہ ”چمڑی جائے،دمڑی نہ جائے“۔

جسمانی صحت بہت ضروری ہے اور ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ صحت کے اصولوں کی طرف توجہ دے۔اگر صحت ٹھیک نہ ہو تو دماغی کام بھی صحیح طریقے سے سرانجام نہیں دئیے جاسکتے،”صحت مند دماغ اور ذہن کے لیے صحت مند جسم ضروری ہے“۔

کچھ کاموں کے لیے روح کی تندرستی اور بالیدگی ضرور ہوتی ہے۔بیماری کی حالت میں جسم ہی بیکار نہیں ہوتا روح بھی مضمحل ہوجاتی ہے۔بیمار آدمی کے لیے نہ اپنی زندگی کی تعمیر ممکن ہے نہ اپنی بھلائی اور فلاح کا کوئی اقدام ہو سکتا ہے۔جو اپنے لئے کچھ نہیں کرسکتا،وہ کل کو ملک اور قوم اور بنی نوع انسان کے لیے کوئی مضبوط اور نمایاں کام کیسے کرسکتاہے؟

فلاح دین و دنیا منحصر ہے تندرستی پر
غرض سو نعمتوں کی ایک نعمت تندرستی ہے

اسلام اپنے پیروکاروں کی تندرستی کا خاص خیال رکھتا ہے۔ارشاد نبوی ﷺ ہے”تمہارے جسم کا تم پر حق ہے“۔

نماز سے پہلے وضو ضروری ہے تاکہ جسم گردوغبار سے پاک صاف ہو جائے۔نماز سے بھی اچھی خاصی ورزش ہوجاتی ہے۔اس کے لیے جسم اور لباس کی صفائی ضرور ی ہے۔روزہ معدہ کی اصلاح کرکے تندرستی کو بحا ل کردیتاہے۔ابن قرۃ کا قول ہے”جسم کی راحت تھوڑا کھانے میں ہے“۔

اس طرح حج کے ارکان اچھی خاصی محنت و مشقت کا تقاضا کرتے ہیں۔اسلام نے ایسی غذاؤں کا حرام قرار دیا ہے جو ہماری تندرستی کو خراب کرتی ہیں۔جن جانوروں کا گوشت ہمارے جسم کو تقصا ن پہنچاتاہے وہ حرام کر دئیے گئے ہیں۔

تندرستی کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ ہماری خوراک بالکل سادہ ہونی چاہیے۔زیادہ چٹ پٹے اور مرغن کھانے نظام انہضام پر بے جا بوجھ بن جاتے ہیں اور وہ انہیں صحیح طور ہضم نہیں کرپاتا اور جو کھانا ہضم ہو کر جزو بدن ہی نہیں بنے گا وہ جسم کے باقی نظاموں کو ان کی مطلوبہ خوراک کیسے مہیا کر سکے گا؟یوں زبان کا معمولی سا چٹخارا تمام داخلی نظاموں کی کمزوری اور بالآخر تباہی کا باعث بنتا ہے۔کسی دانا کا قول ہے کہ”بعض لوگ دانتوں سے اپنی قبر کھودتے ہیں“۔

تاریخی واقعہ ہے کہ ایک طبیب مدینہ منورہ میں مسلمان بھائیوں کی طبی خدمات کے لیے آیا۔لیکن کافی دن گزرجانے کے باوجود اس کے پاس علاج معالجے کے لیے کوئی مریض ہی نہ آیا۔طبیب نے نبی کریم ﷺکی خدمت میں صورتحال کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ”یہ لوگ جب خوب بھوک لگے تو کھانا کھاتے ہیں اور ابھی کچھ بھوک باقی ہوتو کھانے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔اس لیے یہ بیمار ہوتے ہی نہیں تو علاج کس بات کا کرائیں“۔

گویا تندرستی کو بحال رکھنے کا ایک گُر یہ ہے کہ ہم بھی خوب بھوک لگے تو کھانا کھائیں اور ابھی کچھ بھوک باقی ہو تو کھانا چھوڑد یں۔حدیث پاکؐ کے الفاظ ہیں۔کہتے ہیں کہ ایک طبیب ایک چودھری کو سمجھا رہے تھے کہ پیٹ کے تین حصے ہیں،ایک حصے میں کھانا ڈالو،ایک حصے میں پانی اورتیسرا حصہ سانس لینے کے لیے چھوڑو۔چودھری صاحب یہ سن کر بڑے حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ میں پیٹ کے تینوں حصے کھانے سے بھر لیتاہوں۔پانی اپنی جگہ خودبنالیتا ہے اور سانس ہے،وہ آئے یا نہ آئے؟اس انداز سے کھانا تو خود بیماری کو دعوت دینا ہے۔

ارشادِ خداوندی ہے کہ”کھاؤ پیو مگر اسراف نہ کرو“۔

تندرستی قائم رکھنے کا ایک اور سنہری اصول وہ ہے کہ جسے پنجابی میں ”رج کے کھا،تے دب کے واہ“کہتے ہیں۔یعنی سیر ہو کر کھاؤ اور خوب مشقت کرو تاکہ یہ کھانا ہضم ہو جائے۔کسانوں اور دیہات میں رہنے والوں کی صحت اسی لیے اچھی ہوتی ہے کہ وہ روکھی سوکھی کھاتے ہیں لیکن دن بھر محنت مشقت اورکام کاج میں جتے رہتے ہیں۔

حفظ صحت کے لیے ورزش بھی ضروری ہے۔اس سے جسم مضبو ط ہوتاہے۔غفلت دور ہوتی ہے۔جسم میں صحت و توانائی اور چستی و چالاکی آتی ہے۔دوران خون تیز ہوتاہے۔جسم کی غلاظتیں پسینے کے راستے نکل جاتی ہیں۔ورزش میں بھی اعتدال کو مدنظر رکھنا چاہیے۔اتنی ورزش مفید نہیں ہوتی جس سے تکان پیدا ہو۔ورزش باقاعدگی سے ضروری ہے۔یہ درست نہیں کہ کبھی ورزش کی اور کبھی نہیں کی۔ارسطو کا خیال ہے کہ”ورزش ایک ایسا ستون ہے جو زندگی کی مضبوطی اور پائیداری کا ذمہ دار ہے“۔

دواکوئی ورزش سے بہتر نہیں
یہ نسخہ ہے کم خرچ بالا نشین

جن لوگوں کو کھانا کھانے کے بعد دن بھر کرسی پر بیٹھ کرکام کرنا ہوتاہے،ان کے معدے کو پھیل کر کھانا ہضم کرنے کا موقع نہیں ملتا۔انہیں ہر روز صبح سویرے کھلی اور تازہ ہوا میں سیر کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے اورہر کھانا کھانے کے بعد چہل قدمی ضرور کرنی چاہیے۔نیز ثقیل اور دیر سے ہضم ہونے والے کھانوں سے پرہیز کریں۔ کھانے میں سبزیاں اور پھل زیادہ استعمال کریں۔

ایک انگریزی کہاوت کا ترجمہ ہے کہ”دن میں ایک سیب لیں اورطبیب سے دور رہیں“۔

نبی کریم ﷺ رات کو عشاء کے بعد جلد سوجاتے تھے اور نماز تہجد کے لیے رات پچھلے حصے میں بیدار ہو جایا کرتے تھے اور یہی تندرستی کے لیے نسخہ کیمیا ہے۔آج کل لوگ رات کو دیر تک ٹی۔وی دیکھتے رہتے ہیں اور رات جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے آرام،نیند اور سکون کے لیے بنائی ہے اسے فحش گانے اور نیم عریاں تصاویر اور ڈرامے دیکھنے میں ضائع کردیتے ہیں۔اسی لیے صبح دیر سے آنکھ کھلتی ہے۔یہ فطرت انسانی کے خلاف کھلی جنگ ہے۔اس سے تندرستی برقرار نہیں رہ سکتی۔

رات کو سونا جلد سویرے صبح کو اٹھنا شتاب
صحت و دولت بڑھائے،عقل کو دے آب و تاب

تندرستی جیسی گراں قدر نعمت کو بحال رکھنے کی خاطر ہمیں حفظان صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔صاف ہوا میں ناک کے ذریعے سانس لیں۔ناک کے اندر باریک بال ہوا کی اکثر کثافتوں کو اندر جانے سے روکتے ہیں اور ناک پھیپھڑوں تک پہنچنے کا نسبتاًکا لمبا راستہ سردہواؤں کو معتدل بنادیتا ہے۔سانس منہ کے راتے باہر نکالیں۔

صاف اور تازہ پانی پئیں۔گندا پانی پینے سے پیچش،اسہال،ہیضہ اور کئی دوسری متعدی بیماریاں لگ جاتی ہیں۔برسات اور وبائی امراض کے دوران پانی کو جوش دے کر اور ٹھنڈ اکرکے پئیں۔
بہت زیادہ ٹھنڈی اور بہت زیادہ گرم چیزیں کھانے سے پرہیز کریں۔کھانا خوب چبا کر کھائیں۔کھانے کے دوران پانی کم پئیں۔البتہ کھانے کے ایک آدھ گھنٹہ بعد خوب پیٹ بھر کر پانی پی سکتے ہیں۔کھانے کے فوراً بعد نہانا مناسب نہیں ہے۔

نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ”اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ یہ بات میری امت کو مشکل ہو گی تو میں انہیں ہر نماز کے وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا“۔
مسواک یا منجن سے روزانہ کم از کم رات کو سوتے وقت اور صبح اٹھتے ہی دانتوں کو صاف کرنا بے حد ضروری ہے۔ورنہ دانتوں کے درمیان پھنسے ہوئے غذا کے ریزے گل سڑ کر جب معدے میں جائیں گے تو وہ معدے کو بھی خراب کر دیں گے۔

بُری عادات سے بچنا بھی صحت کے لیے مفید ہے،بری عادات سے برے جذبات پید اہوتے ہیں،برے جذبات سے برے اعمال جنم لیتے ہیں اور برے اعمال صحت برباد کردیتے ہیں۔بری صحبت اور برے کاموں سے بچنا چاہیے۔بدعادت سے جسم اور خوبصورتی کا ستیاناس ہو جاتاہے۔خون کی سرخی کم ہو جاتی ہے،چہر ہ بدنما ہوجاتاہے اور انسان پر ایک قسم کی لعنت مسلط ہوجاتی ہے۔اس لیے بری صحبت سے احتیاط لازمی ہے۔ہر وقت خوش رہنا سیکھو۔خوشی اور مسرت آدھی صحت ہے۔غم وغصہ،بغض،کینہ،حسد صحے کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔جہاں تک ہو سکے ان سے بچنا چاہیے اور اپنے خیالات کو شگفتہ اور نیک رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اسلام سلامتی کا دین ہے۔اس لیے اس نے اپنے اخلاقی نظام کے ذریعے ان تمام ذرائع کا سدباب کر دیا ہے جو انسان کی ذہنی یا جسمانی صلاحیتوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔لہٰذا اپنی تندرستی کو ایک واقعی نعمت بنانے کے لیے ہمیں اسلام کے تمام اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔

ارشادِ خداوندی ہے کہ”اگر میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو مزید نعمتیں عطاکروں گا۔اگر کفران نعمت کرو گے تو جان لو یہ بات یقینی ہے کہ میرا عذات سخت ہے“۔ اس لیے ہمیں تندرستی کی قدر کرنی چاہیے اورتندرستی برقرار رکھنے کی طرف بھی غفلت نہیں برتنی چاہیے۔

از تحریربلوچ (پاکستان)