کتاب”اردو گلدستہ” برائے ساتویں جماعت
سبق نمبر03:نظم
شاعر کا نام: اکبرالہ آبادی
نظم کا نام:آموں کی فرمائش

نظم آموں کی فرمائش کی تشریح

نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئے
اس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجئے

یہ شعر اکبرالہ آبادی کی نظم "آموں کی فرمائش” سے لیا گیا ہے۔اس شعر میں شاعر آموں سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ مجھے کوئی خط یا کسی بھی دوست کا کوئی پیغام موصول نہ ہو بلکہ اگر اس موسم میں کوئی دوست احباب مجھ سے محبت جتانا ضروری خیالا کرتا ہے تو وہ مجھے اس موسم میں محض فصل کے آم ہی بھیج دے۔

Advertisement
ایسا ضرور ہو کہ انہیں رکھ کے کھا سکوں
پختہ اگرچہ بیس تو دس خام بھیجئے

اس شعر میں شاعر آم بھیجنے والوں سےکہتا ہے کہ اگر مجھے آم بھیجنا ہو تو اس بات کا لازمی خیال رکھا جائے کہ سارے آم پکے ہوئے اور تیار نہ ہوں کہ اںھیں مجھے جلد از جلد کھ اکر ختم کونا ہوں گے۔ بلکہ مجھے ایسے آم بھیجنا کہ اس میں کچھ پکے اور کچھ کچے ہوں تا کہ میں انھیں کچھ عرصہ پکنے کے لیے رکھ چھوڑوں تا کہ بعد میں ، میں ان آموں کو کچھ عرصہ تک کھا سکوں۔

معلوم ہی ہے آپ کو بندے کا ایڈریس
سیدھے الہ آباد مرے نام بھیجئے

اس شعر میں شاعر آم بھیجنے والوں کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ آپ سب لوگوں کو میرا پتا تو معلوم ہی ہے اس لیے سیدھے الہ آباد میں میرے نام پہ آم روانہ کردو۔

ایسا نہ ہو کہ آپ یہ لکھیں جواب میں
تعمیل ہوگی پہلے مگر دام بھیجئے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اب جب کہ میں نے آموں کی فرمائش کی ہے تو ایسا نہ ہو کہ مجھے جوابی خط ملنے لگ جائیں۔جس میں آپ نے یہ تحریر کیا ہو کہ پہلے مجھے رقم بھیجں تو اس صورت میں آپ مجھے آم بھیجں گے۔

سوالات:

شاعر اس نظم میں کس چیز کی فرمائش کر رہا ہے؟

شاعر اس نظم میں آموں کی فرمائش کر رہا ہے۔

تعمیل ہوگی ، پہلے مگر دام بھیجے“ کا مطلب اپنے لفظوں میں لکھیے۔

اس سے مراد ہے کہ شاعر نے جو آم بھیجنے کی فرمائش کی تو جوابی خط یہ نہ آئے کہ آپ کے حکم کی تعمیل ہوگی لیکن پہلے ان کی ادائیگی کیجیے۔

شاعر نے پختہ ( پکے ) آموں کے ساتھ چند خام (کچے آموں کی فرمائش کیوں کی ہے؟

شاعر نے پختہ آموں کے ساتھ چند کچے آم اس لیے منگوائے ہیں کہ پکے یا تیار آم فورا کہا لیے جائیں گے کہ ان کو کچھ وقت تک رکھا نہیں جا سکے گا مگر کچے آموں کو کچھ عرصہ تک محفوظ کیا جا سکے گا تا کہ وہ پک کر تیار ہو تو ان کو کھایا جائے۔

مختلف آموں کی تصویر میں بنا کر ان میں رنگ بھریے۔