کشمیر کے دریاؤں پر ایک مضمون

(١) نسیم باغ

نسیم باغ سرینگر سے سات میل دور زیارت حضرت بل کے نزدیک واقع ہے۔یہاں صرف چنارکے درخت ہیں جو شہنشاہ اکبر کے زمانے کے لگے ہوئے ہیں۔یہاں ایک صاف پانی کا چشمہ بھی ہے۔


(٢) شالامار باغ

یہ باغ سرینگر سے دس میل کے فاصلہ پر ہے اور اسے جہانگیر نے بنوایا تھا۔یہاں کی بارہ دریاں،فوارے،آبشاریں دیکھنے کے قابل ہیں۔سبزہ زاروں میں پھولوں کی کیاریاں اس باغ کی رونق کو دوبالا کرتی ہیں۔یہ باغ جھیل ڈل کے کنارے پر واقع ہے۔

(٣) نشاط باغ

یہ باغ سرینگر سے 8 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔اس باغ کو آصف جاہ۔ نورجہاں کے بھائی نے بنوایا تھا۔اس باغ میں خوبصورت پھول، اونچے اونچے چنار اور میووں کے درخت پائے جاتے ہیں۔ہر ایتوار کو فوارے اور آبشار چلتے ہیں۔اس چشمے کا پانی ہاضمہ کے لئے بہت ہی مفید ہے۔

(٤) چشمہ شاہی

یہ سرینگر سے چھ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔یہ ایک صاف پانی کا چشمہ ہے۔اس کے آگے ایک عالیشان باغ ہے اور بارہ دری ہے جس میں فوارے اور آبشار چلتے ہیں۔اس چشمہ کا پانی ہاضمہ کے لئے بہت ہی مفید ہے۔

(٥) گاندربل

سرینگر سے تیرہ میل کے فیصلہ پر ہے۔یہاں چناروں کے کھلے میدان سیاحوں کے خیمے لگانے کے لیے نہایت عمدہ جگہ ہے۔یہاں سے تین میل کے فیصلے پر کھیر بھوانی کا چشمہ ہے اور کچھ دور مانسبل کی جھیل ہے۔

(٦) پہلگام

یہ ایک مشہور صحت افزا مقام ہے اور سرینگر سے اکسٹھ (٦١)میل کے فاصلے پر واقع ہے۔یہاں چیل اور دیودار کے درخت پائے جاتے ہیں۔ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح لوگ سیر کے لیے آتے ہیں۔شری امرناتھ جی سوامی کی یاترا کے لئے یہیں سے راستہ جاتا ہے۔پہلگام کی بلندی سطح سمندر سے سات ہزار فٹ کے قریب ہے۔یہاں ایک نالہ ہے جس کا پانی نہایت ہی صاف اور شفاف ہے۔

(٧) اچھ بل

یہاں مغل بادشاہوں کے وقت کا ایک خوبصورت باغ ہے۔جس میں اس کے ایک طرف پہاڑ کے دامن میں ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا چشمہ ہے۔جس میں ٹروٹ مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔یہ اسلام آباد سے 6 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔

(٨) گلمرگ

سرینگر سے ٢٩ میل کے فاصلہ پر سیاحوں کے لیے ایک دلکش جگہ ہے۔سیاہ لوگ اکثر گرمیوں میں برف پر سے پھسلنے کے کھیل کے لئے آتے ہیں۔یہاں جنگلات کے نظارے قابل دید ہیں۔گاف کھیلنے کے لئے یہاں کے میدان مشہور ہیں۔

(٩) سونہ مرگ

یہ نہایت خوبصورت صحت افزا مقام ہے اور سری نگر سے 56 میل کے فاصلے پر وادی سندھ میں واقع ہے۔نالہ سندھ اس کے پاس سے گزرتا ہے۔یہاں گھنے جنگلات پائے جاتے ہیں۔یہاں سے کرگل اور لیہ کو راستہ جاتا ہے۔

Close