Advertisement

14 فروری 2019 کو جموں وکشمیر "پلوامہ” میں ایک بھارتی ڈیزائن کردہ حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 40 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔ اس واقعہ کے فوری بعد بغیر تصدیق کیے، ہمیشہ کی طرح پاکستان پر الزام عائد کیا گیا۔ پاکستان نے فوری اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ کے حقائق تک پہنچنے کے لیے تعاون کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ بھارت غیر ذمہ دارانہ رویوں کو بنیاد بنا کر 26 فروری کو صبح 3 بجے کے قریب پاکستانی حدود میں داخل ہوا، اور جوابی کاروائی میں عجلت  کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی طیارے اپنا "پے لوڈ” بالاکوٹ کے مقام پر پھینک کر فرار ہوگئے۔

Advertisement

بھارتی میڈیا نے فوری اعلان کیا کہ بھارت نے پاکستان میں دہشت گردوں کے مبینہ کیمپ پر حملے میں 350 افراد کو ہلاک کر دیا۔ بعد ازاں بھارتی حکومت کی طرف سے اس دعوے کے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہ کیے گئے اور اسے اپنے ہی ملک میں ہزیمت اور شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارتی دعوے کی تردید کی اور ساتھ ہی بھارت کو خبردار کیا کہ اب ہماری باری ہے اور ہم بہت بڑا  “Surprise” دیں گے۔ ہمارے  “Surprise”  کا انتظار کریں۔ 27 فروری کو پاک فوج نے 2 بھارتی طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ "ابھی نندن” کو گرفتار کیا، زیادہ طیارے بھی گرائے جا سکتے تھے لیکن اعلیٰ کمانڈ کی طرف سے صرف 2 طیارے گرانے کا حکم تھا، دوسری جانب ایک بھارتی صحافی نے انڈین پائلٹ کے گرفتار ہونے کی تصدیق بھی کر دی۔

Advertisement

اس سارے واقعہ کے بعد بھارت کو شدید رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور پوری پاکستانی قوم جشن منانے میں مصروف تھی۔ پاک فوج کے جوانوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے "ابھی نندن” کو “Civilians” کے حصار سے محفوظ کیا، اور اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ "ابھی نندن” کو مکمل  “Treatment” دیا گیا، اس سارے عمل میں پاک فوج کا کردار انتہائی پروفیشنل رہا۔ "ابھی نندن” کو مکمل ابتدائی طبی امداد اور "چائے” پیش کی گئی۔ "ابھی نندن” دشمن تھا اور جنگی قیدی، لیکن پاک فوج نے اس کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کیا۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں "ابھی نندن” چائے کا کپ ہاتھ میں تھا مے گفتگو کر رہا تھا جس پر انٹرویو کرنے والے نے سوال کیا کہ؛ چائے کیسی تھی؟ "ابھی نندن” نے جواب دیا کہ: “Tea was Fantastic” ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پاک فوج کی مہمان نوازی اور چائے کی پیالی ابھی نندن کو بہت مہنگی پڑی۔ جس کے بدلے میں اسے اپنی فضائیہ کا مگ۔21 لڑاکا طیارہ پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں تباہ کروانا پڑا۔ ابھی نندن کو جلد ہی پاکستان نے واپس کر دیا۔

Advertisement

بھارت سے پاکستان کے ہاتھوں یہ ہزیمت برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ اس نے اپنا پراپیگنڈا جاری رکھا۔ جب تک ابھی نندن ہماری قید میں تھا، وہ اس بابت ایک لفظ نہ بولا، لیکن اس کی بھارت واپسی کے چند ہی دنوں بعد بھارتی حکومت نے شور برپا کر دیا کہ ابھی نندن نے پاکستانی F-16 مار گرایا تھا۔ بھارتی میڈیا نے ایک تباہ شدہ طیارے کا ملبہ اور انجن ٹی وی پر دکھایا کہ یہ اس 16 F- کا ملبہ ہے جسے ابھی نندن نے مار گرایا تھا۔

بھارتی ٹی وی پر ایک بھارتی دفاعی ماہر کو اس تباہ شدہ طیارے کی تصاویر دکھائی گئیں لیکن اس نے فوری بھارتی جھوٹ کو بے نقاب کر دیا۔ اس نے کہا کہ یہ تصاویر F-16 کی نہیں، بلکہ مگ21 کی ہیں۔ دوسری جانب امریکی دفاعی ماہرین اور F-16 طیارہ ساز کمپنی کے اعلیٰ افسران پریشان تھے کہ ایک مگ 21 سے جدید ترین F-16 کیسے مار گرایا گیا؟ انہوں نے دفاعی ماہرین کی دو مختلف ٹیمیں پاکستان روانہ کیں کہ وہ خود تفتیش کریں۔ پاک فضائیہ نے اپنی انوینٹری کے تمام  F-16طیارے ان ماہرین کو گنوا دیئے کہ پاکستان کا کوئی F-16 تباہ نہیں ہوا۔ اس کے باوجود ہزیمت کو مٹانے کے لیے بھارت نے 15 اگست کے موقع پر ابھی نندن کو اعلیٰ فوجی اعزاز سے نواز دیا۔ اس ساری کہانی کے ہیرو پاکستانی پائلٹ "حافظ عثمان” کو اعلیٰ فوجی اعزاز سے نوازا گیا، جس کے وہ حقدار بھی تھے۔ یہ وہی شیر جوان ہے کہ جس کی بدولت پاکستانی چائے کو ایک “Brand” کے طور پر پوری دنیا میں شہرت مل چکی ہے اور دشمن بھی یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ: “Tea Was Fantastic” ۔ 

Advertisement

الحمدللہ اب ایک مرتبہ پھر سے بھارت کو ہزیمت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، کیوں کہ بھارتی اینکر پرسن "ارنب گوسوامی ” کی وٹس ایپ چیٹ لیک ہو چکی ہے، جس کے مطابق اسے بالا کوٹ دراندازی کی پہلے سے خبر تھی اور وہ اس خبر کو دراندازی سے 3 روز قبل ایک "سی ای او” تک پہنچا چکے تھے۔ اس کے علاوہ وہ  پلوامہ حملے کے بارے میں بھی بتا چکے تھے۔ پلوامہ حملہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی، حملے سے پہلے اس روڈ سے پولیس چوکیوں اور ناکوں پر تعینات نفری کو اسی روز وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ یہ سب مودی، انڈین آرمی اور عدلیہ کی ملی بھگت کا نتیجہ تھا جو کہ امن کے خواہاں ملکوں کے لئیے ہمیشہ سازشوں کے جال بننے میں مصروف رہتے ہیں۔

تحریرامتیاز احمد، کالم نویس، افسانہ نگار
[email protected]
Advertisement

Advertisement

Advertisement