نظم ‘طلوع اسلام’ کی تشریح

یہ نظم علامہ اقبال کے پہلے شعری مجموعے "بانگ درا” کی آخری نظم ہے جو 1923ء میں انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسے میں پڑھی گئی تھی اور آخری بڑی نظم ہے جو علامہ اقبال نے انجمن کے جلسے میں پڑھ کر سنائی۔ علامہ اقبال ان چند عظیم شعراء میں شامل ہیں جنہوں نے شاعری کے ذریعے مردہ اجسام میں نئی روح پھونک کر ایک عظیم ذہنی انقلاب پیدا کیا۔ اقبال نے زندگی کے ہر گوشہ پر اظہار خیال کیا ہے۔ امن کا پیغام، خودی کا احساس، قومی محبت اور عظمت اسلام کی پاسداری آپ کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ زیر بحث نظم نو بندوں اور 72 اشعار پر مشتمل ہے۔

یہ نظم "بانگ درا” کی آخری نظم ہے اور اپنی نوعیت کے لحاظ سے بے نظیر ہے۔ یہ نظم اس زمانے میں لکھی گئی جب مصطفی کمال پاشا بے سروسامانی کے باوجود یورپی سازشوں کی زنجیریں توڑ کر ترکی کو آزاد کرا چکے تھے۔ایران رضا خان پہلوی کی رہنمائی میں زندگی کی نئی کروٹ لی رہا تھا، افغانستان میں شاہ امان اللہ خان استقلال کی بنیاد پختہ کر چکے تھے۔غرض کہ اسلامی دنیا میں زندگی کی امید افزا لہریں دوڑ رہی تھیں۔ ہندوستان کے مسلمان بھی اپنی آزادی، ترکی کی خلافت کی حفاظت اور عرب کی تطہیر کے لیے ولولہ انگیز قربانیاں دے رہے تھے۔

اس نظم کا بنیادی تصور خود اس کے عنوان میں مضمر ہے اور اس کا پہلا بند مسرت و شادمانی کے جذبات سے لبریز ہے بلکہ ساری نظم میں یہی رنگ نظر آتا ہے۔اقبال نے مصطفی کمال کی کامیابی کو ‘طلوع اسلام’ سے تعبیر کیا ہے۔ ‘خضر راہ’ میں کہیں نہ کہیں ناامیدی و مایوسی کا رنگ جھلکتا ہے لیکن اس نظم میں اقبال کا دل اس یقین سے معمور ہے کہ اگر مسلمان اپنے اندر ایمان پیدا کر لے تو وہ پھر دنیا کو فتح کر سکتا ہے۔آئیے اب اس نظم کی تشریح پڑھتے ہیں۔

پہلا بند تشریح

اس بند میں کل آٹھ اشعار ہیں جن کی شعر بشعر تشریح درج ذیل ہے۔

  • 1- پہلے بند میں ستاروں کا ٹمٹمانا اس بات کی دلیل ہے کہ آفتاب طلوع ہونے والا ہے۔ مسلمان مدتوں غفلت کی نیند سوتے رہے لیکن شکر ہے کہ مصطفی کمال (آفتاب) نے انہیں بیدار کر دیا۔
  • 2- مسلمانوں کی مردہ رگوں میں پھر سے زندگی کے آثار نمایاں ہو گئے۔ اس راز کو فلسفی یا منطقی لوگ بالکل نہیں سمجھ سکتے کیونکہ یہ بات فضل ایزدی سے متعلق ہے۔
  • 3- سچ تو یہ ہے کہ جنگ عظیم نے مسلمانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کر دیا کہ اگر ہم جدوجہد نہیں کریں گے تو فنا ہو جائیں گے، اگر دریا (دنیا) میں تلاطم برپا نہ ہو تو موتی (مسلمان) میں آب و تاب پیدا نہیں ہوسکتی یعنی مسلمانوں کے جوہر عیاں نہیں ہو سکتے۔
  • 4- آثار بتا رہے ہیں کہ مسلمانوں کو دنیا میں دوبارہ سر بلندی نصیب ہوگی، ترکوں کی شان و شوکت، ہندیوں کی سی دانائی اور عربوں کی فصاحت و بلاغت میسر ہوگی۔
  • 5- اے اقبال!(بلبل) اگر تو یہ دیکھے کہ قوم میں غفلت کا اثر ہنوز باقی ہے تو اپنی شاعری میں مزید جوش و خروش کا رنگ پیدا کردے، اگر لوگوں میں گانا سننے کا شوق نہیں ہے تو مطرب کو چاہیے کہ زیادہ دلکشی کے ساتھ گائے تا کہ لوگ متوجہ ہوں۔
  • 6- ہر جگہ اور ہر محفل میں اور ہر جلسہ اور ہر تقریب میں مسلمانوں کو بیدار کر، جہاں موقع ملے اور جس طرح ممکن ہوسکے قوم کو بیداری کا پیغام دے، تو اپنی قوم پر عاشق ہے اور تڑپ عاشق سے جدا نہیں ہو سکتی۔
  • 7- وہ شخص جو کسی مرد غازی کے ایمان کا نظارہ کر سکتا ہے اسے یہ دیکھنے کی مطلق ضرورت نہیں ہوتی کہ اس غازی کے گھوڑے کی زین یا ظاہری آرائش کیسی ہے۔ مسلمانوں کا اندازہ ان کے ایمان سے کرنا چاہیے نہ کہ ظاہری سازوسامان سے۔
  • 8- اے اقبال! تو قوم کے ہر فرد کے دل میں عشق رسولﷺ کی آگ بھڑکا دے اور قوم کے افراد کے دل میں یہ آرزو پیدا کردے کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکیں۔

خلاصۂ بند (1)

پہلے بند میں حضرت علامہ اقبال اپنے منفرد لب و لہجے میں یہ حقیقت بیان فرماتے ہیں کہ ملت اسلامیہ کے مسائل کی رات ختم ہوگئی اور صبح نمودار ہوگئی ہے۔ مشرقی سرزمین جاگ اٹھی ہے۔ یورپ کی یورشوں نے مسلمانوں میں زندگی کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔ بے سروسامانی کے باوجود مسلمان ہر جگہ کامیاب و کامران ہو رہے ہیں، گویا اسلام کا مقدر بلند ہوکر چمک رہا ہے۔

دوسرا بند تشریح

اس بند میں بھی آٹھ اشعار ہیں جن کی شعر بشعر تشریح درج ذیل ہے۔

  • 1- شاعر فرماتے ہیں اگر مسلمان اللہ کے حضور میں عاجزی اور انکساری کرلیں تو اس کے آنسو جناب باری کی نظر میں نہایت قیمتی ثابت ہو سکتے ہیں یعنی اللہ تعالی ضرور اپنا فضل نازل فرمائے گا اور مجھے امید ہے کہ فضل الہی نازل ہونے والا ہے۔
  • 2- اور مسلمانوں کو دنیا میں پھر سربلندی حاصل ہوگی۔
  • 3- چنانچہ اللہ نے مصطفی کمال پاشا کو محض اپنے فضل و کرم سے یہ فتح مبین عطا فرمائی ہے جس کی بدولت اس کو تمام دنیائے اسلام میں ہر دلعزیزی حاصل ہو گئی ہے۔آج ترکوں کی کامیابی کی خوشبو تمام دنیائے اسلام میں پھیلی ہوئی ہے۔
  • 4- اے مسلمانو یہ سچ ہے کہ جنگ عظیم میں ترکوں نے نقصان عظیم برداشت کیا بلکہ سلطنت، سیادت اور سطوت تینوں چیزوں کا خاتمہ ہو گیا لیکن یہ آزردہ ہونے کی بات نہیں ہے۔ ہمیشہ مسائل کے بعد راحت نصیب ہوتی ہے اور اگر فطرت سے اس کی شہادت درکار ہے تو سحر پر غور کرو، لاکھوں ستارے فنا ہو جاتے ہیں تو ایک سحر پیدا ہوتی ہے۔
  • 5- اے مسلمانو حکومت تو ایک عارضی شے ہے آج چلی گئی تو کل آ جائے گی، بڑی چیز جہاں بینی ہے یعنی تمہیں قوموں کے عروج و زوال کے فلسفہ کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ تم وہ غلطی نہ کرو جس کا نتیجہ تباہی ہوتا ہے۔
  • 6- یاد رکھو ایسا شخص جو کسی مردہ قوم کو زندہ کر دے کہیں صدیوں میں جاکر پیدا ہوتا ہے۔ "دیدہ ور” سے اشارہ ہے مصطفی کمال کی طرف جس نے 1923 میں نئی ترکی کی بنیاد رکھی۔
  • 7- دے اقبال اب وقت آ گیا ہے کہ تو مسلمانوں کو اسلام کے محاسن سے آگاہ کردے تاکہ یہ محکوم قوم یورپ کا مقابلہ کر سکے۔
  • 8- چونکہ تو اسرار حیات سے آگاہ ہے اس لئے مسلمان کو اس کے مقام اور کامیابی کے طریقوں سے آگاہ کر دے۔

خلاصۂ بند (2)

اس بند میں علامہ اقبال اپنے منفرد لب و لہجے میں یہ حقیقت بیان فرماتے ہیں کہ ملت اسلامیہ کے مصائب کی رات ختم ہوگئی اور صبح نمودار ہوگئی ہے۔ ہماری بہادر اور دلیر اقوام (ترکی، ایرانی اور افغانی) اب خواب غفلت سے بیدار ہو چکی ہیں۔ اب ملت بیضا ایک پلیٹفارم پر جما ہو چکی ہے یعنی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے پھر سے پرعزم اور حوصلہ مند لوگ بیدار ہو رہے ہیں۔ آپ مزید فرماتے ہیں کہ ترکوں پر جو مصیبتیں نازل ہوئی ہیں ہمیں ان کا ماتم نہیں کرنا چاہیے کیونکہ مصیبتیں اٹھانے کے بعد ہی راحت کا دور آتا ہے۔

تیسرا بند تشریح

اس بند میں بھی آٹھ اشعار ہیں جن کی شعر بشعر تشریح درجہ ذیل ہے۔

  • 1- اے مسلمان تو اللہ کی قدرت کا نشان ہے اور تیرے ذریعہ سے وہ دنیا والوں سے ہم کلام ہونا چاہتا ہے یعنی اس نے تجھے اپنے کلام کا آمین اور مبلغ بنایا ہے، تیرے پاس وہ ضابطہ حیات ہے پس تو اللہ کی ہستی پر کامل یقین پیدا کر لے۔
  • 2- تیرا نصب العین اس قدر بلند ہے کہ آسمان کی بھی اس کے سامنے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ تو اس کارواں سے مشابہ ہے جس کی منزل مقصود کی رفعت ستاروں کو بھی شرماتی ہے۔
  • 3- یاد رکھ یہ دنیا فانی ہے اور اس میں تیرا قیام عارضی ہے لیکن تو اپنی ذات کے اعتبار سے غیر فانی ہے اور تیرے بعد کوئی قوم پیدا نہیں ہو گی۔
  • 4- تیرے اندر عشق رسولﷺ کا جو وصف ہے اس کی بدولت تیری ذات اس کائنات کی رونق کا سبب بن گئی۔
  • 5- اے مسلمان اللہ نے تیری فطرت میں ترقی کی غیر محدود صلاحیتیں ودیعت فرما دی ہیں اس لیے تو اپنی اہمیت کا صحیح شعور پیدا کر۔ اگر تو نے اپنی صلاحیتوں کو برباد کر دیا تو یہ کائنات گویا امتحان میں فیل ہو جائے گی۔ اللہ نے اس کائنات میں بہت سی نعمتوں کو مخفی رکھا ہے اگر تو ان کو مسخر نہیں کرے گا تو اس کائنات کی تخلیق کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔
  • 6- اے مسلمان تو وہ تحفہ ہے جس کو نبوت اس دنیا سے عالم جاوید کی خاطر اپنے ساتھ لے گئی۔ اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی سرورکائناتﷺ سے دریافت فرمائے گا کہ ہم نے آپ کو دنیا میں نبی بنا کر بھیجا تھا آپ نے وہاں کیا کارنامے انجام دیے تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہ خداوندی میں عرض کر سکتے ہیں کہ میں نے تیرے مخلص بندوں کی ایک جماعت پیدا کر دی مثلاً صدیق اکبرؓ فاروق اعظمؓ عثمان غنیؓ اور علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی جماعت۔لہذا اے مسلمان تو اپنے اندر ایمان پیدا کر لے تاکہ قیامت کے دن تیرا شمار بھی ان مسلمانوں کی جماعت میں ہو جس پر سرور کائناتﷺ فخر کریں گے۔
  • 7- اے مسلمان اگر تو اپنے اسلاف کی تاریخ کا بغور مطالعہ کرے تو تجھ پر یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ ایشیائی اقوام کی حفاظت صرف رو ہی کر سکتا ہے۔
  • 8- لہذا تو اپنے اندر صداقت، عدالت اور شجاعت کے جوہر پیدا کر لے تاکہ اللہ تعالی تجھ کو دنیا کی قوموں کا سردار بنا دے۔

خلاصۂ بند (3)

اس بند میں حضرت علامہ اقبال اپنے منفرد لب و لہجے میں مسلم امہ کو یہ حقیقت بیان فرماتے ہیں کہ اس کا درجہ کتنا بلند ہے اور اس کے فرائض کس قدر عظیم الشان ہیں۔اسلامی امہ ہی دراصل اقوام ایشیا کی محافظ ہے۔ اب مسلمانوں کو پھر صداقت، عدالت اور شجاعت کا پیکر بن جانا چاہیے اس لیے کہ دنیا کی امامت قدرت اسی کے حوالے کر رہی ہے۔

چوتھا بند تشریح

اس بند کے آٹھ اشعار کی تشریح درج ذیل ہے۔

  • 1- فطرت کا مقصد اور اسلامی تعلیمات کی روح یہ ہے کہ دنیا میں اخوت کا راج ہو اور محبت کی بہتات ہو یعنی ہر شخص دوسروں کو اپنا بھائی سمجھے اور بھائیوں کی طرح ان سے محبت کرے۔
  • 2- پس اے مسلمان تو ذات، پاک، نسل، خاندان اور قبیلہ کے امتیازات کو مٹا دے اور اپنے آپ کو افغانی، ایرانی، تورانی، یا پاکستانی کہنے کے بجائے ملت اسلامیہ کا فرد قرار دے یعنی اپنے آپ کو کسی ملک یا نسل سے منسوب نہ کر۔
  • 3- اے مسلمان جب تو ساری دنیا کو فتح کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو کسی خاص خطۂ ارض پر کیوں قناعت کرتا ہے۔
  • 4- یاد رکھ کہ اس دنیا میں ایمان کا مرتبہ وہی ہے جو صحرامیں کسی درویش کی جھونپڑی میں چراغ کا ہوسکتا ہے، جس طرح وہ چراغ بھولے بھٹکے مسافروں کو راہ دکھا سکتا ہے اسی طرح مسلمان اس دنیا میں گمراہ انسانیت کو راہ راست دکھا سکتا ہے۔
  • 5- اے مسلمانوں! اس نکتہ پر غور کرو کہ تمہارے اسلاف نے اگر دنیا سے ملوکیت کی لعنت کو ہٹایا تو اس کے لیے انہوں نے اپنے اندر مناسب حال صفات پیدا کر لی تھیں۔ اگر تم اپنے زمانے میں ملوکیت کو مٹا کر اسلامی مساوات قائم کرنا چاہتے ہو تو اپنے اندر حضرت علیؓ کا زور، حضرت ابوذر غفاریؓ کا فقر اور حضرت سلمان فارسیؓ کا صدق پیدا کر لو۔
  • 6- مسلمانوں نے اس شان کے ساتھ دنیا میں حکومت کی یعنی بنی آدم کو آزادی کا درس دیا کہ جو لوگ صدیوں سے انسانوں کی غلامی میں مبتلا تھے وہ بیک جنبشِ نگاہ آزاد ہو گے مثلاً جب مصریؔ، شامیؔ ، عراقیؔ ایرانیؔ اور ہندی اقوام اسلام لائیں تو وہ بتوں، برہمنوں، و ذات پات اور تہمات کی غلامی سے آزاد ہو گئیں۔
  • 7- یاد رکھو صرف ایمان کی مضبوطی سے تم کو ثبات و استحکام حاصل ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ جرمن قوم سے ترک قوم زیادہ مضبوط اور پائیدار ثابت ہوئی۔
  • 8- بات یہ ہے کہ جب انسان میں یقین یعنی ایمان کی صفت پیدا ہوجاتی ہے تو جبرائیل علیہ السلام کی طرح قدسی نفس اور مقرب بارگاہ خداوندی حاصل ہو جاتا ہے۔

خلاصۂ بند (4)

اس بند میں علامہ اقبال اپنے منفرد لب و لہجے میں مسلم امہ کے اوصاف و خصائص بیان فرماتے ہیں مثلا اخوت اورمحبت۔ رنگ و نسل سے بے پرواہ ہو کر یہ فرزندان توحید کے اتحاد کے ضامن ہیں۔ ان میں زور حیدری یعنی حضرت علی کا زور ہے، ان میں حضرت ابوذر غفاری کا فقر ہے، ان میں حضرت سلمان فارسی کا صدق ہے اسی لیے ان میں بلند ہمتی اور یقین کامل ہے۔ انہی جملہ امتیازی خصوصیات کی بنا پر ترک مسلمان ہونے کی وجہ سے جرمنوں سے زیادہ مضبوط اور پائیدار نکلے۔

پانچواں بند تشریح

اس بند کے آٹھ اشعار کی تشریح درج ذیل ہے۔

  • 1- اے مسلمانوں تم اس وقت غلامی کی لعنت میں گرفتار ہو، اس سے نکلنے کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ تم فتنہ فساد قتل و غارت کا سلسلہ شروع کرنے کے بجائے اپنے اندر ایمان کا رنگ پیدا کر لو۔کیونکہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے اندر پہلے ایمان پیدا کیا پھر اللہ نے ان کو جنگ بدر میں کامیاب کیا۔
  • 2- اے مسلمانو جب تمہارے اندر ایمان پیدا ہو جائے گا تو تم دنیا میں اسی طرح انقلاب برپا کر دو گے جس طرح تمہارے اسلاف نے پیدا کر کے دنیا کو محو حیرت بنا دیا تھا۔
  • 3- اے مسلمانو وہ تمام باتیں جو تمہیں مرغوب تھیں مثلاً قرب خداوندی، روحانیت، حکومت، بادشاہی، فلسفہ، حکمت اور سائنس یہ سب نعمتیں تم کو صرف ایک چیز کی بدولت حاصل ہوسکتی ہیں اور وہ ‘ایمان’ ہے۔ تمہیں یقین نہ ہو تو عربوں کی تاریخ کا مطالعہ کر لو ان کو یہ سب نعمتیں حضور اکرمﷺ کی غلامی کی بدولت حاصل ہوگئی تھیں۔
  • 4- لیکن یہ ضرور ہے کہ ایمان بڑی مشکل سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ انسان کے اندر دنیا حاصل کرنے کی ہوس بڑی شدت سے کارفرما ہے اور اس ناپاک مگر واقعی صفت کی بدولت انسان زبان سے تو اسلام کا دعویٰ کرتا ہے لیکن دل میں خدا کے بجائے اپنی نفسیاتی خواہشات کی پرستش کرتا ہے۔اس لئے جو شخص نفسیاتی سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کو چاہیے کہ کسی مومن یا بزرگان دین کی صحبت اختیار کرے۔ یاد رکھو جو شخص تمہیں بزرگان دین کی صحبت سے روکتا ہے وہ تمہارا بدترین دشمن ہے۔
  • 5- اے مسلمانو ذات، پات، قوم، قبیلہ اور برادریوں کے امتیازات اور بندہ و آقا کی تمیز مٹا دو۔ یہ امتیازات انسانیت کے حق میں سمِ قاتل ہیں۔ یاد رکھو قرآن مجید کی رو سے کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا آقا نہیں ہو سکتا، تم سب کا ایک ہی آقا ہے اور وہ اللہ ہے۔
  • 6- اے مسلمانو بندہ آقا کا امتیاز، ظالم، خود غرض اور بدکار انسانوں کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اللہ نے تو سب کو یکساں بنایا ہے بلکہ کائنات میں ہر شے کی اصل بنیاد ایک ہی ہے، بظاہر آفتاب اور ذرہ میں بڑا فرق نظر آتا ہے لیکن درحقیقت ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یا یوں سمجھو کہ ان دونوں کی حقیقت ایک ہی ہے، آفتاب بھی مادی ہے ذراہ بھی مادی ہے، وہ بھی مخلوق و مجبور، یہ بھی مخلوق اور مجبور ہے۔
  • 7- اے مسلمانو اگر تم اپنے اندر یقین محکم، عمل پیہم اور محبت پیدا کر لو تو تم ساری دنیا کو فتح کر سکتے ہو۔
  • 8- اے مسلمانو جہاد میں ایک سپاہی کو بندوق اور رائفل سے بدرجہا زیادہ، طبع بلند، مشرب ناب، دل گرم، نگہ پاک بین اور جان بیتاب کی ضرورت ہے۔اقبال کی فراست کی داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے اس فہرست میں وہی باتیں گنائی ہیں جو ہماری قوم میں ناپید ہیں۔ مثلا ہماری طبیعت کی بلندی کا یہ عالم ہے کہ چند روپیوں کے زیورات کے لیے ہم ایک معصوم لڑکی کو قتل کر سکتے ہیں۔

خلاصۂ بند (5)

اس بند میں علامہ اقبال اپنے منفرد لب و لہجے میں مسلم امہ کو پستی سے نکلنے کے لیے تدابیر بیان فرماتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لیے سازوسامان اور تدابیر کی اتنی ضرورت نہیں کہ جتنی یقین کامل کی ضرورت پڑتی ہے۔ دنیا کی تمام بلند حیثیتیں صرف ایمان کی تفسیریں ہیں۔ آقا و غلام کے امتیازات مٹ جانے چاہیے۔ مسلمان کا فرض ہے کہ پختہ ایمان، لگاتار عمل اور عالمگیر محبت کو اپنا نصب العین بنا لے۔

چھٹا بند تشریح

اس بند کے اشعار کی تشریح درج ذیل ہے۔

  • 1- مقام شکر ہے کہ اہل یونان جو ترکوں پر برطانوی امداد کی بدولت بڑے طمطراق سے حملہ آور ہوئے تھے نہایت ذلت کے ساتھ پسپا ہوگئے۔
  • 2- جن لوگوں کو آب زور کشتیوں پر ناز تھا ترکوں نے بفضل خدا انہیں خود سمندر میں غرق کر دیا اور جو مفلوک الحال اور بے سروسامان تھے کامیاب ہوگئے۔
  • 3- جن یونانیوں کو اپنی فوج اور برطانوی خفیہ کمک پر ناز تھا وہ آج ذلیل و خوار ہیں اور جن لوگوں نے آڑے وقت میں اللہ کو یاد کیا وہ فتح کی خوشیاں منا رہے ہیں۔
  • 4- بےشک ترکوں کے پاس نہ لاسلکی کا انتظام تھا، نہ تلغراف کا، نہ ٹیلی فون کا لیکن اس کے باوجود انہوں نے ان دشمنوں کے دانت کھٹے کردیے جو جدید ترین آلات حرب سے مسلح تھے۔
  • 5- عربوں کے ماتھے پر اگر ملت سے غداری اور اسلام سے بے وفائی کا داغ لگا تو یہ سب شریف مکہ کی گنگا ہیں یعنی عاقبت نا اندیشی اور خود غرضی کا نتیجہ تھا لیکن ان کے مقابلے میں ترک نہایت صاحب نظر دانشمند اور اسلام کے شیدائی نکلے جنہوں نے اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر کافروں کا مقابلہ کیا۔
  • 6- یہی وجہ ہے کہ دنیائے اسلام میں جس قدر سچے مسلمان موجود تھے وہ سب اور جس قدر فرشتے زمین سے آسمان تک جاتے تھے، وہ سب یہی کہتے تھے کہ واقعے ترک تو بڑے ثابت قدم، بڑے جانباز اور بڑے حوصلہ مند نکلے۔
  • 7- حقیقت بھی یہی ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں ایمان کی چنگاری پوشیدہ ہوتی ہے وہ دنیا میں آفتاب کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔ اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے یعنی 1918ء میں شکست کھائی تو 1922ء میں شکست دے دی۔
  • 8- اگر افراد کے دلوں میں یقین یعنی ایمان کا رنگ موجود ہو تو قوم اگر کسی معرکہ میں ناکام بھی ہو جائے تو دوبارہ کچھ عرصہ کے بعد کامیاب ہوسکتی ہے۔ یہ صفت یقین(ایمان) وہ قوت ہے جس کی بدولت کسی قوم کی بگڑی ہوئی تقدیریں بن جاتی ہیں۔

خلاصۂ بند (6)

اس بند میں علامہ اقبال اپنے منفرد لب و لہجے میں جرمنوں اور ترکوں کا موازنہ کرتے ہوئے یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ اسلام کی برکت سے ترک بے سروسامانی کے باوجود جرمنوں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب رہے اور یقین و ایمان ہی ملت کی تعمیر کا سامان ہے۔

ساتواں بند تشریح

اس بند کے اشعار کی تشریح درج ذیل ہے۔

  • 1- اے ہندی مسلمان! ترکوں کی زندگی سے سبق لے، اگر وہ آزاد ہو گے تو، تو بھی آزاد ہو سکتا ہے۔ بس اس کی صورت یہ ہے کہ تو پہلے اپنی حقیقت سے آگاہی حاصل کر کہ تو مقصدِ تخلیق کائنات ہے، اس کے بعد اپنی خودی کی صحیح طریقہ پر تربیت کر اور اس کے بعد دنیا میں حکومت الہیہ قائم کر دے۔
  • 2- اے مسلمان اس وقت تمام دنیا اپنی نفسیاتی خواہشات کی پیروی کررہی ہے۔ ہر شخص نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ اس لیے تو اس گمراہ انسانیت کو اخوت اور محبت کا پیغام دے اور تمام امتیازات کو مٹا دے۔
  • 3- آج خود مسلمانوں میں قومیت اور وطنیت کا نظریہ مقبول ہو رہا ہے، مثلاً افغانستان کے مسلمان اپنے آپ کو افغانی سمجھتے ہیں اور توران کے مسلمان تورانی۔ اے مسلمان تو ان کو وحدت ملی کا درس دے اور جغرافیائی حدود سے بالا تر ہو کر ان کے اندر عالمگیریت کی شان پیدا کر دے۔ واضح ہو کہ اسلام نے تمام جغرافیائی حدود کو باطل کر کے مسلمانوں کو ایک عالمگیرقوم بنا دیا ہے۔
  • 4- اے مسلمان کیونکہ تیرے دماغ میں رنگ اور نسل کے غیراسلامی تصورات پیدا ہوگئے ہیں اس لئے مناسب ہے کہ دنیا میں ترقی کرنے سے پہلے ان تصورات کو اپنے دماغ سے نکال دے۔
  • 5- اے مسلمان اپنی خودی کی معرفت کر کیونکہ تیری "خودی” حیات کا راز ہے۔ زندگی کی حقیقت اسی میں پوشیدہ ہے اور تیری زندگی کا مقصد ہی یہ ہے کہ تو اپنی خودی سے آگاہ ہو جا۔یاد رکھو جب تو اپنی خودی کی معرفت حاصل کرے گا تو اس وقت تجھ میں اس قدر طاقت پیدا ہوجائے گی کہ تو زمان و مکان کی قید سے نکل سکے گا۔
  • 6- اے مسلمان زندگی کی جنگ یا جدوجہد میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے تجھے اپنے آپ کو فولاد کی طرح مضبوط بنانا چاہیے یعنی برداشت کرنے کی طاقت پیدا کرنی چاہیے لیکن جب تو اپنے بھائیوں سے ملے تو ریشم کی طرح نرم ہو جا یعنی ان سے نرمی کا برتاؤ کر۔
  • 7- اے مسلمان اگر کوئی دشمن تیرے سامنے کوہ بن کر آئے تو اس کا مقابلہ کر لیکن اگر کوئی شخص تجھ سے دوستی کرے تو اس کو فائدہ پہنچا اس کے ساتھ حسن سلوک کر۔
  • 8- اے مسلمان تجھے اللہ نے دو قوتیں عطا فرمائی ہیں فکر اور ذکر۔ قوت فکر کی بدولت تو علم حاصل کر سکتا ہے اور قوت ذکر کی بدولت تجھ میں عشق رسولﷺ کا رنگ پیدا ہو سکتا ہے اور اس حقیقت کو مدنظر رکھ کہ نہ تیرے علم کی کوئی انتہا ہے نہ عشق کی کوئی نیابت ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تو کائنات میں اشرف المخلوقات ہے تو اس کائنات کا حاکم اور سردار ہے اس لیے اللہ نے تجھ کو یہ دو طاقتیں ایسی عطا فرمائی ہیں جو ذات کے اعتبار سے غیر محدود ہیں۔

خلاصۂ بند (7)

اس بند میں علامہ اقبال اپنے منفرد لب و لہجے میں مسلمانوں کو ضروری اسلامی اوصاف تعلیم فرما رہے ہیں۔ ضمناً یہ حقیقت بھی واضح فرما رہے ہیں کہ یورپی تہذیب باقی نہیں رہ سکتی اس لیے کہ اس کی بنیاد سرمایہ دارانہ نظام پر رکھی گئی ہے۔ اسلام گلستان عالم کے لئے بہار کا حکم رکھتا ہے، ایشیا میں ترکوں نے اسلام کی برکتوں سے فائدہ اٹھا کر حیرت انگیز کامیابی حاصل کرلی۔

آٹھواں بند تشریح

اس بند کے اشعار کی تشریح درج ذیل ہے۔

  • 1- اے مسلمان یہ بات کیا تیرے لیے باعث حجالت نہیں ہے کہ تو نے ابھی تک دنیا سے ملوکیت کا خاتمہ نہیں کیا؟ جب تک دنیا میں ملوکیت باقی ہے انسان حقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہو سکتا۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ انسان خود اپنے ہی بھائیوں کو اپنا غلام بناتا رہتا ہے۔
  • 2- ملوکیت کے علاوہ تہذیب مغرب بھی بنی آدم کے حق میں لعنت ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ تہذیب بہت دلکش ہے لیکن یہ وہ زیور ہے جس میں جھوٹے نگینے لگے ہوئے ہیں یعنی اس میں جس قدر خوبیاں نظر آتی ہیں وہ دراصل برائیاں ہیں۔
  • 3- جس سائنس پر اہل یورپ فخر کرتے تھے آج وہی سائنس اقوام مغرب کی ہوس پرستی اور استعمار پسندی کی وجہ سے بنی آدم کے حق میں لعنت بلکہ تباہی کا موجب بن گیا ہے۔اس شعر میں ان المناک اور مہلک آلات جنگ کی طرف اشارہ ہے جو سائنس کی بدولت عالم وجود میں آئے ہیں۔
  • 4- حقیقت یہ ہے کہ اہل مغرب کتنی ہی کوشش کیوں نہ کریں ان کا تمدن اور طریق زندگی جس کی بنیاد سرمایہ داری اور ظلم و ستم پر ہے، کبھی پائیدار نہیں ہوسکتا۔
  • 5- انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے نہ نیک ہے نہ بد ہے، وہ اس دنیا میں جیسے اعمال کرتا ہے ویسا ہی ہو جاتا ہے۔ جو قوم اللہ کے احکام کی پابندی کرتی ہے وہ نیکوکار یعنی جنتی ہے اور جو نافرمانی کرتی ہے وہ بدکار اور جہنمی ہے۔
  • 6- اے مسلمان تیرا وجود اس دنیا کے حق میں سراسر باعث رحمت و برکت ہے اس لئے تو انسانوں کو محبت کا پیغام دے اور اطاعت الہی کا سبق پڑھا کیوں کہ انسان کو صرف اللہ کی اطاعت سے اطمینان قلبی حاصل ہو سکتا ہے۔
  • 7- ترکوں نے اپنے موجودہ طرز عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ اگر وہ کمربستہ ہو جائیں تو دنیا کو اسلام کا امن آفریں پیغام سنا سکتے ہیں۔
  • 8- اے مسلمانوں اٹھو ستم رسیدہ انسانیت ہمارے پیغام کو سننے کے لیے بے تاب ہے۔ بڑی مدت کے بعد تمہیں یہ موقع نصیب ہوا ہے کہ صرف اسلام کی خوبیاں دنیا پر ظاہر کرو۔آج یورپ جس مصیبت میں گرفتار ہے اس کا ازالہ صرف اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے ہو سکتا ہے۔

آخری بند تشریح

اس نظم کا یہ آخری بند فارسی میں تحریر شدہ ہے جس کے اشعار کی مجموعی تشریح درج ذیل ہے۔

اے اسلام کے علمبردار اٹھ اور دنیا کو اسلام کا پیغام سنا کیوں کہ عصر حاضر، اسلام کی تعلیمات کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہے۔دنیا میں تبلیغ اشاعت اسلام کا اس وقت زرین موقع ہے۔ اہل دنیا مصائب کی وجہ سے پریشان ہیں تو قرآنی تعلیمات کو شائع کرکے ان کے مسائل کا ازالہ کر سکتا ہے۔

اے مسلمان میں تیرے قربان جاؤں! اب عین موقع ہے کہ تو اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چل کر دنیا کو اسلام سے روشناس کر دے۔ تمام قومیں زخموں سے چور ہیں تو اسلام کے مرہم سے ان کو صحت عطا کر، حجروں سے نکل، میدان عمل میں ہمت سے کام لے اور نڈر ہو کر اسلام کی تبلیغ کر۔ بڑی مدت کے بعد یہ زریں موقع نصیب ہوا ہے، دنیا والوں کو جو مادہ پرستی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ سرور کائناتﷺ کے جمال کا نظارہ دیکھا، حضورﷺ کی سیرت مبارکہ کو لوگوں کے سامنے صحیح رنگ میں پیش کر، میں چونکہ حضورﷺ کی روحانی طاقت سے آگاہ ہوں اس لیے تجھے یقین دلاتا ہوں کہ اگر تو حضورﷺ کی سیرت اس وقت دنیا کے سامنے پیش کرے گا تو یقیناً کامیابی ہوگی۔

اگر ہم اس وقت اسلام کی تبلیغ کے سلسلہ میں کام لیں تو ہماری کوشش سے ملت اسلامیہ کو چار چاند لگ جائیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس قرآن مجید ہے اور یہ وہ کتاب ہے جو ہر مرض کی دوا ہے۔آؤ سب مل کر اسلام کی تبلیغ کریں اور غیر مسلموں کو قرآن مجید کا پیغام سنائیں، کفر کا خاتمہ کردیں اور نئی دنیا پیدا کر دیں جس طرح 1300 سال پہلے فاروق اعظمؓ نے پیدا کر دی تھی۔

Advertisements