Advertisement

جدیدیت کا پس منظر اور فلسفہ

جدید عہد سائنسی عقلیت کا عہد ہے۔ سائنسی عقلیت زندگی اور کائنات کے بارے میں ایک ایسے رویے کی بنیاد ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ انسان کے مزاج، رویے اور شعور میں گہری تبدیلی واقع ہوگئی ہے۔ جدید انسان جدید نسلوں کا نمائندہ ہے ذہنی اور جذباتی طور پر اتنا غیر روایتی اور جدید ہو گیا ہے کہ پرانی نسلوں سے بالکل مختلف ہو کر رہ گیا ہے۔

سائنسی ترقی نے زمان و مکان کی دیواریں گرا دی ہیں جس کے نتیجے میں ساری دنیا ایک گلوبل ولج میں تبدیل ہو چکی ہے۔ سائنسی انقلاب نے کچھ اس طور بین الاقوامی حیثیت حاصل کی ہے کہ نئے عہد کے کلچر کا تصور سائنس کے بغیر نا تمام رہ جاتا ہے۔ فلسفیانہ سطح پر انسان حیات و کائنات کے اسرار کو مذہبی عقیدوں کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا رہا ہے ، لیکن جدیدیت کی انفرادی خصوصیت یہ ہے کہ سائنسی تحقیقات نے فلسفیانہ تصورات کے کھوکھلے ذہن کو بے نقاب کر دیا ہے۔

Advertisement

آج کا فنکار آگہی کی ایک ایسی منزل پر آچکا ہے جہاں کائنات کی پر اسراریت اس کے لیے کھلا چیلنج بن گئی ہے۔ وہ تنہا فرد ہے جو زندگی اور کائنات کی بے معنویت کا کرب جھیل رہا ہے۔ نفسیاتی سطح پر انسانی شعور کا تجزیہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان اپنی خواہشات کے حوالے سے بنیادی طور پر قدیم وحشی انسان سے کم نہیں۔

Advertisement

انفرادی سطح پر انسان عیب جوئی ، عداوت اور قتل کا ارتکاب کرتا ہے اور اجتماعی سطح پر تباہ کن جنگیں اور قتل و غارت کرتا ہے۔ جدیدیت کے تصور کی تشکیل ان حالات میں ہوئی۔ جدیدیت کی رو سے انسان حیات و کائنات معاشرتی رشتوں اور موت کے مسائل کے بارے میں غیر روایتی انداز میں سوچتا ہے۔ جدیدیت سے وابستہ اردو ادب کے نمائندہ نقاد جدیدیت کی تعریف کچھ یوں کرتے ہیں :

Advertisement

قاضی سلیم کے مطابق :
جدیدیت ایک ادبی رویہ ہی ہے اور ادیبوں کا ایک مسلک بھی “
ڈاکٹر عبادت بریلوی کے مطابق :
” جدیدیت کا تصور ادبی تنقید کی اصطلاح میں صرف تاریخ تک ورود نہیں بلکہ زندگی اور اس کے معاملات سے تعلق رکھتا ہے۔
شمس الرحمٰن فاروقی کے مطابق:
جدیدیت تمام فلسفوں اور نظریوں کی حدود کو توڑنے کا نام ہے۔ —- گذشتہ ادب سے اگر اس کا سلسلہ نہیں ملتا ہے تو وہیں جہاں ادیب نظریے اور فلسفے سے بالاتر ہو گیا ہے۔ “

یوں جدیدیت صرف انسان کی تنہائی، مایوسی اور اس کی اعصاب زندگی کی داستان نہیں ہے اس میں انسان کی عظمت کے ترانے بھی ہیں۔ اس میں فرد اور سماج کے رشتے کو خوبی سے بیان کیا گیا ہے۔جدیدیت کی اصطلاح جس قدر عام فہم دکھائی دیتی ہے، اس کے مفاہیم اسی قدر پیچیدہ ہیں۔

Advertisement

اردو میں چونکہ جدیدیت مغرب کے راستے آئی اس لیے اس کے مغربی رنگ کا اردو ادب پر براہ راست اثر پڑا۔ جدیدیت میں بنیادی طور پر تین اہم دائرے قابل ذکر ہیں مثلاً جدت پسندی ، تجدید کاری اور جدیدیت۔

جدت پسندی :

جدت پسندی دراصل ان رسومات یا بدعات کے خلاف ایک تحریک تھی جو مذہبی حلقوں (عیسائیت) میں موجود تھے۔ مغرب میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب عیسائیت کی تنگ نظری کی وجہ سے خوف اور دہشت کے ماحول کاراج تھا۔

Advertisement

تجدید کاری :

تجدید کاری کا تعلق صنعتی انقلاب اور سائنس و ٹیکنا لوجی کے اثرات سے ہونے والی تبدیلیوں سے جوڑا جا سکتا ہے۔ تجدید کاری سماج کی ترقی اور خوشحالی پر اصرار کرتی ہے۔

جدیدیت :

جدیدیت ایک ایسی تحریک ہے جس کے دائرے میں پوری زندگی آجاتی ہے۔ یہ مذہبی رسم ورواج کی پابندیوں سے آزاد عقلیت پسندی کی تحریک ہے۔ اس کے ا ثرات سے دو طرح کے فکری رجحانات وجود میں آئے۔ پہلا سیکولرازم اور دوسرا انسان دوستی۔ ان دونوں رجحانات کی وجہ سے مذہبی چلن ختم ہوا جس کے نتیجے میں انسان نفسیاتی تناؤ کا شکار ہوگیا۔

Advertisement

ذہنی تناؤ کی بدولت ہیومنزم کا تصور وجود میں آیا۔ ہیومنزم کی وجہ سے خودی کا تصور وجود میں آیا جو مذہبی اعتقادات کی نفی کرتا ہے۔ اس میں انسان کو فکری آزادی میسر آتی ہے۔ اسی فکر کی کھنک آگے جا کر ادب میں بھی ملتی ہے۔ روشن خیالی کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ عقل انسان کے تمام مسائل کو حل کر سکتی ہے اس لیے یہ دنیا کے تمام نا پسندیدہ عناصر مثلاً جہالت، درندگی وغیرہ کا خاتمہ کر دے گی۔ مغرب کی اس روشن خیالی کو آگے بڑھانے والوں میں فرانس کے وولیٹر اور جرمنی کے لینز اور کانٹ کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان دانشوروں نے عقل کے فلسفے کو زندگی کے ہر شعبے کے لیے کارآمد حربے کے طور پر استعمال کرنے کی تلقین کی۔

ادب اور جدیدیت:

جدیدیت انیسویں صدی کے آخر میں وقوع پذیر ہونے والا ایک امتیازی عمل ہے۔ اس دور کا ادب تخلیقی لحاظ سے منفرد ہے۔ اس دوران مختلف فکری دھارے جدیدیت کے ساتھ مل کر اسے تقویت پہنچاتے رہے لیکن جس فلسفے نے خصوصیت کے ساتھ جدیدیت کو پروان چڑھایا وہ فلسفہ وجودیت ہے۔ یہ نظریہ انسانی وجود کو اہمیت دیتا ہے۔

Advertisement

جدیدیت میں بنیادی طور پر تین اہم نکات موجود ہیں یعنی عقلیت ، داخلیت اور خود مختاریت۔ ابھی تین عناصر نے آگے چل کر وجودیت کا تانا بانا تیار کیا۔ جدیدیت اور وجودیت دونوں ایک دوسرے پر اس قدر اثر انداز ہوئیں کہ کبھی وجودیت کو جدیدیت کا سنگ بنیاد مانا گیا تو کبھی جدیدیت کو وجودیت کی توسیع۔

ہندوستان میں جدیدیت ترقی پسند تحریک کے خلاف ایک رد عمل تھی۔ اس کےعلاوہ جدیدیت کے حامل ایسے فن پارے بھی تخلیق ہوئے جن میں تقسیم سے پیدا ہونے والے حالات و واقعات کی عکاسی ملتی ہے۔ اردو ادب میں جن موضوعات سے جدیدیت پسندوں نے اپنی ادبی دنیا بسائی ان میں انتشار ، بحران، بے کسی ،بے زاری ، ناامیدی، تنہائی، خوف، قنوطیت، پاست، بے سمتی بے تعلقی ، انکار اور بغاوت وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

Advertisement

اردو کے جن نامور ناقدین نے جدیدیت کے نظریے کو روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کیا ان میں آل احمد سرور، احمد ندیم قاسمی ، خلیل الرحمن اعظمی، کلیم الدین احمد، عبادت بریلوی ، قمر رئیس ، وارث علوی، وقار عظیم، انور سدید، باقر مہدی، مجنوں گورکھپوری، مرزا حامد بیگ، جمیل جالبی ،شمس الرحمن فاروقی، وزیر آغا ، حسن عسکری، مرزا خلیل احمد بیک ، وہاب اشرفی ، گوپی چند نارنگ، ہر عباس نیر ، حامد کا شمیری وغیرہ کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ وہ شخصیات ہیں جنھوں نے یا تو ترقی پسند تحریک سے انحراف کیا یا براہ راست مغربی رجحانات سے متاثر ہو کر اردو ادب میں جدیدیت کو متعارف کروایا۔

جدیدیت ابتداء میں پس منظر میں رہ کر اپنے قدم جمانے کے لیے کوشاں رہی لیکن جب اس نے اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیا پھر طاقت کے ساتھ ادبی منظر نامے پر رونما ہوکر ترقی پسند تحریک کے مقابل کھڑی ہوئی اور ادب کو نیا رخ دیا۔

Advertisement

اردو میں جدیدیت کا زمانہ ۱۹۳۰ء کی دہائی میں شروع ہوا۔ ”ماوراء ۱۹۴۰ نقش فریادی ۱۹۴١ میرا جی کی کتا بیں ۱۹۴۰ء کی دہائی میں منظر عام پر آئیں یہ جدیدیت کا آغاز تھا۔ ۱۹۲۰ء کی دہائی میں لسانی تشکیلات ،نئی شاعری کی تحریک چلی جسے افتخار عارف، انیس ناگی تبسم کاشمیری نے چلایا جو جدید بیت کی انتہائی شکل تھی۔

۱۹۶۰ء میں افسانے میں جدیدیت کا آغاز ہوا، مغرب میں جدیدیت کا آغاز بہت پہلے ہو چکا تھا۔ عالمی سطح پر جدیدیت کا خاتمہ ۱۹۴۰ء تک زمانہ کو سمجھا جا تا ہے۔ اردو میں مسعود اشعر کے افسانوں میں وجود یت اور جدیدیت کے نقوش ملتے ہیں ان کا افسانہ’ دکھ جومٹی نے دیے“ اس حوالے سے ایک بے مثال افسانہ ہے۔

Advertisement

اس کے علاوہ شاعری میں جدیدیت کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔جدید شاعری میں لفظیات کے اعتبار سے نظم کا دائرہ وسیع تر ہے لیکن غزلوں میں بھی وہ الفاظ داخل ہوگئے ہیں جو غزل کی روایات کی نرم و نازک اور لطیف فضا میں اجنبی محسوس ہوتے ہیں۔چند ناقابلِ قبول الفاظ اور تراکیب سے قطعِ نظر نئی شاعری کے لفظی سرمائے کو انفرادیتوں اور تخلیقی جدتوں کے باوجود غریب اور نامانوس نہیں کہا جاسکتا۔

نئی شاعری کی لفظیات کی فہرست مختلف جدید شعراء کے کلام کو سامنے رکھ کر مرتب کی جاسکتی ہے۔خیال و احساس کی جدت سے اپنا مقام بنانے میں بعض جدید نظم نگار شعرا کامیاب ہیں۔ ان کے یہاں اسلوب و اظہار میں کلاسکیت ہے اور ہیئت میں شرر اور نظم طباطبائی کے دور تک جدتیں ملتی ہیں لیکن خیال و احساس میں یہ سب سے الگ ہیں۔

Advertisement

فکر و احساس کی جدتوں سے ان شعرا نے لفظیات میں بھی اضافے کیے ہیں جو معقول اور متوازن ہیں۔ایسے نظم گو جدید شعرا میں وزیر آغا، خورشید الاسلام، وحید اختر، عمیق حنفی، ندا فاضلی، شمس الرحمن فاروقی وغیرہ ہیں۔یہ مروجہ اوزان و بحور میں تبدیلی بھی فن کے اسرار و رموز کے واقف کار کی حیثیت سے کرتے ہیں۔

جدید شاعری میں نثری نظم بھی پھلی پھولی ہے۔جدید شاعری میں لفظوں کی تربیت کو تخلیقی برتاؤ کے نام پر اوزان و بحور سے جدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بعض جدید نظموں میں مثبت تاویلوں کے ساتھ فرد کی انفرادیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ لیکن یہ انفرادیت حساسیت اور مریضانہ داخلیت کی غماز ہے۔

Advertisement

نیا شاعر کبھی کبھی انفرادیت میں اس طرح ڈوب جاتا ہے کہ وجودیت کے فلسفے کی براہِ راست یا سنی سنائی معلومات کا پرتو اسے اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے اور یہ گمان ہوتا ہے کہ شاعر اپنے وجود کی تلاش میں گم ہے۔شمس الرحمن فاروقی ایسے شاعروں میں سے ہیں جو وزن و آہنگ کا سلیقہ جانتے ہیں اور کلاسیکی شاعری پر نظر رکھنے کی وجہ سے اور جدتوں کے باوجود قادر الکلامی کا ثبوت دیتے ہیں۔جدید شاعری میں فرد کے وجود کا احساس طوفان کی طرح سراٹھاتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے علاوہ مخمور سعیدی بھی وزن و آہنگ اور قدرتِ کلام کا بھرپور ثبوت دیتے ہیں۔

جدیدیت کا نمایاں روپ آئیڈیالوجی سے بیزاری ، فرد پر توجہ اور اس کی تنہائی کے تصور میں خاص دلچسپی رکھتی ہے۔ جدیدیت نے شعر وادب کی قدیم روایت کو بدلنے ، زبان کے رائج تصورات سے انحراف اور جدت کے اظہار کے لیے علامتوں کا سہارا لیا۔ جدیدیت نے یہ ثابت کیا کہ جدیدیت کا حامل فنکار خود مختار نہیں بلکہ اس کا متن بھی خود مختار ہے۔ جدیدیت نے حقیقت نگاری کی روایت سے انحراف کیا۔ جدیدیت کے زیر اثر جن تنقیدی تصورات کا ظہور ہوا وہ متن کی خود مختاریت میں یقین رکھتے ہیں۔

Advertisement

سوالات:

  • جدیدیت سے کیا مراد ہے؟
  • اردو ادب میں جدیدیت کی تحریک کس زبان سے آئی؟
  • جدیدیت کے اہم فکری رویے کون سے ہیں؟
  • اردو ادب میں جدیدیت کا آغاز کب ہوا؟
  • جدید افسانہ سے کیا مراد ہے؟
  • جدید شعری رویوں کو بیان کریں؟
  • جدید لکھنے والوں کے نام بیان کریں؟
Advertisement