• کتاب”دور پاس” برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر19:نظم
  • شاعر کا نام: راجہ مہدی علی خاں
  • نظم کا نام: ستارے

نظم ستارے کی تشریح

بچہ:

امی! یہ جو آکاش پہ بکھرے ہیں ستارے
کلیوں سے بھی اچھے ہیں یہ پھولوں سے بھی پیارے

یہ اشعار راجہ مہدی علی خاں کی نظم سے لیے گئے ہیں۔ ان اشعار میں ایک بچہ آسمان پر تارے دیکھنے کے بعد اپنی ماں کو مخاطب کرتا اور کہتا ہے کہ امی یہ آسمان پر بکھرے ہوئے جگمگاتے ستارے مجھے کلیوں اور پھولوں سے بھی زیادہ پیارے لگتے ہیں۔

یہ شوخ نگاہوں سے مجھے تاک رہے ہیں
کرنوں کی پلک سے مجھے کرتے ہیں اشارے

شاعر کہتا ہے کہ بچہ ان ستاروں کو دیکھ کر اپنی ماں سے کہتا ہے یہ ستارے مجھے ہمیشہ اپنی شوخی بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ اور اپنی روشنی کی کرنوں سے بھر پور پلکوں کے ذریعے یہ مجھے اشارے کر کے اپنی طرف بلاتے ہیں۔

Advertisement
کہتے ہیں یہ مجھ سے کہ ذرا دوست ادھر آؤ
آجاؤ دکھائیں تمھیں جنت کے نظارے

بچہ یہ کہتا ہے کہ ستارے اسے اپنی کرنوں سے بھرپور پلکوں کے ذریعے اشارہ کرکے کہتے ہیں کہ اے دوست ذرا ادھر آؤ۔آ جاؤ ہم تمھیں جنت کی سیر کرواتے ہیں اور جنت کے خوبصورت نظاروں کا لطف دلاتے ہیں۔

کرنوں کی چمکتی ہوئی سیڑھی پہ میں چڑھ کر
امی! دو اجازت مجھے، چن لاؤں یہ سارے

بچہ اپنی ماں سے کہتا ہے کہ اے ماں اگر تم اجازت دو تو میں ان ستاروں کو کرنوں کی چمکتی ہوئی سیڑھی یعنی کہکشاں کے راستے سے ہوتے ہوئے جا کر توڑ لاؤں۔ میں یہ سارے ستارے آکاش سے چن کر لے آؤ گا۔

جانے دو مجھے، جاکے ذرا جیب کو بھر لاؤں
آدھے یہ مرے ہوں گے تو آدھے یہ تمھارے

شاعر کہتا ہے کہ بچہ اپنی ماں سے کہتا ہے ماں مجھے جانے دو تاکہ میں جاکر ان ستاروں کے ذریعے اپنی جیب بھر کر لے آؤ۔یوں یہ آدھے ستارے میں رکھ لوں گا اور آدھے تمھیں دے دوں گا۔

ماں:

بیٹا! یہ جو آکاش پر بکھرے ہیں ستارے
کل صبح کو افسوں، یہ چھپ جائیں گے سارے

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ بچے کی بات سننے کے بعد اس کی ماں اس سے یوں گویا ہوتی ہے کہ اے بیٹے یہ آسمان پر تمھیں چمکتے ہوئے جو ستارے دکھائی دے رہے ہیں یہ سب کے سب جھوٹے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کل۔ صبح تک یہ سب کے سب چھپ جائیں گے۔

جھوٹے ہیں یہ سب کرتے ہیں بچوں سے شرارت
بیٹا! کبھی آئیں گے نہ یہ ہاتھ تمھارے

شاعر کہتا ہے کہ بچے کی ماں اسے بتاتی ہے کہ یہ سب ستارے جھوٹے ہیں اور یہ محض بچوں سے شرارت کرتے ہیں۔یہ ستارے کبھی بھی تمھارے ہاتھ نہیں آئیں گے۔

ہاں، علم کے آکاش پر پہنچو گے اگر تم
واں پاؤگے لاکھوں ہی چمکتے ہوۓ تارے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بچے کی ماں اپنے بیٹے کو نصیحت کرتی ہے کہ اگر کبھی تم اپنے علم۔کے آسمان پر پہنچ جاؤ تو وہاں تمھیں اس طرح کے لاکھوں جگمگ کرتے ستارے دکھائی دیں گے۔

ہیرے بھی اگر دوگے تو پاؤگے نہ ان کو
ہیروں سے بھی مہنگے ہیں یہ، پھولوں سے بھی پیارے

شاعر کہتا ہے کہ ماں اپنے بچے کو بتاتی ہے کہ علم کے آکاش کے ستارے اس قدر قیمتی ہیں کہ ان کی قیمت ہیروں سے بھی زیادہ ہے۔اگر تم ان کو خریدنا بھی چاہو تو ہیروں جتںی قیمت ادا کر کے بھی نہیں خرید پاؤں گے۔ کیوں کہ یہ ہیروں سے بھی مہنگے اور پھولوں سے بھی زیادہ پیارے ہیں۔

بس علم کے آکاش، کتابوں کے ورق ہیں
الفاظ سب ان کے ہیں چمکتے ہوۓ تارے

بچے کی ماں اسے بتاتی ہے کہ علم کے یہ ستارے کچھ اور نہیں بلکہ تمھاری کتابوں کے ورق ہیں اور ان کتابوں پر لکھے ہوئے الفاظ ہی روشن چمکتے تارے ہیں۔

سوچیے اور بتایئے:

بچے نے اپنی ماں سے ستاروں کے بارے میں کیا کہا؟

بچے نے ماں سے کہا کہ اسے یہ چمکتے تارے پھولوں اور کلیوں سے بھی زیادہ پیارے لگتے ہیں اور یہ اسے اپنی کرنوں کے ذریعے اشارے کرتے ہیں وہ ان کو توڑ کر لانا چاہتا ہے۔

بچہ اپنی ماں سے کس بات کی اجازت چاہتا ہے؟

بچہ اپنی ماں سے ستارے توڑ کر لانے کی اجازت چاہتا ہے۔

ستارے بچے سے کیا کہہ رہے ہیں؟

ستارے بچے کو اپنی طرف بلا رہے ہیں۔ اسے کہتے ہیں کہ آؤ دوست ہم تمھیں جنت کی سیر کرواتے ہیں۔

بچے کی بات سن کر ماں نے کیا جواب دیا؟

بچے کی بات سن کر ماں نے کہا کہ اے بیٹے یہ آسمان پر تمھیں چمکتے ہوئے جو ستارے دکھائی دے رہے ہیں یہ سب کے سب جھوٹے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کل۔ صبح تک یہ سب کے سب چھپ جائیں گے۔

ماں نے علم کے تاروں کو آسمان کے تاروں سے زیادہ قیمتی کیوں کہا؟

ماں نے علم کے تاروں کوزیادہ قیمتی اس لیے کہا کہ ان کو کوئی ہیروں کے عوض بھی خرید نہیں سکتا ہے۔

علم کے آکاش کسے کہا گیا ہے؟

کتابی علم اور کتابوں کے اوراق کو علم کا آکاش کہا گیا ہے۔

نظم کے مطابق خالی جگہیں بھر یے:

  • امی ! یہ جو آکاش پہ بکھرے ہیں ستارے۔
  • یہ شوخ نگاہوں مجھے تاک رہے ہیں۔
  • آجاؤ ، دکھائیں تمھیں جنت کے نظارے۔
  • ہیرے بھی اگر دو گے تو پاؤگے نہ ان کو۔
  • بس علم کے آکاش کتابوں کے ورق ہیں۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

تاکنادوسروں کے گھر تاکنا اچھی عادت نہیں ہے۔
اشارہ کرناکیا مجھے بس کو روکنے کے لیے اشارہ کرنا چاہیے؟
ہاتھ آناتتلی کا ہاتھ آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
چھپ جاناپریشانیوں سے چھپ جانا ممکن نہیں ہے۔
کلیوںجمع ہے اس کا واحد ‘کلی’ ہے۔

اسی طرح آپ بھی نیچے دیے ہوئے لفظوں کے واحد بنائیے۔

واحدجمع
پھولپھولوں
پلکپلکوں
نگاہنگاہوں
کرنکرنوں
دوستدوستوں
کتابکتابوں
لاکھلاکھوں
جیبجیبوں

نیچے دیے ہوئے لفظوں کی املا درست کرکے لکھیے۔

غلطدرست
عاکاشآکاش
نزارےنظارے
سبحصبح
المعلم
الفاذالفاظ
اجاجتاجازت