Advertisement
کیسے اچھے دن آئے ہیں
ظلمت کے بادل چھائے ہیں
ہر چہرے پر دکھ ہے ظاہر
وہ کہتے ہیں سکھ ہے ظاہر
سڑکوں پر ہیں علمی پارے
اور گدی پر جاہل سارے
بولے آئے گا دھن کالا
الٹا سب دگنا کر ڈالا
بلڈوزر جسٹس حاکم کا
بن بیٹھا پیشہ ظالم کا
لمحہ لمحہ ہر سو دہشت
اک دوجے کے دل میں نفرت
رکھتے تھے سب دل سے رشتے
اس سے اچھے پہلے دن تھے
تحریر فیضان رضا