Advertisement
  • کتاب "سب رنگ” برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر03:نظم
  • شاعر کا نام: اختر شیرانی
  • نظم کا نام:شملہ

تعارف شاعر:

محمد داؤد خالی ستھان کے شہر ٹونک میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو کے مشہور محقق اور ادیب حافظ محمودخاں شیرانی کے بیٹے تھے۔ ریاست ٹونک کا ماحول نہایت علم پرور اور زبان و ادب کوفروغ دینے والا تھا۔ اختر شیرانی کی پرورش اسی ماحول میں ہوئی۔ انھیں فطرت سے بے پناہ لگاؤ تھا۔

Advertisement

انھوں نے اپنی نظموں میں قدرتی مناظر کو خوب صورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اختر شیرانی کورومانی شاعر کہا جا تا ہے۔ان کی نظموں کا ایک اور اہم موضوع حب الونی ہے۔ ان کی نظموں میں اپنی دھرتی اور اس کے حسن کے جلووں کا عکس جھلکتا ہے۔ ان کی شاعری میں گیتوں جیسی روانی اننگی ہے۔شیرانی‘‘ کے نظم ، گیت اور سانیٹ ان کی پسندیدہ اصناف ہیں۔ ان کا کلام کلیات کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

Advertisement

نظم شملہ کی تشریح:-

لوگ گرمی میں شملے جاتے ہیں
ٹھنڈے موسم کا لطف اٹھاتے ہیں

یہ شعر ” اختر شیرانی” کی نظم "شملہ” سے لیا گیا ہے۔اس شعر میں شاعر شملے جیسے پر فضا مقام کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ شملہ چو نکہ ایک پہاڑی علاقہ اور پر فضا مقام ہے اس لیے میدانی علاقوں کے لوگ اپنی چھٹیوں سے لطف اندوز ہونے اور گرمی سے بچنے کے لیے شملہ جاتے ہیں۔وہاں وہ شملے کے ٹھنڈے موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

کتنی شفاف ہے فضا اس کی
کس قدر صاف ہے ہوا اس کی

اس شعر میں شاعر شملہ جیسے پر فضا مقام کی بات کرتے ہوئے وہاں کی فضا اور آب و ہوا کے بارے میں بتاتا ہے کہ شملہ کی فضا بہت صاف ستھری اور شفاف ہے۔ یہاں کی آب و ہوا ایسی شفافیت اور سحر لیے ہوئے ہے جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

Advertisement
اودی اودی گھٹائیں چھاتی ہیں
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس پہاڑی علاقے میں اودی اودی گھٹائیں چھا جانے کے بعد یہاں کا موسم اور بھی سہانا ہو جاتا ہے۔جب یہاں گھٹائیں چھا جاتی ہیں تو ہر جانب سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں جو موسم کے لطف کو دو بالا کرتی ہیں۔

Advertisement
ابھی بادل ہیں اور ابھی ہے دھوپ
دیکھو قدرت کے یہ انوکھے روپ

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ شملہ کا موسم ایسی آنکھ مچولی کھیلتا ہے کہ پل پل اس کے بدلتے روپ سامنے آتے ہیں۔ ابھی اگر آسمان بادلوں سے بھرا ہوا ہے تو اگلے ہی لمحے وہاں دھوپ کا بسیرا ہوگا۔یہاں قدرت کے نت نئے اور انوکھے روپ دیکھنے کو ملتے ہیں۔

گر صفائی کے حال کو دیکھیں
آپ شملے کی مال کو دیکھیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ شملے میں اگر صفائی کی صورتحال کا جائزہ لینا ہو تو اور کچھ نہیں بس شملے کے مال روڈ کو گھوم پھر کر دیکھ لیں۔آپ کو یہاں کی صفائی کی صورتحال کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔ یہاں صاف ستھری اور کشادہ سڑکیں موجود ہیں۔

Advertisement
کتنی ستھری ہے ہر دکان یہاں
کتنا اچھا ہے ہر مکان یہاں

شاعر کہتا ہے کہ شملے کی صفائی یہاں کی ہر ہر دوکان اور مکان سے جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔ یہاں کی دوکانیں صاف ستھری اور مکان خوبصورتی اور صفائی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔

ہوٹلوں کی نفاستیں دیکھو
کوٹھیوں کی عمارتیں دیکھو

اس شعر میں شاعر شملہ کے ہوٹلوں اور عمارتوں کی صفائی و نفاست بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ شملہ میں موجود تمام ہوٹل انتہائی نفیس و خوبصورت ہیں۔ کوٹھیوں کی عمارتوں سے بھی نفاست اور رنگا رنگی جھلکتی ہے۔

Advertisement
سبزہ وادی میں لہلہاتا ہے
پھرنے والوں کا جی لبھاتا ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ شملہ کے اس پہاڑی علاقے کی وادیوں میں سبزہ لہلاتا ہے اور یہ سبزہ اتنا دلکش ہے کہ اس کی بدولت یہاں پھرنے والوں کا جی لبھاتا ہے اور وہ ان مناظر فطرت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اونچے پیڑوں کی ہے بہار یہاں
ہیں کھڑے چیل دیودار یہاں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ شملہ کے پر فضا مقام پر بہت سارے اونچے اونچے پیڑ ہیں جن کی بہار سے یہاں کے مناظر دلفریب ہیں۔ان پیڑوں میں چیل اور دیودار جیسے بلند و بالا درخت موجود ہیں۔

Advertisement
ہیں بلندی پہ ہر مکان سے یہ
بات کرتے ہیں آسمان سے یہ

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ شملہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں بلندیوں پر مکانات بنے ہوئے ہیں ان مکانات کی بلندی ایسی ہے جو آسمان سے باتیں کرتی ہے۔ یعنی بلند و بالا مکانات ہیں۔

بادل اتنے قریب ہوتے ہیں
پیار سے منہ زمیں کا دھوتے ہیں

شاعر کہتا ہے کہ اس پہاڑی علاقے میں پہاڑوں پر بادل اتنے قریب دکھائی دیتے ہیں اور اس قدر نیچے آئے ہوئے ہیں کہ ایسے لگتا ہے وہ پیار سے زمین کا منھ دھو رہے ہوں۔

Advertisement
راستہ گر کہیں سے پاتے ہیں
بند کمروں میں بھی گھس آتے ہیں

شاعر شملہ کے بادلوں کی منظر کشی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ روئی کے گالوں کی طرح یہ بادل یوں پھر رہے ہوتے ہیں کہ اگر ان کو کہیں سے بھی راستہ میسر ہو تو یہ بند کمروں میں گھس کر بھی سب کچھ گیلا کر دیتے ہیں۔

یوں تو ہر منظر اس کا پیارا ہے
رات کا اور ہی نظارہ ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ویسے تو شملہ کا ہر منظر بہت پیا را ہے لیکن یہاں کا رات کا منظر اور بھی زیادہ دلفریب ہے۔

Advertisement
جب ہوں بجلی کے قمقمے روشن
دیکھو اس وقت شملے کا جوبن

شاعر شملہ کے رات کے منظر کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ رات میں جب یہاں بجلی کے قمقمے روشن ہوتے ہیں تو اس وقت اس کے مناظر اور زیادہ خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔شملہ کی خوبصورتی اپنے پورے جوبن پر ہوتی ہے۔

قمقمے کیا ہیں کچھ ستارے ہیں
آسماں نے یہاں اتارے ہیں

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ یہاں روشن قمقمے رات کی روشنی میں یوں دکھائی دیتے ہیں کہ یہ بجلی کے مصنوعی قمقمے نہیں بلکہ آسمان کے ستارے یہاں اتار دیے گئے ہوں۔

Advertisement
شعلے سے اڑتے ہیں فضاؤں میں
شمعیں آوارہ ہیں ہواؤں میں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ قمقموں کی روشنیوں کے شعلے فضاؤں میں یوں اڑتے پھرتے ہیں جیسے آورہ شمعیں ہواؤں میں موجود ہوں۔

سوچیے اور بتایئے:-

لوگ گرمی میں شملہ کیوں جاتے ہیں؟

لوگ گرمی میں گرمی کی شدت سے بچنے اور پہاڑی علاقے میں موسم کا لطف اٹھانے کے لیے شملہ جاتے ہیں۔

Advertisement

شملہ میں قدرت کے کون کون سے انو کھے روپ نظر آتے ہیں؟

شملہ میں قدرت کے کئی جلوے جیسے کبھی بادل اور کبھی دھوپ نکل آتی ہے۔وہاں کے نظاروں میں قدرت کی کاریگری کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

شاعر نے بادلوں کے بارے میں کیا کہا ہے؟

شاعر نے بادلوں کو روئی کے گالے کہا ہے جو ایسے دکھائی دیتے ہیں کہ گویا جھک کر زمین کا منھ دھو رہے ہوں اور ان کو جب موقع ملتا ہے یہ بند کمروں میں گھس جاتے ہیں۔

Advertisement

شملے کا جو بن کس وقت دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے؟

شملے کا جوبن رات کے وقت جب یہاں برقی قمقمے روشن ہوں دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

شاعر نے قمقموں کی تعریف میں کیا کہا ہے؟

شاعر نے قمقموں کو ننھے ستارے کہا ہے جو آسمان سے زمین پر اتر آئے ہوں۔اور وہ آوارہ شعلوں کی طرح فضا میں اڑتے پھر رہے ہوں۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement