Advertisement
  • کتاب” اردو گلدستہ "برائے چھٹی جماعت
  • سبق نمبر04: فرانسیسی لوک کہانی
  • سبق کا نام: پری کا وردان

خلاصہ سبق:

سبق ” پری کا وردان” ایک فرانسیسی لوک کہانی ہے جس میں ایک غریب لکڑہارے کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے۔ ایک لکڑہارا جس کا ایک چھوٹا سا جھونپڑا تھا۔ وہ دن دات محںت کرتا اور اسی سے اس کا گھر چلتا تھا۔ اس کی بیوی کو بھی گزر بسر کرنے کے لیے دن رات کام کرنا پڑتا تھا۔

ایک دفعہ رات کو بیٹھے دونوں آگ تاپ رہے تھے کہ لکڑہارے کی بیوی نے امیر بننے کی خواہش ظاہر کی اگر وہ امیر ہوتی تو وہ بھی پڑوسیوں کی طرح اچھی زندگی گزارتی۔ وہ اپنے شوہر سے کہنے لگی کہ کتنا اچھا ہوتا کہ اگر ہم پریوں کے دیس میں ہوتے ہمیں کوئی پری ملتی تو میں اس سے اپنی تمام خواہشات کا تذکرہ کرکے سب کچھ حاصل کر لیتی۔

لکڑہارے کی بیوی کی زبان سے جیسے ہی یہ الفاظ نکلے کہ اگر ہمیں کوئی پری ملتی اسی وقت ایک پری ان کے سامنے آن موجود ہوئی۔ وہ ان سے کہنے لگی کہ تم تین مرتبہ جو خواہش کرو گی وہ پوری ہوگی اسے سن کر وہ دونوں حیران ہوئے۔

Advertisement

یہ کہہ کر پری چلی گئی وہ دونوں سوچنے لگے کہ کیا خواہش کی جائے لکڑہارے کی بیوی نے سوچا کہ دولت مانگے مگر لکڑہارے نے کہا کہ ہمیں صحت والی لمبی عمر مانگنی چاہیے جس پہ اس کی بیوی کہنے لگی کہ لمبی عمر کا کیا ہم ہمیشہ ایسی ہی مصیبت میں گرفتار رہیں گے۔ کاش کہ وہ پری ایک درجن خواہشات کا بولتی۔

لکڑہارے نے بیوی کو آگ جلانے کا کہا۔آگ جلاتے ہوئے لاشعوری طور پہ لکڑہارے کی بیوی کے منھ سے نکلا کہ کیا اچھا ہوتا کہ اگر رات کے کھانے میں کباب ہوتے یہ کہنا تھا کہ ان کے سمانے کباب آ گئے۔ لکڑہارے کو غصہ آیا کہ اس کی بیوی کے چٹورے پن کی وجہ سے ایک خواہش ضائع ہو گئی۔

اس نے کہا میرا جی چاہتا ہے یہ کباب تمھارے سر پہ دے ماروں یہ کہنا تھا کہ سارے کباب اس کی بیوی کے سر پہ چپک گئے۔ جس سے دونوں پریشان ہو گئے اور اس کی بیوی کہنے لگی کہ میں کھڑکی سے کود کر جان دے دوں گی۔ مگر لکڑہارے نے اسے پکڑ لیا۔ اور کہا کہ آخری خواہش وہ اپنی مرضی کی کرسکتی ہے۔

اس کی بیوی نے آخری خواہش یہ کی کباب اس کے سر سے الگ ہو جائیں یوں اس کے سر سے کباب الگ ہوتے ہی ان کی تینوں خواہشات پوری ہوئیں۔اپنی خواہشوں کا انجام دیکھ کر انھیں یہ سبق ملا کہ زندگی میں جو کچھ ہے اس پہ قناعت کرنی چاہیے۔ جو کچھ ان کی قسمت میں ہے وہی ان کا اپنا ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

لکڑہارے کی زندگی کیسی گزر رہی تھی ؟

لکڑہارے کا ایک چھوٹا سا جھونپڑا تھا۔ وہ دن دات محںت کرتا اور اسی سے اس کا گھر چلتا تھا۔ اس کی بیوی کو بھی گزر بسر کرنے کے لیے دن رات کام کرنا پڑتا تھا۔

لکڑہارے کی بیوی نے کیا تمنا کی؟

لکڑہارے کی بیوی نے امیر بننے کی خواہش ظاہر کی اگر وہ امیر ہوتی تو وہ بھی پڑوسیوں کی طرح اچھی زندگی گزارتی۔ وہ اپنے شوہر سے کہنے لگی کہ کتنا اچھا ہوتا کہ اگر ہم پریوں کے دیس میں ہوتے ہمیں کوئی پری ملتی تو میں اس سے اپنی تمام خواہشات کا تذکرہ کرکے سب کچھ حاصل کر لیتی۔

لکڑہارا اور اس کی بیوی کیوں حیران ہوئے؟

لکڑہارے کی بیوی کی زبان سے جیسے ہی یہ الفاظ نکلے کہ اگر ہمیں کوئی پری ملتی اسی وقت ایک پری ان کے سامنے آن موجود ہوئی۔ وہ ان سے کہنے لگی کہ تم تین مرتبہ جو خواہش کرو گی وہ پوری ہوگی اسے سن کر وہ دونوں حیران ہوئے۔

پری نے کیا وردان دیا؟

پری نے وردان دیا کہ وہ لوگ جو بھی تین خواہشات ظاہر کریں گے وہ انھیں پورا کرے گی۔

لکڑہارے کی بیوی نے کیا خواہشیں کی؟

لکڑہارے کی بیوی کی دولت حاصل کر کے اونچی سوسائٹی میں شامل ہونا تھا۔

ان دونوں کی خواہشیں کیسے پوری ہوئیں؟

آگ جلاتے ہوئے لاشعوری طور پہ لکڑہارے کی بیوی کے منھ سے نکلا کہ کیا اچھا ہوتا کہ اگر رات کے کھانے میں کباب ہوتے یہ کہنا تھا کہ ان کے سمانے کباب آ گئے۔ لکڑہارے کو غصہ آیا کہ اس کی بیوی کے چٹورے پن کی وجہ سے ایک خواہش ضائع ہو گئی۔ اس نے کہا میرا جی چاہتا ہے یہ کباب تمھارے سر پہ دے ماروں یہ کہنا تھا کہ سارے کباب اس کی بیوی کے سر پہ چپک گئے۔ جس سے دونوں پریشان ہو گئے اور اس کی بیوی کہنے لگی کہ میں کھڑکی سے کود کر جان دے دوں گی۔ مگر لکڑہارے نے اسے پکڑ لیا۔ اور کہا کہ آخری خواہش وہ اپنی مرضی کی کرسکتی ہے۔ اس کی بیوی نے آخری خواہش یہ کی کباب اس کے سر سے الگ ہو جائیں یوں اس کے سر سے کباب الگ ہوتے ہی ان کی تینوں خواہشات پوری ہوئیں۔

اپنی خواہشوں کا انجام دیکھ کر انھوں نے کیا سبق سیکھا؟

اپنی خواہشوں کا انجام دیکھ کر انھیں یہ سبق ملا کہ زندگی میں جو کچھ ہے اس پہ قناعت کرنی چاہیے۔ جو کچھ ان کی قسمت میں ہے وہی ان کا اپنا ہے۔