• کتاب” اردو گلدستہ "برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر15:نظم
  • شاعر کا نام: ضیاء الرحمان
  • نظم کا نام: بلی اور شیرنی

نظم بلی اور شیر کی تشریح

ایک دن یہ شیرنی سے جاکے بلی نے کہا
تیرا رتبہ مجھ سے ہو سکتا نہیں ہرگز بڑا
دیکھ میں اک جھول میں دیتی ہوں بچے کس قدر
ایک سے زائد نہیں تو نے کیے پیدا مگر سے

یہ اشعار ضیاء الرحمان کی نظم "بلی اور شیرنی” سے لیا گیا ہے۔ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ ایک دن ایک بلی اور شیرنی ملیں۔ شیرنی جا کر بلی سے یہ کہنے لگی کہ بلاشبہ تم مجھ سے دیکھنے میں بڑی لگتی ہو لیکن تمھارا رتبہ ہر گز مجھ سے بڑا نہیں ہو سکتا ہے۔ میں ایک ہی دفعہ میں کتنے زیادہ بچے دے دیتی ہوں جبکہ تم نے کبھی ایک سے زیادہ بچے نہیں پیدا کیے۔

شیرنی بلی سے بولی کھا کے فوراً پیچ و تاب
کچھ دنوں کے بعد دوں گی میں تمھیں اس کا جواب
کچھ ہی مدت بعد دونوں پھر اچانک ہی ملیں
ساتھ بلی کے مگر تھا ایک بھی بچہ نہیں

ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ بلی کی بات سن کر شیرنی کو غصہ آیا اور وہ غصے سے پیچ و تاب کھا کر کہنے لگی کہ تمھاری اس بات کا جواب میں تمھیں کچھ دنوں بعد دوں گی۔ کچھ مدت بعد وہ دونوں اچانک سے پھر ملیں تو اس وقت اس بلی کے ساتھ اس کا ایک بچہ بھی موجود نہیں تھا۔

Advertisement
شیرنی نے پوچھا ” خالہ! آپ کے بچے نہیں؟
مبتلا کوئی مصیبت میں تو بے چارے نہیں؟
آہ ٹھنڈی بھر کے بلی اس طرح گویا ہوئی
میری کچھ اولاد کتوں کا نوالہ بن گئی
بچ رہے تھے جو انھیں انساں کے بچے لے گئے
صبر ہی کرتی ہوں میں، قسمت میں میری وہ نہ تھے

بلی کو دیکھ کر شیرنی کہنے لگی کہ خالہ (بلی کو شیر کی خالہ کہا جاتا ہے) تمھارے بچے نہیں ہیں کیا؟ کیا تم کسی مشکل سے تو نہیں گزر رہی ہو۔ شیرنی کی بات سننے کے بعد بلی نے ٹھنڈی آہ بھری اور وہ کہنے لگی کہ میرے بچے تو تھے لیکن میرے کچھ بچے تو کتوں کا نوالہ بن گئے۔ باقی جو بچے بچ گئے وہ انسان اٹھا کر لے گئے۔ اب میرے پاس صبر کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا ہے۔جس کی قسمت جہاں لکھی جا چکی تھی وہ وہاں پہنچ گئے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی بچہ میری قسمت میں نہیں تھا۔

شیرنی کے سامنے تھا اس کا بچہ نوجواں
دیکھ کر بچے کو اپنے ہو رہی تھی شادماں
شیرنی، بلی سے بولی اے مری خالہ سنو
کس لیے تم کوستی ہو اپنی قسمت کو کہو

ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ شیرنی کے سامنے اس کا جوان بچہ کھڑا ہوا تھا۔ بلی کی بات سننے کے بعد وہ اپنے بچے کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر بہت خوش ہو رہی تھی۔ پھر شیرنی بلی سے کہنے لگی کہ اے خالہ میری بات سنو تم اپنی قسمت کو کیوں کوس رہی ہو۔

ناز جن پر تھا تمھیں کمزور وہ اولاد تھی
کتنی آسانی سے وہ دشمن کے ہتھے چڑھ گئی
اس قدر اولاد سے کیا شان تیری بڑھ گئی
آٹھ دس سے تو ہے بہتر ایک ہو لیکن جری

شاعر کہتا ہے کہ شیرنی کہنے لگی کہ تمھیں جن پہ بہت ناز تھا تمھاری وہ اولاد تو کمزور تھی کہ اتنی آسانی سے وہ دشمن کے ہتھے چڑھ گئی۔ اس طرح کی کمزور اولاد سے تمھاری کون سی شان بڑھ گئی ہے۔ آٹھ دس بچوں کو پیدا کرنے سے بہتر ہے کہ ایک بچہ پیدا کر لیا جائے لیکن وہ ایک بچہ بہادر ہونا ضروری ہے۔

سوالات:

شیرنی سے بلی نے کیا کہا؟

شیرنی سے بلی نے کہا کہ تمھارا رتبہ کبھی بڑا نہیں ہو سکتا کیوں کہ میں ایک جھول میں اتنے زیادہ بچے دے لیتی ہوں لیکن تمھارے بچے زیادہ نہیں ہوتے ہیں۔

شیرنی نے بلی کی بات کا کیا جواب دیا ؟

شیرنی نے بلی سے کہا کہ میں تمھیں کچھ دنوں بعد تمھاری بات کا جواب دوں گی۔

بلی کے بچوں کا کیا انجام ہوا؟

بلی کے کچھ بچوں کو کتوں نے کھا لیا جبکہ باقی بچے انسانوں کے بچے اٹھا کر لے گئے۔

شیرنی نے بلی کو کیا نصیحت کی ؟

شیرنی بلی کو کہنے لگی کہ تمھاری اولاد کمزور تھی جو باآسانی دشمن کے ہتھے چڑھ گئی۔ آٹھ دس بچے پیدا کرنے سے بہتر ہے کہ ایک آدھ پیدا کر لو لیکن وہ بہادر ہونا ضروری ہے۔