• کتاب” اُردو گلدستہ”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر08:کہانی
  • مصنف کا نام: بچندری پال
  • سبق کا نام: ایورسٹ کی فتح

تعارف مصنف:

بچند ری پال کا سال پیدائش 1954 ہے۔ ان کے والد ہندوستان اور تبت کی سرحد پر اناج کے بیو پاری تھے۔ شادی کے بعد انھوں نے اترکاشی(اتراکھنڈ ) کے مقام پر رہائش اختیار کر لی۔ وہیں بچندری پال کا جنم ہوا۔بچند ری کو قدرتی مناظر ، خاص کر پہاڑوں سے فطری دل چسپی تھی۔

مزاجا وہ بہت حوصلہ مند اور نڈر تھیں ۔ انھوں نے اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سنسکرت میں ایم ۔اے، پھر بی ایڈ کاامتحان پاس کیا۔1982 میں انھوں نے اپنی کوہ پائی کے شوق کی وجہ سے گنگوتری اور رو دو گیرا کی بلندی تک پہنچنےمیں کامیابی حاصل کی ۔ 1984 میں وہ ایوریسٹ کی مہم پر جانے والی ٹیم میں شامل ہوگئیں اور بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہوئیں ۔ بہت دنوں تک وہ ٹاٹا اسٹیل فاؤنڈیشن میں ڈپٹی ڈورینٹل مینیجر کے عہدے پر فائز رہیں ۔ یہ سبق ان کی آپ بیتی سے لیا گیا ہے۔

Advertisement

خلاصہ سبق:

سبق "ایورسٹ کی فتح” میں بچندری پال” نے اپنے ایورسٹ کی چڑھائی کے تجربے کو کہانی کی صورت میں بیان کیا ہے۔وہ لکھتی ہیں کہ ایورسٹ کے لیے ان کی ٹیم 7 مارچ کو دہلی سے کھٹمنڈو روانہ ہوئیں۔ کھٹمنڈو میں کچھ روز قیام کے بعد وہ لوگ زیری کے لیے روانہ ہوئے۔ پیدل سفر کرتے آٹھ دن میں نامچے بازار پہنچے۔نامچے بازار شیر پالینڈ کا اہم۔قصبہ ہے۔ یہ نیپال میں واقع ہے۔ نیپالی لوگ اسے ساگر متھا کہتے ہیں۔

ایورسٹ پر برف کے بڑے بڑے تودے دیکھے جاسکتے تھے۔ان کا پھیر دس کلومیٹر سے بھی زیادہ لمبا ہو سکتا تھا۔26 مارچ کو پھریچے پہنچے۔ جہاں برفانی جھکڑ میں شیر پا قلی کے ہلاک ہونے کی اطلاع ملی۔اس خبر نے سب کو افسردہ کیا۔ مہم کے سربراہ کرنل کھلر نے کہا کہ کسی ایک حادثے سے ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ اور نہ ہی اپنے ارادے میں کوئی کمزوری آنے دینی چاہیے۔

صدر کیمپ پہنچنے سے پہلے کچن کے ملازم کی موت کی اطلاع ملی۔اگلے دن صدر کیمپ پہنچنے پر گلیشیر جے ذیلی سلسلوں کو دیکھا۔گلیشیر پہاڑوں پر جمی ہوئی برف کے مینار اور تودوں کا آبشار ہوتا ہے۔ جس می نقل و حرکت کی وجہ سے اکثر برف میں زلزلے آتے ہیں۔ نتیجتاً برف کی بڑی بڑی سلیں نیچے گرنے لگتی ہیں۔پہلا کیمپ چھے ہزار کلومیٹر کی بلندی پر گلیشیر سے ذرا اوپر تھا۔اسی شام اس مقام پر پہنچیی۔

ایک سکھ جو وہاں آئے ان کے مطابق وہ ایورسٹ کی چڑھائی میں ساتویں کو شش میں کامیاب ہوئے مگر میری یہ ایورسٹ پر جانے کی پہلی مہم تھی۔16 مئی بدھ کو ہم لہوتسے کی ڈھلان پر خیمہ انداز ہوئے۔لہوتے میں کیمپ کےا ندر مصنفہ کے علاوہ دس افراد اور تھے۔وہ گہری نیند میں تھیں۔رات کوئی ساڑھے بارہ کا وقت ہوگا جب کوئی بھاری شے ان کے سر کے پچھلے حصے سے ٹکرائی۔اس کے ساتھ ہی ایک بڑا دھماکہ ہوا۔

انھوں نے خود کو کسی بھاری شے تکے دبتا محسوس کیا۔وہ شے انھیں کچلے جا رہی تھی اور سانس لینا دشوار ہو رہا تھا۔ یہ ایک گلیشیر کی بڑی کات تھی جو ٹوٹ کر ان کے خیمے پر آ گری تھی۔برف کے ان بڑے تودوں کی وجہ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف بھی پاش پاش ہو نے لگی تھی۔ اس برف تلے قریباً سبھی دب گئے مگر خوش قسمتی سے کوئی بھی ہلاک نہ ہوا۔لوپسانگ نے اپنے چاقو کی مدد سے خیمہ پھاڑ کر۔ اہر ںکالا۔ کچن والا خیمہ محفوظ رہا۔ جہاں ہم نے چائے بنا کر پی۔اگلے روز امدادی ٹیمیں آ پہنچی۔چوٹ لگنے سے مصنفہ کے سر کے پیچھے گومڑ بن گیا۔

سب زخمیوں کو بیس کیمپ پہنچایا گیا۔ مصنفہ نے جانے سے انکار کیا۔ یوں چوٹی کو سر کرنے جانے والی واحد خاتون ممبر ہونے کا شرف ان کو حاصل ہوا۔اگلے روز چار بجے اٹھنے اور ہلکا پھلکا ناشتہ کرنے کے بعد وہ چوٹی سر کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔انگ ڈور جی کے ساتھ سفر کا آغاز کیا۔ چھ بج کر بیس منٹ تک دن نکل آیا۔ سورج کی کرنوں نے برف بھر بھری کر دی۔ بار بار برف کی کدال کا سہارا لینا پڑتا۔ دو گھنٹے سے کم میں چوٹی کیمپ میں پہنچ گئے۔

جنوبی چوٹی اور اس کے درمیانی حصے کے درمیان کی چڑھائی چوقو کی دھار جیسی تھی۔ جہاں بال برابر چوک آپ کا قصہ تمام کر سکتی تھی۔ یہ چڑھائی ہلاری اسٹیپ کہلاتی تھی۔ چوٹی کو اتنا قریب دیکھ کر انگ انگ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یہاں برف کی آندھی تھی۔ جس کی وجہ سے کچھ دیر رکنا پڑا۔ زرا دیر بعد آندھی کا زور ٹوٹ گیا۔ چڑھائی بس دو چار میٹر کی دوری پر تھی۔مصنفہ نے محسوس کیا کامیابی ان کے پاؤں چومنے کو ہے۔مصنفہ 23 مئی کو ایک بجکر سات منٹ پر ایورسٹ کی چوٹی سر کی اور وہاں پہنچی۔

سوالات:

نامچے بازار کہاں ہے۔ نیپالی لوگ اسے کیا کہتے ہیں؟

نامچے بازار شیر پالینڈ کا اہم قصبہ ہے۔ یہ نیپال میں واقع ہے۔ نیپالی لوگ اسے ساگر متھا کہتے ہیں۔

مصنفہ کے لیے لاما نے کیا دعا کی؟

مصنفہ کے لیے لاما نے کامیابی اور بخریت واپسی کی دعا کی۔

مہم کے سربراہ کرنل کھلر نے کیا مشورہ دیا؟

مہم کے سربراہ کرنل کھلر نے کہا کہ کسی ایک حادثے سے ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ اور نہ ہی اپنے ارادے میں کوئی کمزوری آنے دینی چاہیے۔

مصنفہ کی ایورسٹ پر جانے کی کونسی مہم تھی؟

مصنفہ کی ایورسٹ پر جانے کی پہلی مہم تھی۔

لہوتے میں مصنفہ کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا؟

لہوتے میں کیمپ کےا ندر مصنفہ کے علاوہ دس افراد اور تھے۔وہ گہری نیند میں تھیں۔رات کوئی ساڑھے بارہ کا وقت ہوگا جب کوئی بھاری شے ان کے سر کے پچھلے حصے سے ٹکرائی۔اس کے ساتھ ہی ایک بڑا دھماکہ ہوا۔انھوں نے خود کو کسی بھاری شے تلے دبتا محسوس کیا۔وہ شے انھیں کچلے جا رہی تھی اور سانس لینا دشوار ہو رہا تھا۔ یہ ایک گلیشیر کی بڑی کات تھی جو ٹوٹ کر ان کے خیمے پر آ گری تھی۔برف کے ان بڑے تودوں کی وجہ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف بھی پاش پاش ہو نے لگی تھی۔

ہلاری اسٹیپ کیسا تھا؟

جنوبی چوٹی اور اس کے درمیانی حصے کے درمیان کی چڑھائی چوقو کی دھار جیسی تھی۔ جہاں بال برابر چوک آپ کا قصہ تمام کر سکتی تھی۔ یہ چڑھائی ہلاری اسٹیپ کہلاتی تھی۔

مصنفہ کس تاریخ کو اور کس وقت ایوریسٹ کی چوٹی پر پہنچی؟

مصنفہ 23 مئی کو ایک بجکر سات منٹ پر ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچی۔

گلیشیر کیا ہوتا ہے؟

گلیشیر پہاڑوں پر جمی ہوئی برف کے مینار اور تودوں کا آبشار ہوتا ہے۔ جس میں نقل و حرکت کی وجہ سے اکثر برف میں زلزلے آتے ہیں۔ نتیجتاً برف کی بڑی بڑی سلیں نیچے گرنے لگتی ہیں۔