Advertisement
  • کتاب” اُردو گلدستہ”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر05: مضمون
  • مصنف کا نام: ابن انشا
  • سبق کا نام: چند مناظر قدرت

تعارف مصنف:

آپ کا اصل نام شیر محمد خان جبکہ قلمی نام ابنِ انشا ہے۔آپ کی پیدائش 1927ء میں جالندھر میں ہوئی۔ جبکہ 1979ء میں وفات ہوئی۔ابن انشا کا شمار جدید دور کے سب سے ممتاز مزاح نگاروں اور شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری پر ہندی روایت اور گیتوں کی زبان کا گہرا اثر ہے اور وہ اپنے رنگ میں منفرد ہیں۔

ان کے کئی شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں چاند نگر‘ کو سب سے زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ اسی طرح ان کی نثر کا ذائقہ بھی دوسرے مزاح نگاروں سے الگ ہے۔ مزاح پیدا کرنے کے لیے وہ لطیفوں کا سہارا نہیں لیتے ۔ ان کے بیان میں فطری بے ساختگی کا عنصر نمایاں ہے ۔ اسلوب سیدھا سادا ہے ۔ لیکن اپنی طباعی اور ذہانت سے وہ عام واقعات کے بیان میں بھی ہنسی اور لطف کا پہلو ڈھونڈ لیتے ہیں۔

Advertisement

ابن انشا اپنے سفر ناموں کے لیے خاص طور پر جانے جاتے ہیں ۔ ان کے سفر ناموں میں چلتے ہو تو چین کو چلیے‘ دنیا گول ہے ۔‘’ آوارہ گرد کی ڈائری‘، ابن بطوطہ کے تعاقب میں‘ اور نگری نگری پھرا مسافر بہت مشہور ہیں۔ ان کی دوسری کتابوں میں اردو کی آخری کتاب کو بہت شہرت ملی ۔ ” چند مناظر قدرت اسی کتاب سے ماخوذ ہے۔ ان کی کئی کتابوں کے ترجمے ہندی اور دیگر زبانوں میں بھی شائع ہو کر مقبول ہو چکے ہیں۔

Advertisement

خلاصہ سبق:

اس سبق میں ابن انشا نے قدرت کے چند اہم مناظر مثلاً آسمان،چاندستاروں ،ہوا،پہاڑ اور ابر وغیرہ کے متعلق بتایا ہے۔ان فطری مناظر کے بارے میں لکھتے ہوئے ان کے انداز تحریر میں ان کا خاص مزاحیہ رنگ برقرار ہے۔آسمان کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اتنا اونچا ہے کہ کوئی گرے تو بہت چوٹ آتی ہے۔ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا یہ لوگ نہ واپس اوپر جا سکتے اور نہ نیچے اس لیے اوپر بیٹھے کجھوریں کھا لیتے ہیں۔

Advertisement

جوں جوں چیزوں کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں تو وہ آسمان سے باتیں کرنے لگ جاتی ہیں۔پہلے آسمان پر صرف فرشتے تھے پھر ہما شما جانے لگے۔ راہ چلتے میں آسمان کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے کہ ٹھوکر لگے تو منھ کے بل گر جائیں۔آسمان پر سہانے ستاروں کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ستاروں کی کثرت سے گمان ہوتا ہے ہے جیسے میٹرک کا رزلٹ شائع ہوا ہ۔

عید کا پیغام دینے کے سوا چاند کا کوئی مصرف نہیں۔ ہلال کے چاند کے متعلق بتایا کہ لوگ اسے صرف عید اور بقر عید پر ہی دیکھتے ہیں۔ اس زمانے میں یہ چپ چاپ خود نکل آیا کرتا تھا۔ بعد میں لوگ اسے کدھیڑ کر نکالنے لگے۔اس کے لیے وہ آپس میں لڑتے تو چاند کے کیے بھی مشکل ہو جاتی کہ سرکار کی بات مانے یا لوگوں کی۔ کبھی شاعر اور چکور وغیرہ اس سے بات کرلیا کرتے تھے۔پہلے جہاں بجلی جاتی تھی وہاں یہ لالٹین کو کام کرتا تھا۔

Advertisement

لوگ چاند کو سونا سمجھ کر کالی مٹی کا تھیلا بھرلائے۔مگر اس سے اچھی ڈھیروں مٹی یہاں پا کر پچھتائے۔ہوا کے بارے میں لکھتے ہیں کہ سمجھ نہیں آتی اتنی ساری ہوا کہاں سے آئی اس پر تحقیق کے لیے ایک الگ محکمہ ہونا چاہیے۔ہوا کو عجیب چیز کہا ہے کہ یہ آگ کو جلاتی اور چراغ کو بجھاتی ہے۔جہاز اسی سےچلتے اور اسی سے ڈوبتے ہیں۔لوگوں کی زندگی کا مدار اس پر ہے کہ کھانا نہ ملے تو زندہ رہ لیں لیکن اگر ہوا نہ ملے تو مر جائیں گے۔

ہوا کے نقصانات بھی بتاتے ہیں کہ یہ انسان کو اونچا اڑاتی اور پھر زمین پر پٹخ دیتی ہے۔ہوا میں وزن بھی ہوتا ہے لیکن بہت کم۔ پہاڑ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ان پہاڑوں کو دیکھو جن کی چوٹیاں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ مگر بعض اوقات انھیں کھودوتو اندر سے چوہا نکلتا ہے۔اسے غنیمت جاننا چاہیے۔ پہاڑوں پر رہنے والوں کے بہت فائدے ہیں کہ فریج نہیں لینا پڑتا اور برف بھی وہیں سے اٹھائی اور پی لی۔ لیکن نو پہاڑ سر بلندی دکھاتے ہیں ان کے سر کاٹ کر لوگ سڑکوں پر بچھا دیتے ہیں۔

Advertisement

سخت پتھر چکی میں سرمہ بن جاتے ہیں۔ ابر کے حوالے سے لکھتے ہیں کہہ سائنس کے دور میں بچے بچے کو پتا ہے کہ ابر کیا ہے جس کے بارے میں غالب معلوم کرتے پھرتے تھے۔بعض لوگ ابر کو بلانے کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ابر کا جب دل چاہتا ہے وہ آ کر برس لیتا ہے۔وہ جس کھیتی پر چاہے برستا ہے۔کہیں تو وہ بلا ضرورت برستا ہے اور جہاں ضرورت ہوتی ہے لوگ ترستے رہ جاتے ہیں۔ابر کو چاہیے کہ جن کر برسے اور کچھ چھٹیں ہمارے کھیتوں پر بھی برسا جائے۔

سوالات:

آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا‘ سے کیا مراد ہے؟

آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا ایک محاورہ ہے۔جس سے مراد ہے کہ ایک مشکل سے نکلنے کے بعد دوسری مشکل میں پھنس جانا۔

Advertisement

“ستاروں کی کثرت سے گمان ہوتا ہے جیسے میٹرک کا رزلٹ شائع ہوا ہو۔ ستاروں کی کثرت اور میٹرک کے رزلٹ میں کیا بات یکساں ہے؟

ستاروں کی کثرت اور میٹرک کے رزلٹ میں مصنف نے ستاروں کی کثرت کو طالب علموں کو تعداد سے تشبیہ دی ہے کہ میٹرک میں جتںی کثیر تعداد میں طالب علم ہوتے ہیں اتنے ہی ستارے آسمان پر چمک رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح ستاروں کی طرح کچھ روشن ستارے طالب علم بہت کارگری حاصل کرنے کے بعد روشن ہو کر چمکتے ہیں۔

مصنف نے اپنے خاص مزاحیہ انداز میں چاند کے کیا مصرف بتائے ہیں؟

مصنف نے اپنے خاص مزاحیہ انداز میں بتایا کہ عید کا پیغام دینے کے سوا چاند کا کوئی مصرف نہیں۔ ہلال کے چاند کے متعلق بتایا کہ لوگ اسے صرف عید اور بقر عید پر ہی دیکھتے ہیں۔ اس زمانے میں یہ چپ چاپ خود نکل آیا کرتا تھا۔ بعد میں لوگ اسے کدھیڑ کر نکالنے لگے۔اس کے لیے وہ آپس میں لڑتے تو چاند کے کیے بھی مشکل ہو جاتی کہ سرکار کی بات مانے یا لوگوں کی۔ کبھی شاعر اور چکور وغیرہ اس سے بات کرلیا کرتے تھے۔پہلے جہاں بجلی جاتی تھی وہاں یہ لالٹین کو کام کرتا تھا۔لوگ چاند کو سونا سمجھ کر کالی مٹی کا تھیلا بھرلائے۔مگر اس سے اچھی ڈھیروں مٹی یہاں پا کر پچھتائے۔

Advertisement

اپنی اونچائی پر اترانے والے پہاڑوں اور انسانوں کا کیا انجام ہوتا ہے؟

اپنی اونچائی پر اترانے والے پہاڑوں اور انسانوں کو لوگ توڑ اور کاٹ کر قدوموں تلے روند دیتے ہیں۔

ابر کو اپنی مرضی کا مالک کیوں کہا گیا ہے؟

ابر کا جب دل چاہتا ہے وہ آ کر برس لیتا ہے۔وہ جس کھیتی پر چاہے برستا ہے۔کہیں تو وہ بلا ضرورت برستا ہے اور جہاں ضرورت ہوتی ہے لوگ ترستے رہ جاتے ہیں۔

Advertisement

ابن انشا نے ہوا کو عجیب چیز کیوں کہا ہے؟

ابن انشا نے ہوا کو عجیب چیز کہا ہے کہ یہ آگ کو جلاتی اور چراغ کو بجھاتی ہے۔جہاز اسی سےچلتے اور اسی سے ڈوبتے ہیں۔لوگوں کی زندگی کا مدار اس پر ہے کہ کھانا نہ ملے تو زندہ رہ لیں لیکن اگر ہوا نہ ملے تو مر جائیں گے۔

Advertisement

Advertisement