• کتاب” اُردو گلدستہ”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر03: داستان
  • مصنف کا نام: الف لیلہ سے ماخوذ
  • سبق کا نام: سںد باد جہازی کا دوسرا سفر

تعارف الف لیلہ:

دنیا کے مختلف علاقوں میں داستانیں سننے سنانے کی روایت عام رہی ہے۔ ہندستان میں کتھا سرت ساگر‘ پرانے قصوں کا معروف مجموعہ ہے ۔ عرب دنیا میں الف لیلہ کا مرتبہ بہت بلند ہے ۔ عربی میں یہ داستان الف لیلہ ولیلتے کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے ” ایک ہزار اور ایک راتیں ۔ الف لیلہ ایک قصه در قصہ داستان کا نام ہے جسے شہرزاد نامی ایک خاتون سے منسوب کیا جا تا ہے۔

روایت یہ ہے کہ شہرزاد کو قصے کے طول دینے میں زبردست ملکہ حاصل تھا اور ہر رات وہ اپنے قصے پر ایک ایسے موڑ پر لے جا کر چھوڑتی تھی جہاں سننے والے کا تجنس بڑھ جاتا تھا۔ اگلی رات قصہ پھر آگے بڑھتا تھا اور پھر اس میں ایک نیا موڑ آ جاتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ شہرزاد کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بادشاہ کی طرف سے اس کے زندہ رہنے کی شرط یہی تھی کہ داستان ختم نہ ہو۔

Advertisement

اس امتحان میں شہرزاد کھری اتری۔ اس لیے دنیا بھر کے بیانیہ ادب میں شہرزاد کا نام اب بجاۓ خود ایک لیجنڈ بن چکا ہے ۔ مغرب و مشرق کی تقریبا تمام اہم زبانوں میں الف لیلہ کا ترجمہ کیا جا چکا ہے ۔ یہ داستان بچوں کی سب سے پسندیدہ کتابوں میں ہے۔

خلاصہ سبق:

سند باد جہازی کے سبق میں سند باد کے دوسرے سفر کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے۔سند باد جہازی آرام کی زندگی سے اکتا گیا تھا۔ اس کا دل اس سے بار بار کہنے لگا کہ سفر کرو سفر میں ہی فائدے ہیں۔ نئے نئے شہر دیکھنے کا موقع ملے گا۔ اگر کسی شہر میں کوئی نایاب چیز مل گئی تو آدمی اسے دوسرے شہر میں بیچ کر لاکھوں کما سکتا ہے۔

لہذا اس نے سفر کا ارادہ کیا۔یوں اس نے کچھ سامان خریدا اور سفر کے لیے نکل گئے۔جہاز میں اور بھی کئی لوگ تھے۔ سند باد اور اس کے ساتھیوں کو اس سفر میں بہت منافع ہوا۔ایک دن جہاز ایک جزیرے کے کنارے رکا۔سند باد جزیرے کی سیر کے کیے گیا تو جہاز نکل گیا۔ جزیرے کی سیر کرتے ہوئے سند باد نے دیکھا کہ جگہ جگہ پھل دار درخت ہیں مگر جزیرہ ویران پڑا ہوا ہے۔قریب ہی ایک چشمہ بہہ رہا ہے۔وہاں اس نے گنبد کی طرح بڑی بڑی سفید دیواریں دیکھی۔

اس گنبد کی دیواریں بہت چکنی تھیں۔اندر جانے کے لیے کوئی دروازہ نہ تھا۔ یہ سفید گنبد سیمرغ کا انڈا تھا۔ سیمرغ ایک بہت بڑا پرندہ تھا۔ سند باد نے اسے دیکھ کر جزیرے سے نکلنے کی ترکیب سوچی۔جزیرے سے نکلنے کے لیے سند باد جہازی نے خود کو کس کر سیمرغ کے پاؤں سے باندھ لیا۔ جب سیمرغ اڑا تو سند باد کو بھی ساتھ لے کر اڑا اور اسے ایک وادی میں گرایا۔ جہاں ہر طرف ہیرے ہی ہیرے بکھرے تھے۔ وہاں گوشت کے ٹکڑے پڑے تھے۔

جزیرے میں گوشت کے ٹکڑے دیکھ کر سند باد کو یاد آیا کہ اس نے سن رکھا تھا کہ کسی جزیرے میں ایک وادی میں ہیروں کی کان ہے۔سند باد نے وہاں سے بہت سے ہیرے جمع کر کے اپنی چادر میں باندھ لیے۔اچانک اس نے اژدھے کی پکار سنی اور کئی اژدہے پھنکار رہے تھے۔ پھر اس پر گوشت کا ایک ٹکڑا آ گرا۔یہاں سے نکلنے کے لیے سند باد نے یہ ترکیب لگائی کہ اس نےگوشت کا ایک بڑا سا ٹکڑا اپنی کمر پر کس کے باندھ لیا۔پرندہ آیا اور گوشت کا ٹکڑا سمجھ کر اسے اٹھا کر لے گیا۔

جس سے سند باد اس وادی سے نکل کر اوپر آگیا۔سند باد نے باہر آنے پر شکر ادا کیا۔ ایک سوداگر بھاگا بھاگا آیا۔ سند باد نے اسے تمام معمالہ بتایا اور کہا کہ وہ اس سے ہیرے لے لے لیکن بدلے میں اسے کھانا کھلا دے۔سوداگر نے سند باد کی خوب خاطر تواضع کی اور اس سے ایک بھی ہیرا نہ لیا. پھر اس نے سند باد کے بغداد جانے کا انتظام بھی کر دیا اور با حفاظت اس کو جہاز پر سوار کروایا۔سند باد اس سفر سے مالا مال ہو کر لوٹا اور خدا کا شکرادا کیا۔

سوچیے اور بتایئے:

سند باد جہازی نے دوسرا سفر کیوں شروع کیا؟

سند باد جہازی آرام کی زندگی سے اکتا گیا تھا۔ اس کا دل اس سے بار بار کہنے لگا کہ سفر کرو سفر میں ہی فائدے ہیں۔ نئے نئے شہر دیکھنے کا موقع ملے گا۔ اگر کسی شہر میں کوئی نایاب چیز مل گئی تو آدمی اسے دوسرے شہر میں بیچ کر لاکھوں کما سکتا ہے۔ لہذا اس نے سفر کا ارادہ کیا۔

جزیرے کی سیر کرتے ہوۓ سند باد نے کیا کیا دیکھا؟

جزیرے کی سیر کرتے ہوئے سند باد نے دیکھا کہ جگہ جگہ پھل دار درخت ہیں مگر جزیرہ ویران پڑا ہوا ہے۔قریب ہی ایک چشمہ بہہ رہا ہے۔وہاں اس نے گنبد کی طرح بڑی بڑی سفید دیواریں دیکھی۔ اس گنبد کی دیواریں بہت چکنی تھیں۔اندر جانے کے لیے کوئی دروازہ نہ تھا۔ یہ سفید گنبد سیمرغ کا انڈا تھا۔سںد باد نے اس جزیرے میں ہیروں کی وادی بھی دیکھی۔

جزیرے میں گوشت کے ٹکڑے گرنے پرسند باد کو کیا یاد آیا؟

جزیرے میں گوشت کے ٹکڑے دیکھ کر سند باد کو یاد آیا کہ اس نے سن رکھا تھا کہ کسی جزیرے میں ایک وادی میں ہیروں کی کان ہے۔

جزیرے سے سند باد جہازی کس ترکیب سے نکلا تھا؟

جزیرے سے نکلنے کے لیے سند باد جہازی نے یہ ترکیب لگائی کہ پہلے تو اس نے خود کو کس کر سیمرغ کے پاؤں سے باندھ لیا۔ جب سیمرغ اڑا تو سند باد کو بھی ساتھ لے کر اڑا اور اسے ایک وادی میں گرایا۔ جہاں ہر طرف ہیرے ہی ہیرے بکھرے تھے۔ یہاں سے نکلنے کے لیے سند باد نے یہ ترکیب لگائی کہ اس نےگوشت کا ایک بڑا سا ٹکڑا اپنی کمر پر کس کے باندھ لیا۔پرندہ آیا اور گوشت کا ٹکڑا سمجھ کر اسے اٹھا کر لے گیا۔ جس سے سند باد اس وادی سے نکل کر اوپر آگیا۔

سوداگر نے سند باد کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟

سوداگر نے سند باد کی خوب خاطر تواضع کی اور اس سے ایک بھی ہیرا نہ لیا. پھر اس نے سند باد کے بغداد جانے کا انتظام بھی کر دیا اور با حفاظت اس کو جہاز پر سوار کروایا۔