Advertisement
  • .
  • 🔘سبق نمبر 10🔘
  • ▪️مضمون▪️
  • 🔘ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر🔘

⭕️ مندرجہ ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔

اقتباس 1 :

” تعلیم حاصل کرنے کے لیے امبیڈکر کو کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا مگر ان کے دل میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق اور محنت کا جذبہ تھا اس لیے وہ آگے ہی آگے بڑھتے گئے آخرکار اعلی تعلیم کے لیے انھیں انگلستان جانے کا موقع مل گیا انگلستان سے واپسی کے بعد ڈاکٹر امبیڈکر نے ملک سے سے چوتھا اور ذات پات کی تفریق مٹانے کے لیے کوششیں شروع کر دیں آپ کے اس لعنت نے ملک کو کافی نقصان پہنچا”۔

Advertisement

حوالہ : یہ سبق ہماری کتاب جان پہچان میں شامل ہے اس سبق "ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر” سے لیا گیا ہے۔

Advertisement

تشریح : جب تعلیم کے لیے ڈاکٹر امبیڈکر نے کوشش کی تو ان کو طرح طرح کی پریشانی ہوئی۔ مگر وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ان کو تعلیم کا شوق و جذبہ تھا۔ اس لیے وہ تعلیم میں آگے سے آگے قدم بڑھاتے رہیں۔ اور پھر اعلی تعلیم کے لئے وہ انگلینڈ بھی گئے۔ وہاں سے واپس آ کر انہوں نے اپنے ملک سے چھوت چھات، اونچ نیچ، اور ذات پات کی برادری کا فرق مٹانے کی کوشش شروع کردی۔ سچ تو یہ ہے کہ چھوت چھات، اونچ نیچ اور ذات پات کی وجہ سے ملک نے طرح طرح سے بہت نقصان اٹھایا تھا۔

Advertisement

⭕️ غور کیجئے۔

ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، یہاں ہر مذہب اور سماج کے لوگوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ قانونی طور پر کوئی بڑا اور کوئی چھوٹا نہیں ہے۔

⭕️ سوالات و جوابات

سوال 1 : ڈاکٹر امبیڈکر کا پورا نام کیا تھا؟ ان کا تعلق کس خاندان سے تھا؟

جواب : ڈاکٹر امبیڈکر کا پورا نام بھیم رام سکپال تھا۔ ان کا تعلق مہاراشٹر کے مہار خاندان سے تھا۔

Advertisement

سوال 2 : بھیم راؤ کے نام میں امبیڈکر کیوں شامل ہے؟

جواب : بھیم راؤ جس اسکول میں پڑھتے تھے وہاں ایک امبیڈکر نام کے استاد تھے، وہ کسی سے بھید بھاؤ اور تفریق کا برتاؤ نہیں کرتے تھے اور وہ بھیم راؤ کو پسند کرتے تھے۔ استاد شاگرد کا یہ رشتہ یہاں تک پہنچا کہ بھیم راؤ اپنے نام کے ساتھ امبیڈکرلگانے لگے۔

سوال 3 : چھوت چھات سے ملک کو کیا نقصان پہنچا؟

جواب : چھوت چھات کی وجہ سے ملک کے افراد کی بہت بڑی تعداد غریبی اور جہالت کا شکار ہوگئی۔

Advertisement

سوال 4 : بھیم راؤ امبیڈکر کا سب سے بڑا کارنامہ کیا ہے؟

جواب : بھیم راؤ امبیڈکر کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ ان کی سرپرستی میں ملک کا جمہوری دستور تیار ہوا ہے۔

⭕️ قواعد :

صرف جانداروں میں ہی مزکر اور مؤنث نہیں ہوتے بلکہ بے جان چیزوں میں بھی مزکر اور مؤنث ہوتے ہیں۔ دروازہ، کھڑکی، دیوار، مکان یہ چیزیں بے جان ہیں۔ ان میں دروازہ اور مکان مزکر ہیں اور کھڑکی و دیوار مؤنث ہیں۔

Advertisement

⭕️ نیچے دیے ہوئے لفظوں میں مزکر اور مؤنث چھانٹ کر لکھیے۔

﴿راستہ، مصیبت، موقع، تعلیم، ظلم، رکاوٹ، خوف، محنت، جہالت، قوم﴾

مزکر :موقع, راستہ, ظلم, خوف
مؤنث:مصیبت, تعلیم , رُکاوٹ , محنت , جہالت , قوم

⭕️ خالی جگہوں کو مناسب لفظوں سے بھریے۔

  • 1 . امبیڈکر کا اصل نام….. بھیم راؤ سکپال….. تھا۔
  • (بھیم راؤ امبیڈکر/بھیم راؤ سکپال)
  • 2 . تعلیم حاصل کرنے کے لیے امبیڈکر کو کئی….. رکاوٹوں….. کا سامنا کرنا پڑا۔
  • (رُکاوٹوں/ مجبوریوں)
  • 3 . چھوت چھات کی….. لعنت….. نے ملک کو کافی نقصان پہنچایا۔
  • (لعنت/پھٹکار)
  • 4 . سماج میں باعزت زندگی گزارنے کے لیے….. تعلیم….. بیحد ضروری ہے۔
  • (ترقی/تعلیم)

⭕️ عملی کام :

سوال : ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی حالات زندگی پر مختصر مضمون تحریر کریں۔

ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا اصل نام بھیم راؤ سکپال تھا۔ یہ 14 اپریل 1891ء کو مدھیہ پردیش کے ایک قصبہ مہو میں پیدا ہوے۔ ان کا تعلق مہاراشٹر میں رہنے والے مہار خاندان سے تھا۔ ان کے زمانے میں چھوت چھات اور اونچ نیچ کا ماحول بہت گرم تھا۔

Advertisement

ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایک روز بہت زور کی بارش ہو رہی تھی امبیڈکر بارش سے بچنے کے لیے وہ ایک مکان کے ساۓ میں کھڑے ہوۓ تو اس مکان مالکن ایک عورت نے امبیڈکر کو خوب ڈانٹ دیا تو اس وقت امبیڈکر کو چھوت چھات کی لعنت کا احساس ہوا۔

بھیم راؤ اپنے استادوں کا بہت احترام کرتے تھے۔ ایک امبیڈکر نامی استاد بھیم راؤ سے محبت کرتے تھے اس لیے بھیم راؤ کے نام کے ساتھ امبیڈکر جڑ گیا۔

Advertisement

بھیم راؤ کو تعلیم کا بہت شوق تھا۔ اس میدان میں وہ لگاتار آگے بڑھتے رہے اور انگلینڈ بھی تعلیم حاصل کرنے گئے۔ امبیڈکر انگلینڈ سے واپس آکر ملک سے چھوت چھات اور ذات پات کی تفریق کو ختم کرنے کا زبردست کام کیا۔ امبیڈکر نے کمزور انسانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف جم کر آواز اٹھائی۔ امبیڈکر کا نظریہ یہ تھا کہ باعزت زندگی گزارنے کے لیے تعلیم بہت ضروری ہے۔ ان کا انتقال 6 دسمبر 1954ء میں ہوا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کا جمہوری دستور انہی کی سرپرستی میں تیار ہوا ہے۔ ان کو دستورِ ہند کا معمار بھی کہا جاتا ہے۔

تحریر🔘 ارمش علی خان محمودی بنت محمد طیب عزیز خان محمودی🔘
Advertisement

Advertisement

Advertisement