Advertisement
  • کتاب” اپنی زبان”برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر07:نظم
  • شاعر کا نام: افسر میرٹھی
  • نظم کا نام:بہار

نظم بہار کی تشریح:

آیا ہے بہار کا زمانہ
باغوں کے نکھار کا زمانہ

یہ شعر حامد اللّٰہ افسر میرٹھی کی نظم ” بہار “سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بہار کا زمانہ آیا۔بہار چونکہ خوبصورتی کا موسم ہو تا ہے جس کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف پھول کھل جاتے ہیں۔ اس لیے شاعر نے اسے باغوں کے نکھار یعنی باغوں کے حسن کا دوبالا ہو جانے کا زمانہ کہا ہے۔

Advertisement
کلیاں کیا کیا چٹک رہی ہیں
ساری روشیں مہک رہی ہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بہار کی آمد کے ساتھ ہی باغ میں موجود پھولوں کی کلیاں چٹک چٹک کر کھلنے لگ گئیں۔ان کلیوں کے کھلنے سے باغ میں موجود تمام کیاریوں کا راستہ خوبصورت اور دلکش نظارے پیش کرنے لگا۔

Advertisement
ہلکی ہلکی یہ ان کی خوشبو
پھیلی ہوئی ہے چمن میں ہر سو

شاعر کہتا ہے کہ پھولوں کی کلیوں کے کھل جانے سے ان کی مہک کا اثر فضا میں پوری طرح سے پھیل گیا۔ باغ میں ہر طرف ان کلیوں کی ہلکی ہلکی خوشبو پھیل گئی۔

چڑیاں گاتی ہیں گیت پیارے
سنتے ہیں چمن میں پھول سارے

شاعر اس شعر میں بہار کے منظر کی دلفریبی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ بہار کی آمد کے ساتھ ہی چڑیاں اپنے خوبصورت نغمے گانے میں لگ گئیں۔ باغ میں موجود تمام پھول ان کے یہ خوبصورت نغمے سننے میں مشغول نظر آنے لگے۔

Advertisement
کتنی راحت فزا ہوا ہے
گویا جنت کا در کھلا ہے

اس شعر میں شاعر بہار کو نہاث خوبصورت کہتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ بہار کا نظارہ اس قدر خوشی کو بڑھانے والا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے گویا جنت کا کوئی دروازہ کھول دیا گیا ہو۔یعنی سب کچھ بہت خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔

خوش خوش ہر ایک آدمی ہے
ہر شے میں بلا کی دل کشی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بہار نے نہ صرف مناظر فطرت کو نکھارا اور دلکش بنایا ہے بلکہ اس کی وجہ سے ہر آدمی کے چہرے پر بھی خوشی جھلکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز میں بہت زیادہ خوبصورتی اور دلکشی دکھائی دیتی ہے۔

Advertisement
کیسی دلچسپ چاندنی ہے
چادر اک نور کی تنی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بہار کا موسم ہے اور چاند کی چاندنی اتنی دلفریب ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ چاندنی نہیں بلکہ کوئی نور کی چادر تنی ہوئی ہو۔

ہر دل میں امنگ کس قدر ہے
سب پر ہی بہار کا اثر ہے

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ سب کے دلوں میں ایک امنگ،جوش و ولولے اور تروتازگی کی کیفیت ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بہار کا اثر محض مناظر فطرت پر نہیں ہوا بلکہ ہر زی روح اس کے زیر اثر ہے۔

Advertisement
سڑکوں پہ جو لوگ جا رہے ہیں
غزلیں افسرؔ کی گار رہے ہیں

اس شعر میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ بہار کی دلفریبی کا اندازہ اس سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ سڑکوں پر جو لوگ جا رہے ہیں وہ بھی میری یعنی افسر کی غزلیں گاتے ہوئے جا رہے ہیں۔

سوچیے اور بتایئے:

باغوں پر نکھار آنے کی کیا وجہ ہے؟

باغوں کے نکھار کی وجہ بہار کا موسم ہے۔

Advertisement

روشیں کیوں مہک رہی ہیں؟

بہار کی آمد کی وجہ کلیوں کے چٹکنے سے روشیں مہک رہی ہیں۔

جنت کا در کھلا ہونے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

جنت کا در کھلا ہونے سے مراد بہار کی آمد کی وجہ چلنے والی راحت افزا ہوا جنت کی ہوا محسوس ہوتی ہے۔

Advertisement

چاندنی کیسی لگ رہی ہے؟

چاندنی دلچسپ منظر پیش کرتی ہے یوں جیسے نور کی چادر تنی ہو۔

سڑکوں پر جانے والے لوگ کیا گا رہے ہیں؟

سڑکوں پر جانے والے لوگ افسر میرٹھی کی غزلیں گا رہے ہیں۔

Advertisement

مصرعے مکمل کیجیے۔

آیا ہے بہار کا زمانہ
کلیاں کیا کیا چٹک رہی ہیں
چڑیاں گاتی ہیں گیت پیارے
گویا جنت کا در کھلا ہے

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

نکھاربہار کی آمد سے ہر سو نکھار آیا۔
چٹکپھولوں کی کلیاں چٹک رہی تھیں۔
مہکپورا گھر پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔
ہر سوباغ میں ہر سو بہار کے رنگ بکھرے ہوئے تھے۔
دلکشیچاندنی رات باغ کی دلکشی میں اضافہ کر رہی تھی۔
چاندنیچاند کی چاندنی اندھیری رات کو روشن بنا رہی تھی۔
امنگاس میں جینے کی امنگ جاگ اٹھی۔

مصرعوں کو صحیح ترتیب سے لکھ کر شعر مکمل کیجیے۔

آیا ہے بہار کا زمانہ
گویا جنت کا در کھلا ہے
ہر دل میں امنگ کس قدر ہے
باغوں کے نکھار کا زمانہ
کتنی راحت فزا ہوا ہے
سب پر ہی بہار کا اثر ہے

صحیح ترتیب

آیا ہے بہار کا زمانہ
باغوں کے نکھار کا زمانہ
ہر دل میں امنگ کس قدر ہے
سب پر ہی بہار کا اثر ہے
کتنی راحت فزا ہوا ہے
گویا جنت کا در کھلا ہے

عملی کام:، اس نظم کے ان اشعار کا مفہوم لکھیے جو آپ کو پسند ہوں۔

کتنی راحت فزا ہوا ہے
گویا جنت کا در کھلا ہے

اس شعر میں شاعر بہار کو نہاث خوبصورت کہتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ بہار کا نظارہ اس قدر خوشی کو بڑھانے والا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے گویا جنت کا کوئی دروازہ کھول دیا گیا ہو۔یعنی سب کچھ بہت خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔

Advertisement
کلیاں کیا کیا چٹک رہی ہیں
ساری روشیں مہک رہی ہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بہار کی آمد کے ساتھ ہی باغ میں موجود پھولوں کی کلیاں چٹک چٹک کر کھلنے لگ گئیں۔ان کلیوں کے کھلنے سے باغ میں موجود تمام کیاریوں کا راستہ خوبصورت اور دلکش نظارے پیش کرنے لگا۔

اپنے پسندیدہ موسم پر پانچ جملے لکھیے۔

  • میرا پسندیدہ موسم “موسم سرما” ہے۔
  • موسم سرما میں گرمی کی پر یشانی نہیں ستاتی ہے۔
  • موسم سرما میں مونگ پھلی اور مالٹے کھانے کا لطف آتا ہے۔
  • موسم سرما میں کیڑے مکوڑوں اور مکھی مچھروں سے نجات ملتی ہے۔
  • موسم سرما میں گرم دھوپ بہت بھلی معلوم ہوتی ہے۔
  • موسم سرما میں شدید ٹھنڈ بھی ایک الگ طرح کے لطف سے دوچار کرتی ہے۔

Advertisement