• سبق : خطوط غالب
  • مصنف : اسد اللہ خان غالب

سوال ۱ : مندرجہ ذیل فقروں کے مفہوم کی وضاحت کیجیے۔

(ا) یہ ایک شیوہ فرسودہ ابنائے روزگار کا ہے؟

مفہوم

یہ ایک پرانا دستور ہے کہ اگر کسی کا انتقال ہوجاتا ہے تو اس کے گھر والوں کو صبر کی تلقین کی جاتی ہے۔

(ب) اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ بے سروپا کس کو کہتے ہیں تو میں کہوں گا مرزا یوسف کو۔

مفہوم

اس جملے میں مرزا غالب نے مرزا یوسف کو بےسروپا کہا ہے کیونکہ ان کے بیٹے اور والد کا انتقال ہوگیا ہے، اور اب وہ بےسروپا یعنی بے آسرا اور بے یار و مدگار ہیں۔

سوال ۲ : مرزا غالب نے میر مہدی مجروح کو جو خط لکھا ہے اس میں کون سے دو خاص امور کا ذکر کیا ہے؟

جواب : مرزا غالب نے میر مہدی مجروح کو جو خط لکھا ہے اس میں انہوں نے اپنے مسودے کے چھپنے، اس کی قیمت ، دیگر معلومات اور اپنی پینشن ملنے کا ذکر کیا ہے۔

سوال ۳ : مندرجہ ذیل کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

الفاظجملے
دلائل و قرائندلائل و قرائن کی مدد سے مرزا غالب کو بے گناہ قرار دیا گیا۔
استحقاقوالد کی جائداد پر اولاد کا استحقاق ہوتا ہے۔
اہلِ نظرکتب کی خوبصورتی اہلِ نظر ہی دیکھ سکتے ہیں.
وقوعریل کا حادثہ کل شام وقوع پذیر ہوا۔
تہی دستاولاد کی وفات کے بعد والدین تہی دست رہ جاتے ہیں۔

سوال ۴ : غالب نے مرزا یوسف کے والد کے انتقال پر جو تعزیت کی ہے اس میں ان کی شوخی طبع کس طرح جھلکتی ہے؟

جواب : غالب نے مرزا یوسف کے والد کے انتقال پر جو تعزیت کی ہے اس میں ان کا شوخ انداز نظر آتا ہے۔ وہ مزرا یوسف سے کہتے ہیں کے تمہارے باپ کے مرنے پر کیا لکھوں۔ زمانہ قدیم کی فرسودہ رسم ہے کے لوگ میت پر رشتے داروں کو صبر کی تلقین دیتے ہیں کہ صبر کرو، مگر ایسے وقت میں صبر کہاں سے آتا ہے۔ انہوں نے خط میں مرزا یوسف کو بے سروپا بھی لکھا ہے۔

سوال ۵ : کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب نے خط لکھنے کا ایک نیا پیرایہ اختیار کیا اور مراسلے کو مکالمہ بنا دیا۔ بتائیے یہ کہاں درست ہے؟

جواب : یہ بات بلکل سچ ہے کہ مرزا غالب نے خط لکھنے کا ایک نیا پیرایہ اختیار کیا اور مراسلے کو مکالمہ بنا دیا کہ مراسلے کی جگہ اب خط میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ لوگ آمنے سامنے ہیں اور ان کے درمیان مکالمہ یعنی بات چیت ہورہی ہے۔

سوال ٦ : ذیل کے الفاظ کے واحد یا جمع لکھیے :

الفاظجمع
دلیلدلائل
طبعاطباع
وظیفہوظائف
قرینہقرائن
حقحقوق
ذخیرہذخائر
نجمانجم
قندیلقنادیل
وقیعتوقائع

سوال ۷ : آپ مندرجہ ذیل سابقوں اور لاحقوں کی مدد سے کم از کم تین تین نئے لفظ بنائیے :

سابقے :

نونوجوان ، نوعمر ، نوخیز۔
کمکم عمر، کم تر ، کمزور۔
بدبد کردار ، بد اخلاق ، بدبودار۔

لاحقے

سازکار ساز، زمانہ ساز، بہانہ ساز۔
زارراہگزار، سبزہ زار، گل زار۔
ناکدردناک ، خطرناک ، عبرت ناک۔