Advertisement

خاکہ کلیم الدین احمد کا خلاصہ:

احمد جمال پاشا نے "کلیم الدین احمد” کے نام سے اردو ادب کے نامور نقاد کا قلمی خاکہ تحریر کیا ہے۔ ان کا کلیم الدین احمد سے ابتدائی تعارف ان کے زمانہ طالب علمی میں آل احمد سرور کے ذریعے ہوا۔ یہ چونکہ سرور صاحب کے شاگرد تھے اور سرور صاحب کو ہر وقت ایک سفید کور میں ملفوف ایک کتاب کے مطالعہ میں مصروف پاتے۔

ایک روز ان شاگردوں نے یہ کتاب چرائی تو معلوم ہوا کہ یہ کلیم الدین احمد کی کتاب ”اردو تنقید پر ایک نظر“ ہے۔آل احمد سرور سے جب انھوں تنقید اور ناقدین اور پھر بالخصوص کلیم الدین احمد پر گفتگو کی تو آل احمد سرور کے مطابق کلیم الدین دور حاضر کے نامور ناقدین میں شامل ہیں۔ ان کی تنقید تو اعلیٰ پائے کی ہے مگر ان کا انداز جارحانہ ہے۔وہ اصول تنقید پر زور دینے والے ناقد ہیں مگر خود اصولوں پر کم چلتے ہیں۔

کلیم الدین احمد کے اس تعارف سے احمد جمال پر کلیم الدین کے دہشت پسند نقاد ہونے کا تاثر قائم ہوا۔ کلیم الدین سے ان کا دوسرا تعارف نقوش میں سرور صاحب پر کلیم الدین کے لکھے گئے مضمون سے ہوا۔ اس مضمون کے باعث سرور صاحب کی حالت ایسی ہو گئی کہ جیسے وہ بیمار ہوں اور تعزیت کے انداز میں عیادت کے لیے کئی لوگ آ رہے تھے جو آ آ کر اس مضمون پر اپنا تبصرہ کرتے۔

Advertisement

کچھ عرصہ بعد ہی کلیم الدین احمد کا پھر سے چرچا ہوا اور اب کی بار ان کا تازہ نقوش کے پرچے میں احتشام حسین کے متعلق تنقیدی مضمون شائع ہوا۔ادب حلقوں میں دوبارہ سے گرمی کا ماحول دیکھنے کو ملا۔بعد میں ایم اے کے نصاب میں باقاعدہ کلیم الدین کی کتب اردو شاعری پر ایک نظر اور اردو تنقید پر ایک نظر سے تعارف ہوا۔دوران تعلیم میں نے کپور کا فن کے نام سے پیروڈی تحریر کی اور اس میں کلیم الدین احمد کے انداز کی پیروڈی بھی کی۔ اس کی ایک کاپی جب کلیم الدین احمد کو ارسال کی تو میری توقع کے برعکس انھوں نے نہ صرف اسے پڑھا بلکہ مجھے جوابی خط ارسال کیا اور اس تحریر جی تعریف کی۔میرے فن کو سراہا اور یہ کہا کہ اردو کے کئے یہ ایک نئی چیز ہے اس کئے میں اسے جاری رکھوں۔

زمانہ طالب علمی میں ان کی جانب سے یہ حوصلہ افزائی ایک بڑا اعزاز تھی۔پہلی بار ان کو دیکھنے کا موقع پٹنہ یونیورسٹی میں غالب صدی کی تقریبات کے دوران ہوا۔ان کا قد بونا تھا دیکھنے میں سرخ و سفید بزرگ تھے۔مزاج کے حوالے سے سنجیدہ،متین، خاموش اور پروقار شخصیت کے مالک تھے۔اس اجلاس کے بعد ان کے گھر جاکر ان سے ملاقات کا موقع بھی ملا۔وہاں خواجہ احمد فاروقی،ڈاکٹر خالد رشید صبا،ڈاکٹر ممتاز احمد اور طیب ابدالی وغیرہ شامل تھے۔

یہاں ان سے ملاقات بہت خوب رہی انہوں نے مجھ سے مختصر خاکے کے فن پر بھی بات کی۔اس کے بعد ان کی طرف میرا آنا جانا رہتا۔اردو بورڈ کی لغت کا دفتر اور لغت سازی کا بہت سا سامان ان کے گھر پر موجود تھا۔ میں نے ان سے دو سفارشات کی انہوں نے میرا کام ہمیشہ خوش اسلوبی سے کیا۔ جب بھی میں ان سے ملنے جانا مجھے معاصر کا نیا شمارہ دیتے۔ان کے میرے پاس سیوان آنے سے چند روز قبل ان کا انتقال ہوا مگر آج بھی ان کا خیال مجھے افسردہ کر دیتا ہے۔

اردو دنیا کے خزانے میں ان کی حثیت کو نور کی سی ہے۔ہمیں ان کے انداز اور تحریروں سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ان کے علمی ذخیرے میں بھی بے شمار نادر کتب موجود تھیں۔ان کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔بزرگوں میں جن سے بہت کچھ حاصل کیا وہ مجھے بہت عزیز تھے۔

سوالات:

سوال نمبر 1:احمد جمال پاشا نے کلیم الدین احمد کی تنقیدی اہمیت کے بارے میں کیا لکھا ہے؟

احمد جمال پاشا ،کلیم الدین احمد کی تنقیدی اہمیت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اردو ادب کے خزانے میں کلیم الدین کی حیثیت کوہ نور کی ہے۔وہ اصول تنقید پر زور دیتے تھے۔متن اور شخصیت کے مطالعے پر بھی ان کا زور تھا۔ان کی تنقید کا انداز ڈیمو لیشن ایکسپرٹ تھا۔اس کی ادب میں بہت اہمیت اور ضرورت ہے۔احتساب اور گرفت کا فن ان پر ختم ہو گیا ۔ہم ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

سوال نمبر 2: پیروڈی کے فن پرکلیم الدین احمد کے خیالات کیا ہیں؟ لکھیے۔

پیروڈی کے فن کے حوالے سے کلیم الدین احمد کا خیال تھا کہ یہ اردو کے لیے ایک نئی چیز ہے۔پیروڈی شاہکاروں کی ہوتی ہے اورکارٹون کا فن ہے۔ احمد جمال پاشا کی پیروڈی پر انھوں نے رائے دی کہ اس کا انداز استہزایہ نہیں بلکہ اسلوب کو نمایاں کرنے کا ہے۔ان کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مغربی ادب کے مطالعے سے دلچسپی رکھتے ہیں۔اس لیے وہ پیروڈی کے فن کو ترقی دیں۔

سوال نمبر 3:’میزان نقد کے دونوں پلڑے برابر کرتے رہے’ اس کی تفصیل اس سبق کی روشنی میں بیان کیجیے۔

‘میزان نقد کے دونوں پلڑے برابر کرتے رہے’ احمد جمال نے اس جملے کے ذریعے آل احمد سرور کے کلیم الدین احمد کی تنقید کے بارے میں خیالات کا اظہار کیا ہے۔کیوں کہ آل احمد سرور کے مطابق کلیم الدین احمد کی تنقید اس پائے کی ہے کہ موجودہ وقت میں صرف انہی کا شہرہ ہے مگر وہ ان کی بہت سی باتوں سے اختلاف رائے رکھتے ہیں جیسا کہ کلیم الدین اصول تنقید پر زور دیتے ہیں مگر خود اس پر کم ہی چلتے ہیں وغیرہ۔آل احمد سرور احمد جمال پاشا اور دیگر شاگردوں سے تا دیر کلیم الدین احمد کے تنقیدی فن کے متعلق باتیں کرتے رہے جس کے حوالے سے مصنف نے یہ جملہ تحریر کیا۔

سوال نمبر 4:احمد جمال پاشا نے کلیم الدین احمد کی ذاتی لائبریری کے بارے میں کون سی اطلاع دی ہے؟ بتایئے۔

احمد جمال پاشا نے کلیم الدین احمد کی ذاتی لائبریری سے متعلق لکھا ہے کہ ان کے ذاتی علمی ذخیرے میں نادر و نایاب کتب موجود ہیں۔ شکسپیئر کی کتابوں کے بیشتر پہلے اور نادر ایڈیشن یہاں موجود ہیں جو انہوں نے مجھے دکھائے۔ان کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔

سوال نمبر 5:اس خاکے میں اردو ادب سے متعلق جن شخصیات کا ذکر ہوا ہے،ان میں سے پانچ کے بارے میں تین تین جملے لکھیے۔

الطاف حسین حالی:

الطاف حسین حالی کا شمار اردو کے ارکانِ خمسہ میں ہوتا ہے۔ آپ نے مقدمہ شعر و شاعری کے نام سے شاعری کے تنقیدی اصولوں پر مشتمل کتاب لکھی۔ الطاف حسین حالی اردو میں سوانحِ نگاری کے حوالے سے بھی ایک بڑا نام ہیں۔ یادگار غالب،حیات جاوید اور حیات سعدی اس حوالے سے مشہور کتب ہیں۔

مولانا شبلی نعمانی:

مولانا شبلی نعمانی کا شمار اردو ادب کے ارکانِ خمسہ میں ہوتا ہے۔ آپ نے المامون،الفاروق،الغزالی،سیرت نعمان اور سیرت النبی وغیرہ لکھیں۔ شعر العجم اور موازنہ انیس و دبیر ان کی تنقیدی کتب ہیں۔

ڈاکٹر سید عبداللہ:

ڈاکٹر سید محمد عبد اللہ نے اورینٹل کالج لاہور میں مختلف خدمات سر انجام دیں جن میں تدریس کے علاوہ صدر لائبریرئین کی خدمات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جامعہ پنجاب کے دائرۃ المعارف الاسلامیہ کے صدرنشین اور مدیر اعلیٰ بھی رہے اور اس منصوبے پر انہوں نے کافی محنت کی تھی۔
پروفیسر احتشام حسین:-احتشام حسین ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ادیب، نقاد اور افسانہ نگار ہیں۔ان کی کتابوں میں اردو لسانیات کا خاکہ، تنقیدی جائزے،تنقیدی نظریات،روایت اور بغاوت اور ادب اور سماج وغیرہ شامل ہیں۔نظریا تی حوالے سے احتشام حسین ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے۔

رشید احمد صدیقی:

مزاح نگاری کی صنف میں رشید احمد صدیقی ایک نمایاں نام ہیں۔آپ کی تصانیف میں "خنداں”، گنج ہائے گراں نمایاں” اور "مضامین رشید” وغیرہ شامل ہیں۔رشید احمد اردو ادب میں ایک روایت کی حیثیت رکھتے ہیں۔

عملی کام:-

سوال: اس خاکے سے ظریفانہ اور سنجیدہ حصوں کو الگ الگ کر کے لکھیے۔

اس خاکے کا ابتدائی حصہ ظریفانہ انداز لیے ہوئے ہے۔ جب احمد جمال پاشا زمانہ طالب علمی میں آل احمد سرور کے ذریعے کلیم الدین احمد سے متعارف ہوئے۔جب مصنف نے باقاعدہ طور کلیم الدین احمد سے ملاقات کر لی تو اس کے بعد کی ان کی تحریر سنجیدہ حصے پر مبنی ہے۔