Advertisement

سوال نمبر 1: اس نظم کا خلاصہ مختصراً تحریر کیجیے۔

شاعر شفیع الدین نیر نے اس نظم میں اپنے وطن کی تعریف کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہاں طرح طرح کے خوبصورت اور خوش آواز پرندے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں جھیلں ،جھرنے، دریا ،سرسبز جنگل اور پہاڑ ہیں۔ الغرض میراوطن بہت خوبصورت ہے جس کو قدرت نے ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے۔ وطن میں طرح طرح کا اناج میوے اور ترکاریاں اگتی ہیں۔ یہاں کی زمین نہایت زرخیز ہے۔

Advertisement

شاعر وطن کے پہاڑوں ، جنگلوں ،ندیوں ،نالوں اور چشموں کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنے وطن کو دیکھ کر جنت کا گمان ہوتا ہے۔ یہ جنت سے کم نہیں ہے یہ ہر طرح کی خوبیوں سے مالا مال ہے۔

Advertisement

اس نظم کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر 2: نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔ الفاظ جملے

الفاظجملے
دریادریائے جہلم ایک بہت ہی خوبصورت دریا ہے۔
پہاڑخطہ پیر پنجال میں بہت اونچے اونچے پہاڑ پائے جاتے ہیں۔
وطنمیرا وطن ہندوستان بہت خوبصورت ہے۔
منظرجب میرے پاپا ڈیوٹی سے گھر آتے ہیں تو اس وقت کا منظر بہت حسین ہوتا ہے۔
چمنمیرے گھر کا چمن بہت خوبصورت ہے۔
سماںوادی کشمیر میں موسم گرما کا سماں بہت حسین ہوتا ہے۔

سوال نمبر 3: املا درست کیجئے۔

غلطصحیح
ترقاریاںترکاریاں
باگوںباغوں
منضرمنظر
وتنوطن
صر سبزسرسبز

سوال نمبر4: مصرعہ مکمل کیجئے۔

” بچھڑیاں وہ طوطا( وہ مینا وہ مور)
وہ کوئل وہ بلبل( وہ قمری چکور )
وہ سرسبز اس کے( پہاڑ اور بن)
(یہ میرا وطن ہے) یہ میرا وطن“

Advertisement

سوال نمبر 5: مصروں کو صحیح ترتیب سے لکھ کر مکمل کیجپے۔

” وہ غلے وہ میوے وتر کاریاں (وہ خوش رنگ پھولوں کی گل کاریاں)
کہاں تک بیاں اس کی ہو خوبیاں ( ہے فردوس کا اس چمن پر گماں)
وہ سر سبز باغوں کی پھلواریاں( وہ سیراب اور خوش کیاریاں)
وہ جھیلوں کی لہریں وہ دریا کا شور( وہ جھرنوں کا گرنا اور پانی کا شور)“

Advertisement

Advertisement

Advertisement