Advertisement

کتاب”گلزارِ اردو”برائے نویں جماعت۔

Advertisement

تعارف مصنف:

علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ جبکہ 1938ء میں آپ نے وفات پائی۔علامہ اقبال کی ابتدائی تعلیم مشن سکول اینڈ کالج سیالکوٹ سے ہوئی۔آپ نے فلسفہ اور علوم جد ید کی تعلیم لاہور سے حاصل کی۔جبکہ اعلی تعلیم کے لیے ولایت کا سفر کیا۔کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی ڈگری حاصل کی جبکہ جرمنی سے ڈاکٹریٹ اور لندن سے بیرسٹری کی تعلیم حاصل کی۔

Advertisement

آپ نے شاعری کا آغاز اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی کر دیا تھا۔آپ کی ابتدائی دور کی شاعری کا نمایاں موضوع قومیت تھا۔ جب کہ بعد میں ان کی توجہ فلسفہ پر مرکوز ہوئی۔ علامہ اقبال نے اردو شاعری کو ایک نیا رنگ و آہن عطا کیا۔ان کی شاعرانہ عظمت کی بنا پر ان کو برطانوی سرکار کی طرف سے "سر” کا خطاب بھی دیا گیا۔

ان کی اردو شاعری کے چار مجموعے بال جبریل، ضرب کلیم،بانگ درا اور ارمغان حجاز ہیں۔ جبکہ فارسی میں جاوید نامہ، پیام مشرق،اسرار خودی، رموز بے خودی وغیرہ اہم ہیں۔آپ کا شمار اردو اور فارسی کے عظیم شاعروں میں ہوتا ہے۔آپ بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں لیکن اعلی پائے کی غزلیں بھی آپ کے کلام کا حصہ ہیں۔آپ کی شاعری کے بنیادی تصورات خودی، بے خودی،عقل و عشق، مرد مومن اور وطنیت و قومیت وغیرہ ہیں۔

Advertisement

غزل کی تشریح:

پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغ چمن

اس شعر میں اقبال فرماتے ہیں کہ موسم بہار آ گیا ہے اور لالے کے پھول اپنے رنگ و روپ سے پہاڑوں اور ٹیلوں کو رنگ و خوبصورتی بخش رہے ہیں۔ہر جانب خوبصورت مناظر دعوت نظارہ پیش کر رہے ہیں۔ ایسے میں باغوں میں پرندے مسرت و انبساط سے اس طرح چہک رہے ہیں کہ میں ان کے نغموں سے جھوم اٹھا ہوں۔ ان پرندوں کی پر مسرت آوازیں اور ان خوبصورت مناظر فطرت کے اثرات مجھے نغمہ گری یعنی شاعری پر اکسانے لگے ہیں۔

Advertisement
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ ان خوبصورت پہاڑوں کے مناظر ایسے ہیں کہ ہر جانب تا حد نگاہ خوبصورت پھول کھلے نظر آتے ہیں۔ ان پھولوں کی قطاروں کو دیکھ کر یہ گمان ہو تا ہے کہ گویا پریاں قطاریں باندھے اور رنگ برنگے ملبوسات پہن کر کھڑی ہوں۔

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

اس شعر میں علامہ اقبال انسان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اگر تو میری بات تسلیم کرنے پر تیار نہیں تو اپنے باطن میں جھانک کر ہی زندگی کی حقیقتوں کا ادراک کر لو زندگی کے رازوں کی تلاش کا آغاز اپنی ذات سے کروکہ زندگی اپنی تمام تر حقیقتوں کے ساتھ انسان کے باطن میں پوشیدہ رہتی ہے اور انسان کو اس حقیقت کا مکمل ادراک ہونا چاہیے۔انسان ان رازوں کا وجود اپنے باطن سے باآسانی تلاش کر سکتا ہے۔

Advertisement
من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن

اس شعر میں شاعر علامہ اقبال نے اپنے فلسفہ خودی کو بیان کیا ہے۔ اقبال کے مطابق انسان کو باطنی سطح پر قلبی سکون میسر آ جائے تو پھر اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ تو ایسی نعمت ہے جو ضائع نہیں ہوتی جب کہ مادی اور جسمانی سطح پر حاصل ہونے والی دولت اور قوت تو ڈھلتی پھرتی چھاؤں کے مانند ہے ۔ اس کو کسی طور پر بھی پائیداری حاصل نہیں ہوتی ۔ اس لیے اس دولت کی تلاش میں نکلو کہ جس سے تم خود جو پا لو اور وہ پائیدار بھی ہو۔

من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج
من کی دنیا میں نہ دیکھے میں نے شیخ و برہمن

شاعر علامہ اقبال کہتے ہیں کہ انسان کے من کی دنیا ایک ایسی سلطنت ہے جس کی ریاست کا بے تاج بادشاہ انسان خود ہوتا ہے۔ وہاں پر کسی مغربی قوت کا تسلط بھی کسی طور پر ممکن نہیں ہے بلکہ من کی اس دنیا میں تو شیخ اور برہمن کے تضادات پر مبنی رویوں کی گنجائش نہیں ہے ۔ من کی دنیا ایسی پاکیزہ اور شفاف دنیا ہے جہاں مفاد پرست، منافقت اور ریاکاری کا شائبہ تک نہیں ہے۔ یہ جہاں مغربی قوتوں،سیاست اور شیخ و برہمن ہر طرح کے نظریوں سے پاک ہے۔

Advertisement
پانی پانی کر گئی مجکو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن

شاعر علامہ اقبال اس شعر میں کہتے ہیں کہ مجھے ایک قلندر کی اس بات نے پانی پانی یعنی شرمندہ کر دیا کہ اپنی خودی چھوڑ کر اگر تم کسی اور کے سامنے جھک گئے تو تم اپنا من اور تن یعنی دلی سکون کے ساتھ اپنی ناپائیدار دولت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:آپ نے اب تک جو غزلیں پڑھی ہیں،ان سے یہ غزل آپ کو مختلف کیوں لگی؟

کیوں کہ اس غزل میں روایتی عشق و عاشقی،غم دنیا اور دیگر اسی طرح کے مضامین سے ہٹ کر اس میں انسان کی خودی و خود شناسی کے تصور کو بیان کیا گیا ہے۔یہی خیال اس غزل کی خوبصورتی ہے اور اس کو منفرد بھی بناتا ہے۔

Advertisement

سوال نمبر02:شاعر نے پھولوں کو پریا ں کیوں کہا ہے؟

شاعر نے پھولوں کو ان کے رنگ برنگے اور خوبصورت ہونے کی بنا پر انھیں پریاں کہا ہے۔

سوال نمبر03:تیسرے شعر میں شاعر کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟

اس شعر میں علامہ اقبال انسان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اگر تو میری بات تسلیم کرنے پر تیار نہیں تو اپنے باطن میں جھانک کر ہی زندگی کی حقیقتوں کا ادراک کر لو زندگی کے رازوں کی تلاش کا آغاز اپنی ذات سے کروکہ زندگی اپنی تمام تر حقیقتوں کے ساتھ انسان کے باطن میں پوشیدہ رہتی ہے اور انسان کو اس حقیقت کا مکمل ادراک ہونا چاہیے۔انسان ان رازوں کا وجود اپنے باطن سے باآسانی تلاش کر سکتا ہے۔

Advertisement

سوال نمبر04:من کی دولت سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

من کی دولت سے شاعر کی مراد انسان کا باطن ہے اور اس کی خودی ہے۔یعنی کسی انسان کا قلبی سکون۔

سوال نمبر05:غزل کے آخری شعر میں قلندر نے کیا بات کہی ہے؟

غزل کے آخری شعر میں قلندر نے کہا کہ اپنی خودی کو چھوڑ کر اگر تو کسی کے روبرو جھک گیا تو جان لے کہ تیرے پاس نہ تو روحانی سکون کی دولت باقی رہے گی نہ ہی دوسرے مادی فوائد برقرار رہیں گے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement