Advertisement
  • کتاب”دور پاس”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر08: اخلاقیات
  • سبق کا نام: بات سے بات

خلاصہ سبق

اس سبق میں اخلاقیات پر بات چیت کو مکالمے کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔شاہین کے بھائی اس کے گھر کافی عرصے بعد اور اچانک آتا ہے تو سب بہت خوش ہوتے ہیں۔بچے بھی ماموں کی آمد پر خوش ہوتے ہیں اور بات کرنے لگتے ہی ہیں کہ ان کی ماں یعنی شاہین ان کو ڈانٹتی ہے کہ بنا سلام دعا کے ہی شروع ہو گئے ہو۔

شاہین اپنی امی جان سے بھی ملتی ہے اور انھیں بتاتی ہے کہ وہ ان کو بہت یاد کرتی ہے۔ بچے بھی نانی اماں سے مل کر خوش ہوتے ہیں اور نانی نے نواسے کے لیے بڑی عمر کی دعا کی اور ماں باپ کا کہا ماننے اور دل لگا کر پڑھنے کی نصحیت کی اور یہ کہا کہ تمھیں بھی بڑا ہو کر ماموں کی طرح ڈاکٹر بننا ہے۔اس جے بعد ملازم آ کر بچوں سے ملتا ہے تو بچے اس سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگتے ہیں تو شاہین تب بھی بچوں کو ڈانٹتی ہے کہ بڑوں سے ادب سے پیش آؤ۔

Advertisement

اس پر ان کا ملازم رامو کاکا رندھے ہوئے گلے کے ساتھ کہتا ہے کہ یہ بچے ہی تو ان کا کل سرمایہ ہیں اس لیے انھیں کچھ مت بولو۔اسی دوران شاہین کا بڑا بھائی بھی اسے تنگ کرنے لگتا ہے کہ وہ کمزور ہوگئی ہے دبلی دکھتی ہے اس کا شوہر اس کا خیال نہیں رکھتا وغیرہ۔ شاہین کے بھائی کی بات سن کر بوا بھی اپنا خدشہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ واقعی بیمار دکھائی دے رہی ہے۔

شاہین بوا کو کہتی کہ وہ اچھی بھلی ہے اور جوابا بوا سے ان کے بچوں کی خیریت دریافت کرتی ہے۔ جس پر بوا اپنی بیٹی کا دکھڑا سناتی تو شاہین اسے تسلی دیتی ہے۔کہ آپ اپنی بیٹی کو پاس بلا لیں کہ آپ اچھا خاصا کھاتی پیتی تو ہیں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے اور غم نہ کریں کہ اللہ سب دیکھ رہا ہے اور وہ بہتر کرے گا۔یوں اس سبق میں بات چیت کے آداب اور بنیادی اخلاقیات کے ساتھ رشتوں کی خوبصورتی بھی جھلکتی ہے۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:-

شاہین نے بچے کو کس بات پرٹو کا؟

شاہین نے بچوں کو بڑوں کو سلام نہ کرنے اور رامو کاکا سے ادب سے بات نہ کرنے پر ٹوکا۔

نانی نے نواسے کے لیے کیا دعا اور نصیحت کی؟

نانی نے نواسے کے لیے بڑی عمر کی دعا کی اور ماں باپ کا کہا ماننے اور دل لگا کر پڑھنے کی نصحیت کی اور یہ کہا کہ تمھیں بھی بڑا ہو کر ماموں کی طرح ڈاکٹر بننا ہے۔

بھائی نے بہن سے یہ کیوں کہا کہ ہمارا قصور معاف کرو‘؟

بھائی نے بہن کو کھڑے کھڑے باتیں کرنے اور کافی دنوں بعد اس کی طرف آنے پر اس کے شکوں کی وجہ سے کہا کہ ہمارا قصور معاف کرو۔

Advertisement

رامو کا گلا کس بات پر رندھ گیا ؟

رامو کا یہ سوچ کر گلا رندھ گیا کہ ان کا اپنا کوئی عزیز اس دنیا میں نہیں ہے اور شاہین کے بچے ہی اس کے اپنے بچے ہیں۔

شاہین نے بوا کوکس طرح تسلی دی؟

شاہین نے بوا کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ آپ اپنی بیٹی کو پاس بلا لیں کہ آپ اچھا خاصا کھاتی پیتی تو ہیں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے اور غم نہ کریں کہ اللہ سب دیکھ رہا ہے اور وہ بہتر کرے گا۔

Advertisement

نیچے دی ہوئی خالی جگہوں کو بھریے:

  • بیٹے! یہ کیا بات؟ سلام نہ دعالگے ادھر اُدھر کی با تیں کرنے ۔
  • امی! کیا آپ کھڑے کھڑے ہی باتیں کریں گی؟
  • رامو کا کا ہم سب کے بڑے ہیں، ادب سے بات کرو۔
  • امی ! ذرا دیکھیے شاہین کتنی دبلی ہو رہی ہے۔
  • ایسی باتوں سے بڑا ہول آتا ہے۔

نیچے دیے ہوۓ لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

فرصتموجودہ دور کی مشینی زندگی میں فرصت کے لمحات میسر آنا کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔
نٹ کھٹچھوٹے بچوں کی نٹ کھٹ شرارتیں دل موہ لیتی ہیں۔
قصورجج صاحب میرا قصور معاف کر دیں۔
تکلیفدانت کی تکلیف کی وجہ سے وہ کھانا نہ کھا سکا۔
نتیجہمحنت کرو گے تو اچھا نتیجہ پاؤ گے۔

مثال کے مطابق حصہ الف اور حصہ ب کے صحیح جوڑ ملایئے:

الف "” ب”"ج”
آدابتکلیفادب
خیالاتفرضخیال
حالاتشیطانحال
تکالیفادبتکلیف
فرائضنتیجہفرض
شیاطینخیالشیطان
نتائجحالنتیجہ

نیچے دیے ہوۓ لفظوں کے متضادلکھیے:

خوشاداس
بھولنایاد رکھنا
بڑےچھوٹے
بھلیبری

عملی کام:

اس کہانی میں جن رشتوں کا ذکر ہوا ہے ان کی فہرست بنائے اور ان رشتوں پر ایک ایک جملہ لکھیے۔

اس کہانی میں جن رشتوں کا ذکر ہوا ہے وہ درج ذیل ہیں:
بھائی ، امی ،بوا ، بچہ ،ملازم اور نانی جان۔

بھائی:بھائی کا رشتہ بہن کے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔
امی: ماں کی رشتے کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی۔
بوا: بواماں کا دوسرا روپ ہے۔
بچہ: بچے والدین کا اثاثہ ہوتے ہیں۔
ملازم: ملازم ہمارے حقیقی خدمت گار ہوتے ہیں۔
نانی جان: نانی جان کی محبت کا کوئی مول نہیں ہوتا۔

اس سبق سے ضمیر متکلم ، حاضر اور غائب کی دود ومثالیں تلاش کر کے اپنی کاپی میں لکھیے:

ضمیر متکلم:

جو ضمیر بولنے والا اپنے لیے استعمال کرے۔مثلاً میں۔ میرا۔ مجھے۔ ہم۔ ہمارا۔ ہمیں وغیرہ۔

Advertisement

ضمیر متکلم حاضر:

آؤ بھئی شاہین! ہمارا قصور معاف کرو۔

ضمیر متکلم غائب:

اللہ سب دیکھ رہا ہے۔بہتر ہی کرے گا۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement