Advertisement
  • کتاب”جان پہچان” برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر14:
  • مصنف کانام:غلام احمد فرقت
  • سبق کانام: کہاوتوں کی کہانی

تعارف مصنف:

فرقت کا کوروی کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا۔ بچپن میں ہی باپ کے سایے سے محروم ہو جانے کی وجہ سے ابتدائی عمر معاشی تنگی میں بسر ہوئی مگر تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ لکھنو اور علی گڑھ کی دانش گاہوں سے ایم اے، بی ایڈ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ تاریخ کے استاد کے طور پر اینگلوعر یک اسکول ، دہلی میں تقریبا تیس سال تک درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ رہے۔

طنز ومزاح ان کا خاص میدان تھا۔ وہ نثر ونظم دونوں میں یکساں قدرت رکھتے تھے۔ ان کا طرز تحریر دل چسپ اور عام فہم ہے۔ ان کا شمار اردو کے مقبول ادبیوں میں ہوتا ہے۔ ’’کف گل فروشاں‘‘’ قد مچے‘‘’ ناروا‘ ان کے نثری اور شعری مجموعے ہیں۔

خلاصہ سبق:

احمد علی فرقت کے سبق "کہاوتوں کی کہانی” میں روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی دلچسپ کہاوتوں کو ان کے پس منظری قصے کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔بہت سی کہاوتیں اور محاورے ایسے ہیں جن کو نجانے کب سے ہم اپنی عام بول چال میں استعمال کرتے ہوئے آرہے ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سی کہاوتیں اپنے پس منظر میں کوئی ٹھوس واقع نہیں بلکہ شگفتہ و دلچسپ لطیفے لیے ہوئے ہیں۔

Advertisement

جیسے روزمرہ گفتگو میں’وہی مرغ کی ایک ٹانگ’ بولا جاتا ہے۔ یہ مقولہ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کوئی شخص اپنی کہی ایک ہی بات پر اڑا رہے، چاہے حقیقت اس کے خلاف ہو۔اس کے پس منظر میں واقع مشہور ہے کہ ایک دفعہ کسی انگریز کے خانساماں نے مرغ مسلم پکایا مگر اس کی ایک ٹانگ خود کھا لی۔

انگریز نے جب خانساماں سے پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ صاحب اس کی ایک ہی ٹانگ تھی۔انگریز صاحب کو اس کی بات پر ہنسی آئی مگر وہ خاموش ہو گیا۔ اتفاقاً اسی وقت صحن میں ایک مرغ ایک ٹانگ اٹھائے اور ایک پاؤں سمیٹے کھڑا تھا۔ خانساماں کہنے لگا کہ صاحب یہ دیکھئے اس مرغ کی بھی ایک ٹانگ ہے۔

یہ سن کر صاحب، مرغ کے پاس گئے اور انھوں نے ’’ہش ہش‘‘ کیا۔ مرغ نے دوسری ٹانگ بھی نکال دی۔ خانساماں نے یہ دیکھ کر کہا حضور ! کھانا کھاتے وقت سرکار سے بڑی چوک ہوگئی۔ اگر آپ اس پکے ہوۓ مرغ کے سامنے ’’ ہش ہش‘‘ کرتے تو وہ بھی اپنی دوسری ٹانگ نکال لیتا۔‘‘ یوں یہ فقرہ ضرب الامثال بن گیا۔اسی طرح ایک دوسری مثل ‘اونٹ کس کل بیٹھتا ہے’ خاصی مشہور ہے جس کا مطلب ہے کہ دیکھئے کیا انجام ہوتا ہے۔

اس قصے سے جڑی کہانی یوں ہے کہ ایک دفعہ ایک کمہار اور سبزی فروش نے مل کر اونٹ کرائے پر لے لیا۔دونوں نے اس کی ایک ایک طرف اپنا سامان لاد لیا۔ راستے میں اونٹ گردن موڑ موڑ کر سبزی والے کی ترکاریاں کھاتا آیا۔ یہ دیکھ کر کمہار مسکراتا رہا۔جب اونٹ منزل پر پہنچا تو جس جانب کمہار کے برتنوں کا بوجھ تھا اونٹ اس کروٹ بیٹھ گیا۔جس سے بہت سے برتن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے۔اس وقت سبزی فروش نے کمہار سے کہا کہ گھبراتے کیوں ہو دیکھو اب آئندہ اونٹ کس کل بیٹھتا ہے۔

ایک اور کہاوت ‘حضور آپ ہی کی جوتیوں کا صدقہ ہے’ بھی ایک دلچسپ لطیفہ لیے ہوئے کہ ایک دفعہ ایک مسخرے نے اپنے دوستوں کو دعوت پر مدعو کیا۔لوگ دعوت میں آئے اور جب سب بیٹھ گئے تو اس نے ان کے جوتوں کو ایک شخص کے حوالے کیا اور بازار لے جا کر فروخت کروا دیا۔اس رقم کے ذریعے اس نے دعوت کے کھانے کی تیاری کی۔

جب سارا کھانا دستر خوان پر چنا گیا تو لوگ اس مسخرے سے کہنے لگے کہ اتنی تکلیف کیوں کی؟ وہ سب کو یہ ہی جواب دے رہا تھا کہ جناب یہ سب تو آپ کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔کھانے کے بعد جب وہ سب کھانا کھانے کے بعد اٹھے تو ان کے جوتے غائب تھے۔جب انھوں نے جوتوں کے متعلق معلوم کیا تو مسخرا پھر سے کہنے لگا کہ میں تو پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ یہ اب آپ کی جوتیوں کا صدقہ ہے’ ایک اور مقولہ ‘اونٹ کے گلے میں بلی’ ہے۔

اس مقولے کا استعمال تب کیا جاتا ہے جب انسان کسی مشکل میں پڑ جاتا ہے اور اس سے نکلنے کی فکر کرتا ہے۔اس کے متعلق یہ دلچسپ کہانی ہے کہ ایک شخص کا اونٹ کھو گیا اور اس نے غصے میں یہ کہا کہ اونٹ مل جانے پر وہ اسے ایک ٹکے میں بیچ دے گا۔ جب اونٹ واپس مل گیا تو اس کے لیے ایک ٹکے میں بیچنا مشکل ہو گیا۔ چناچہ اسے کسی نے مشورہ دیا کہ اونٹ کے گلے میں بلی باندھ دو اور کہو کہ سو روپے کی بلی اور ایک ٹکے کا اونٹ لیکن دونوں ایک ساتھ فروخت کیے جائیں گے۔ یوں اس نے اپنی جس مشکل کا حل نکالا وہ ایک مقولہ بن گیا۔

مقولہ وہی مرغے کی ایک ٹانگ کا کیا مطلب ہے؟

مقولہ”وہی مرغے کی ایک ٹانگ” اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کوئی شخص اپنی کہی ایک ہی بات پر اڑا رہے، چاہے حقیقت اس کے خلاف ہو۔

مرغ کی دوسری ٹانگ نکلنے پر خانساماں نے صاحب سے کیا کہا؟

مرغ کی دوسری ٹانگ نکلنے پر خانساماں نے صاحب سے کہا کہ اگر آپ پکے ہوئے مرغ کے سامنے بھی "ہش ہش” کرتے تو وہ اپنی دوسری ٹانگ نکال لیتا۔

اونٹ کس کل بیٹھتا ہے کا قصہ کیا ہے؟

اونٹ کس کل بیٹھتا ہے سے یہ قصہ منسوب ہے کہ ایک دفعہ ایک کمہار اور سبزی فروش نے مل کر اونٹ کرائے پر لے لیا۔دونوں نے اس کی ایک ایک طرف اپنا سامان لاد لیا۔ راستے میں اونٹ گردن موڑ موڑ کر سبزی والے کی ترکاریاں کھاتا آیا۔ یہ دیکھ کر کمہار مسکراتا رہا۔جب اونٹ منزل پر پہنچا تو جس جانب کمہار کے برتنوں کا بوجھ تھا اونٹ اس کروٹ بیٹھ گیا۔جس سے بہت سے برتن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے۔اس وقت سبزی فروش نے کمہار سے کہا کہ گھبراتے کیوں ہو دیکھو اب آئندہ اونٹ کس کل بیٹھتا ہے۔

حضور’’ آپ کی جوتیوں کا صدقہ ہے ۔‘‘ اس مقولے سے متعلق کیا لطیفہ مشہور ہے؟

اس مقولے کے حوالے سے ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک دفعہ ایک مسخرے نے اپنے دوستوں کو دعوت پر مدعو کیا۔لوگ دعوت میں آئے اور جب سب بیٹھ گئے تو اس نے ان کے جوتوں کو ایک شخص کے حوالے کیا اور بازار لے جا کر فروخت کروا دیا۔اس رقم کے ذریعے اس نے دعوت کے کھانے کی تیاری کی۔جب سارا کھانا دستر خوان پر چنا گیا تو لوگ اس مسخرے سے کہنے لگے کہ اتنی تکلیف کیوں کی؟ وہ سب کو یہ ہی جواب دے رہا تھا کہ جناب یہ سب تو آپ کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔کھانے کے بعد جب وہ سب کھانا کھانے کے بعد اٹھے تو ان کے جوتے غائب تھے۔جب انھوں نے جوتوں کے متعلق معلوم کیا تو مسخرا پھر سے کہنے لگا کہ میں تو پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ یہ اب آپ کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔

اونٹ کے گلے میں بلی اس مقولے کا استعمال کب کیا جا تا ہے؟

اس مقولے کا استعمال تب کیا جاتا ہے جب انسان کسی مشکل میں پڑ جاتا ہے اور اس سے نکلنے کی فکر کرتا ہے۔

نیچے لکھے ہوئے لفلوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

حیرت اسے اچانک اپنے سامنے پاکر میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔
حقیقتموت ایک اٹل حقیقت ہے۔
چوکناموجودہ دور میں حالات سے چوکنا رہنا نہایت ضروری ہے۔
سبزی فروش علی کے والد منڈی میں سبزی فروش ہیں۔
دعوت میں نے آج سب دوستوں کو اپنے گھر دعوت پر مدعو کیا۔

خالی جگہوں کو صحیح لفظوں سے بھریے:

یہ سن کر صاحب، مرغ کے پاس گئے اور انھوں نے ’’ہش ہش‘‘ کیا۔ مرغ نے دوسری ٹانگ بھی نکال دی۔ خانساماں نے یہ دیکھ کر کہا حضور ! کھانا کھاتے وقت سرکار سے بڑی چوک ہوگئی۔ اگر آپ اس پکے ہوۓ مرغ کے سامنے ’’ ہش ہش‘‘ کرتے تو وہ بھی اپنی دوسری ٹانگ نکال لیتا۔‘‘

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے واحد بنائے:

جمعواحد
محاوراتمحاورہ
مشکلاتمشکل
امثالمثال
مواقعموقع
اصحابصاحب
تکالیفتکلیف
لطائفلطیفہ
مطالبمطلب
اتفاقاتاتفاق
اوقاتوقت

عملی کام:

اس سبق میں جو کہاوتیں استعمال کی گئی ہیں ان کے علاوہ پانچ کہاوتیں ڈھونڈ کر لکھیے۔

ابھی دلی دور ہے۔
جس نے کی شرم اس کے پھوٹے کرم۔
تیل دیکھو،تیل کی دھار دیکھو۔
انگور کھٹے ہیں۔
اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ۔
اندھوں نے ہاتھی چھوا،سب نے الگ الگ کہا۔
اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنائی۔