Advertisement
  • سبق نمبر 07: انشائیہ
  • مصنف کا نام: ابن انشاء
  • سبق کانام: ذرا فون کر لوں

خلاصہ:

ذرا فون کرلوں "ابن انشا ” کا مزاح سے پر انشائیہ ہے جس کی کہانی مصنف نے یوں بیان کی کہ جب وہ ایک دفعہ بیمار ہوئے تب انھیں احساس ہوا کہ ان کے گھر میں موجود ٹیلی فون کی سہولت کس قدر تکلیف دہ بھی ہوسکتی ہے۔ بد قسمتی سے ٹیلی فون کی سہولت بھی اسی کمرے میں موجود تھی جس میں مریض، تو ایسے میں اکثر لوگ فون کے بہانے ان کی تیمار داری کو آنے لگے جسے انھوں نے بہت دلچسپ انداز سے تحریر کیا ہے کہ ان کی بیماری کا سن کر سب سے پہلےشیخ نبی بخش تشریف لائے جن کے آنے کا مقصد تو ان کی تیمار داری تھا مگر جاتے جاتے وہ اپنی دوکان پر فون کرنا نہ بھولے۔

دوسری آنے والی شخصیت ریٹائرڈ تھانیداراور حالیہ ٹھیکیدارمیر باقر علی سندیلوی کی تھی جنھیں اپنے نالائق بیٹے کی خبر گیری کے لئے فون کر نا یا د آگیا۔اسی طرح ایک شخصیت میر صاحب کی بھی تھی۔ ان کا تعارف مصنف یوں کرواتے ہیں کہ ان کے نام نام سے کون واقف نہیں۔سعید منزل کے سامنے بیٹھتے ہیں اور قسمت کا حال بتاتے ہیں۔مقدمہ، بیماری،روزگار ہر مسئلے پر ان کا مشورہ مفید رہتا ہےاور لاعلاج بیماریوں کے مایوس مریضوں کا علاج بھی کرتے ہیں۔ ان کے آنے کا مقصد تیمار داری کے ساتھ دوکان کے لئے فون کر کے ضروری سامان منگوانا بھی تھا۔

بلاآخر اس سب سے تنگ آ کر مصنف کے بھائی نے نوٹس لگایا کہ”جو صاحبان مزاج پرسی کو آئیں وہ فون کو ہاتھ نہ لگائیں اور جو فون کرنے آئیں وہ مزاج نہ دریافت کریں۔ اس سب کے علاوہ دن میں کئی بار ان کے فون پر کچھ غیر شناسا و شناسا کالیں بھی آتیں جن کا متن کچھ یوں ہوتا تھا کہ بیگم کو بلا دیجئے،ایمبولینس بھیج دیجئے،مٹی کے تیل والا بول رہا ہوں، مٹھائی بجھوا دیجیے وغیرہ مصنف ان تمام طرح کے فون آنے سے بہت تنگ تھے۔

سوالات:

سوال نمبر 01: مصنف کی بیماری کی خبر سن کرسب سے پہلے کون آیا؟

مصنف کی بیماری کا سن کر سب سے پہلے ان کی تیمارداری کے لیے شیخ نبی بخش تاجر چرم تشریف لائے۔

سوال نمبر 02:”ادب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ جائے گا” یہ جملہ کس نے کس کے لئے کہا ہے؟

یہ جملہ ریٹائرڈ تھانیداراور حالیہ ٹھیکیدارمیر باقر علی سندیلوی نے مصنف کے لئے کہا تھا۔

سوال نمبر 03: پروفیسر بخش کا مصنف نے کس طرح تعارف کروایا ہے؟

ان کا تعارف مصنف یوں کرواتے ہیں کہ ان کے نام سے کون واقف نہیں۔سعید منزل کے سامنے بیٹھتے ہیں اور قسمت کا حال بتاتے ہیں۔مقدمہ، بیماری،روزگار ہر مسئلے پر ان کا مشورہ مفید رہتا ہےاور لاعلاج بیماریوں کے مایوس مریضوں کا علاج بھی کرتے ہیں۔

سوال نمبر 04: مصنف کے بھائی نے مزاج پرسی کرنے والوں کے لیے فون کی پابندی پر کیا نوٹس لگایا؟

مصنف کے بھائی نے نوٹس لگایا کہ”جو صاحبان مزاج پرسی کو آئیں وہ فون کو ہاتھ نہ لگائیں اور جو فون کرنے آئیں وہ مزاج نہ دریافت کریں۔

سوال نمبر 05: مصنف کے دوست نے میر صاحب سے کیوں معذرت کی؟

جب مصنف نے میر صاحب کی کہی بات کو غلط سمجھ کر انھیں کان میں چنبیلی کا گرم تیل ڈالنے کا مشورہ دیا تو مصنف کے دوست نے میر صاحب سے ان کے رویے کی معذرت کی۔

سوال نمبر 06: مصنف کے یہاں کس کس طرح کے ٹیلی فون آتے تھے؟

مصنف کے ہاں بیگم کو بلا دیجئے،ایمبولینس بھیج دیجئے،مٹی کے تیل والا بول رہا ہوں، مٹھائی بجھوا دیجیے وغیرہ جیسے فون آتے ہیں۔

زبان و قواعد:

نیچے لکھے ہوئے الفاظ سے جملے بنائیے۔

گاڑھی چھنناعلی اور احمد کے بیچ خوب گاڑھی چھنتی ہے۔
تعزیت کرناحکومتی اراکین شہدا کے گھر تعزیت کرنے کے لئے گئے۔
ناحقمگس کو باغ میں جانے نہ دینا
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا
لاعلاجڈاکٹر نے اس کے مرض کو لا علاج قرار دیا۔
مزاج پرسیمیں مرزا صاحب کے ہاں ان کی مزاج پرسی کے لیے گیا۔

اس سبق میں ایک لفظ ‘ چار حرفی’ آیا ہے۔ جس کے معنی ہیں چار حرفوں والا جیسے ‘کتاب’ اسی طرح تین حرفوں والے لفظ کو ‘ سہ حرفی’ کہتے ہیں۔ جیسے ‘نبی’ آپ تین ‘چار حرفی’ اور تین ‘ سہ حرفی’ الفاظ اپنی کاپی پر لکھیے۔

چار حرفی الفاظ:دوات، مریض،قبلہ، مہلت۔
سہ حرفی الفاظ:فون، فقط، قلم،چار،چرم۔

اس سبق میں ایک جگہ لکھا ہے ” آپ کی نگارشات کا انتظار ہے۔سالنامہ نکل رہا ہے” سالنامہ وہ رسالہ ہے جو سال میں ایک ہی مرتبہ نکلتا ہے آپ لکھیے۔

  • جو رسالے چھے مہینے میں نکلتے ہیں انھیں ششماہی رسالے کہتے ہیں۔
  • جو رسالے تین مہینے میں نکلتے ہیں انھیں سہ ماہی رسالے کہتے ہیں۔
  • جو رسالہ ہر مہینے نکلتا ہے اسے ماہانہ رسالہ کہتے ہیں۔
  • اسی طرح جو اخبار ہفتے میں ایک بار نکلتا ہے اسے ہفت روزہ اخبار کہتے ہیں۔
  • جو اخبار ہر روزنکلتا ہے اسے روزنامہ کہتے ہیں۔

نیچے لکھے ہوئے جملوں کی وضاحت کیجئے۔یہ جملے سبق میں کس نے کب کہے ہیں؟

ہم تو لوگوں کے اخلاق کریمانہ کے ممنون ہوکے رہ گئے۔

یہ جملہ مصنف نے کہا اور اس کا مطلب ہے کہ وہ لوگوں کے حد درجہ اخلاق کے بے حد شکرگزار ہیں۔ مگر دراصل اس اخلاق میں لوگوں کی غرض پوشیدہ تھی۔

ہم نے حیات تازہ پاکر اطمینان کا سانس لیا۔

یہ جملہ مصنف نے کہا جب شیخ نبی بخش انھیں اپنے عزیز کی بیماری کا قصہ سنا رہے تھے۔یعنی کہ مصنف نے ان کی نئی زندگی کا سن کر سکون کا سانس لیا۔

آپ نے پہلے کیوں نہ کہا۔اچھے آدمی ہیں آپ۔

یہ جملہ مصنف کو غیر شناسا نمبر سے آنے والی کال پر موجود شخص نے بولا جب وہ مصنف کی کوئی بات سنے بنا بے دریغ بولے جارہے تھے تو مصنف کے بتانے پر کہ وہ ان کا مطلوبہ شخص نہیں ہے وہ شخص ان کو کہنے لگا کہ پہلے کیوں نہ بتایا آپ تو بہت اچھے آدمی کہ میری اتنی باتیں سنی اور برادشت کیں۔

یہ جملے کن موقوں پر بولے جاتے ہیں؟

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

جب کسی مرحوم شخص کا ذکر مطلوب ہو تا یہ جملہ ادا کیا جاتا ہے۔

دشمنوں کی طبیعت ناساز ہے۔

جب کسی ناپسندیدہ شخصیت کا ذکر مطلوب ہو تو یہ جملہ ادا کیا جاتا ہے۔

قضا و قدر کے کان بہرے۔

یہ جملہ خدانخواستہ کے انداز میں ادا کیا جاتا ہے کہ موت یا تقدیر کے کانوں تک یہ بات نہ جانے پائے۔

عملی کام:

مضمون لکھیے۔ "فون رحمت یا زحمت”

موبائل فون جہاں ایک نعمت ہے ،وہاں ایک زحمت بھی ہے۔بے شمار فائدے ہونے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ نقصانات بھی ہیں۔گراہم بیل نے جب ٹیلی فون ایجاد کیا تو اس نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ جس فون کا استعمال آج وہ کر رہا ہے ،آنے والے دور میں وہ موبا ئل کی شکل میں دنیا بھر میں کڑوروں لوگوں کے رابطے کا ذریعہ بنے گا۔

آج کل موبائل فون عام ہو چکا ہے،ٹیکنالوجی کی یہ سوغات ہر گھر بلکہ ہر ہاتھ میں نظر آتی ہے،اور کیوں نہ ہو آج کل موبائل فون کی افادیت بے شمار ہے اگر اسکا استعمال مثبت اور کام کے متعلق ہو۔مختلف کمپنیوں نے بے شمار پیکج متعارف کروا دیے ہیں ،جن میں انٹرنیٹ اور کال پیکجز نے میلوں دور بیٹھے لوگوں کو قریب کر دیا ہے۔اور موبائل فون کا مقصد نھی یہی تھا کہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔

یہ بات بلکل درست ہے کہ موبائل فون وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت بنتا جا رہا ہے،لیکن یہ اتنا بھی ضروری نہیں کہ 14۔15سال کےبچوں کو موبائل فون دے دیتے ہیں کہ بچوں سے رابطے میں رہیں گے۔کم عمری میں موبائل فون بچوں کو دینا نقصان کا باعث بنتا ہے،اگر ہم دیکھیں تو بچے جھوٹ بولنے کی ابتداء بھی یہیں سے کرتے ہیں۔اور اگر ایک اور پہلو پر نظر ڈالی جائے تو کم عمر بچوں کے پاس موبائل فون دیکھ کر چور بچوں سے موبائل چھین لیتے ہیں ،اور بسا اوقات مزاحمت پر جانی نقصان بھی ہو جاتا ہے۔

دنیا میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو تا چلا جا رہا ہے،اور اسکے بڑھتے ہوئے استعمال کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کم عمر اور بڑی عمر کے لوگوں کی کثیر تعداد اس کا استعمال کر رہی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق 100 فیصد میں سے تقریبا 60 فیصد افراد موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں۔

موجودہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے،کسی بھی ملک کی ترقی میں ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرتی ہے،لہذا موبائل فون کی ٹیکنالوجی بھی ملکی ترقی میں اہم ہے۔موبائل فون خود ایک بْری چیز نہیں ہے اگر ہم اسکا استعمال بْرا نہ کریں، اگر ہم اسکو صرف رابطے کا ذریعہ اور ضروری کاموں کے لیے استعمال کریں تو یہ مفید ثابت ہوتا ہے۔

آج کے تیز دور میں موبائل فون رابطے کا بھی تیز ترین ،آسان اور بہترین زریعہ ہے۔موبائل فون انسانی زندگی میں مزید آسانیاں لایا ہے جیسے یوٹیلٹی بل جمع کروانا،وائس میسج ای میل اور اس جیسی اوربہت سی سہولیات کمپیوٹر کے ساتھ اب موبائل پر بہھی آگئی ہے۔ موبائل فون صارفین کی تعداد بڑھنے سے جہاں ملک کو فائدہ ہو رہا ہے وہاں روز بہ روز وارداتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے،لوگوں کے پاس کئی ایسے کنکشن موجود ہیں جو رجسٹرڈ نہیں ،اور اْن سے با آسانی واردات کی جاسکتی ہے۔

دْنیا میں موبائل فون کے مضر اثرات لوگوں پر اس قدر حاوی ہو گئے ہیں کہ وہ مقدس مقامات پر آتے ہوئے اپنے فون کی بیل بند کرنا بھی بھول جاتے ہیں،یہ صرف غفلت اور لا پرواہی نہیں بلکہ مقدس مقامات کے تقدس کی پامالی ہے۔ﷲتعالی کی عبادت میں مشغول لوگوں کی عبادت میں خلل کا سبب بنتا ہے۔

ان سب باتوں کے علاوہ باقی کثر موبائل فون کمپنیز نے کر دی ہے،پیکج کے نام پر ایسے تحائف نوجوان نسل کو دیے ہیں جسکی وجہ سے وہ دْنیا سے کٹ کر رہ گئے ہیں،رات ۱۲ بجے کے بعد ایسے پیکجز متعارف کروئے ہیں جس نے ہماری نو جوان نسل کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ہماری نوجوان نسل رات رات بھر دنیا جہاں سے بے خبر انٹرنیٹ،میسجز،کا استعال کرتے ہیں یعنی پڑھائی کا سارا وقت اس میں گزارتے ہیں اور مسئلہ اس بات کا ہے کہ والدین اس بات سے بلکل بے خبر ہوتے ہیں جو کہ کافی تشویش کی بات ہے۔

ماہرین کی رائے ہے کہ سیل فون سے ریڈیو فریکوینسی توانائی خارج کرتاہے جو کہ فون استعمال کرنے والوں کے لیے سرطان کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دماغ کے سرطان کاباعث بنتا ہے۔ کسی بھی چیز کا استعمال جتنا مثبت اور کام کے لیے کریں گے اسکا استعمال اتنا ہی کار آمد ہو گا۔لحاظ کسی بھی چیز کا استعمال ہمیں اس چیز کے مثبت یا منفی ہونے کی نشاندہی کرتا ہے،ہمیں چاہیے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال ہمیشہ مثبت انداز میں کریں۔