Advertisement

امیر مینائی کے حالات زندگی اور ادبی خدمات پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”نعت“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام امیر مینائی ہے۔ یہ نظم ”محامدِ خاتم النبیین“ امیر مینائی سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر

امیر مینائی نے حمد ، نعت ، مثنوی ، قصیدے ، اور غزل میں اظہارِ خیال کیا مگر آپ کی خاص وجہ شہرت نعتیہ شاعری ہے۔ آپ کی شاعری عوام میں بہت مقبول ہے۔ آپ کی کتب ”انتخابِ یادگار، صنم خانہ عشق، امیر اللغات، مراۃ الغیب، مینائے سخن، خیابانِ آفرینش اور محامد خاتم النبیین“ قابلِ ذکر ہیں۔

Advertisement
خلق کے سرور ، شافع ِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم
مرسلِ داور ، خاص پیمبر صلی اللہ علیہ وسلم

تشریح

اس شعر میں شاعر آپﷺ کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ اس پوری دنیا کے مالک ہیں اور آخرت کے دن آپ لوگوں کی شفاعت کا ذریعہ بنیں گے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ انصاف پسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے خاص پیغمبر اور خاتم النبیین بھی ہیں۔

Advertisement
نورِ مجسم ، نیرِ اعظم ، سرورِ عالم ، مونسِ آدم
نوح کے ہمدم ، خضر کے رہبر صلی اللہ علیہ وسلم

تشریح

اس شعر میں شاعر لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ نور کا مجسمہ ہیں ، سب سے زیادہ روشن اور چمکتا ہوا ستارہ ہیں۔ اس دنیا میں موجود تمام جانداروں کے مدد گار ہیں، حضرت نوح علیہ السلام کے ہم دم اور حضرت خضر کے رہنما ہیں۔ غرض یہ کہ آپﷺ ہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا بنائی ہے۔

بحر ِ سخاوت ، کانِ مروت، آیۂ رحمت ، شافعِ امت
مالکِ جنت ، قاسم ِ کوثر صلی اللہ علیہ وسلم

تشریح

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ آپ ﷺ سخاوت کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔آپ اللہ کی رحمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اللہ پاک نے آپ کو رحمت بنا کر اس دنیا میں بھیجا ہے۔ آپ جنت کے مالک ہیں اور آپ ہی روزِ محشر اپنے امتیوں کو جامِ کوثر پلائیں گے۔

Advertisement
رہبر ِ موسی ، ہادیٔ عیسیٰ ، تارکِ دنیا ، مالکِ عقبی
ہاتھ کا تکیہ ، خاک کا بستر صلی اللہ علیہ وسلم

تشریح

اس شعر میں شاعر نے بتایا ہے کہ آپﷺ حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوست ہیں۔ آپ نے اللہ کی راہ میں اس دنیا کی ہر آسائش کو ترک کردیا تھا۔ شاعر آپﷺ کی عاجزی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ کا بستر خاک پر تھا اور آپ ہاتھ کے تکیے پر سوتے تھے۔ آپ کو اس دنیا کی کسی آسائش کی تمنا نہ تھی۔

مہر سے مملو ریشہ ریشہ ، نعت امیرؔ ہے اپنا پیشہ
وِرد ہمیشہ رہتا ہے اکثر صلی اللہ علیہ وسلم

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنی آپﷺ سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میری ذات کا ذرہ ذرہ آپﷺ کی محبت میں مبتلا ہے اور میرا پیشہ آپﷺ کی تعریف بیان کرنا ہے۔ میں ہر وقت آپ کے ذکر میں مشغول رہتا ہوں کیوں کہ میں آپﷺ سے بہت عقیدت رکھتا ہوں۔

Advertisement

اس نظم کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر 2 : اس نعت کا مرکزی خیال بیان کیجیے۔

تعارفِ شاعر

امیر احمد مینائی لکھنؤ کے ایک دینی و علمی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے طب، لسانیات، تصوف، فلسفہ، فقہ، منطق، تاریخ، موسیقی، ریاضی اور قانون کے علوم حاصل کیے۔ آپ کا شمار بڑے علما میں کیا جاتا ہے۔ آپ کی کتب ”انتخابِ یادگار، صنم خانہ عشق، امیر اللغات، مراۃ الغیب، مینائے سخن، خیابانِ آفرینش اور محامد خاتم النبیین“ قابلِ ذکر ہیں۔ آپ اپنی کتاب امیر اللغات کی اشاعت کے لیے حیدر آباد گئے اور وہیں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ اس طرح تاریخ نعت گوئی کی عظیم شخصیت ہم سے جدا ہوگئی۔

مرکزی خیال

اس نعت میں امیر مینائی آپﷺ کی بڑائی بیان کررہے ہیں۔ اس نظم میں بتایا گیا ہے کہ آپﷺ حشر کے دن لوگوں کی شفاعت کی وجہ بنیں گے۔ آپﷺ کو دونوں جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپﷺ تمام انبیاء کے سردار ہیں۔ آپﷺ سے محبت اور ان کی اطاعت ہر مسلمان پر فرض ہے اور آپﷺ اس دنیا کے ہر جاندار کے لیے مددگار ہیں۔ وہ اللہ کے خاص پیغمبر ہیں اور نور کا مجسمہ ہیں۔ آپ آسمان پر چمکتا ہوا ایک روشن ستارہ ہیں جس کی چمک سے پوری دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ آپﷺ نہایت عاجزی و انکساری پسند تھے اور آپ نے اللہ کی محبت میں اس دنیا کی ہر آسائش کو ترک کردیا تھا۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ کا بستر خاک کا اور تکیہ ہاتھ کا ہوتا تھا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ اور اس کے نبی سے محبت کریں اور ان کی اطاعت کریں۔ اسی میں ہماری دنیاوی اور آخروی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپﷺ کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
آمین ثم آمین

Advertisement

سوال نمبر 3 : نعت کے مطابق کالم "الف” کے الفاظ کالم "ب” سے ملائیے :

کالم "الف”کالم "ب”
خلق کے(سرور)
نوحؑ کے (ہم دم)
خضؑر کے(رہ بر)
ہاتھ کا(تکیہ)
خاک کا(بستر)

سوال نمبر 4 : درج ذیل سوالات کے جواب دیجیے :

(الف) شام اور نام کے پانچ قوافی درج کیجیے۔

جواب : کام ، دام ، آم ، رام ، جام ۔

(ب) امیر مینائی کی نعت میں کون کون سے قافیے استعمال ہوئے ہیں ؟

جواب : امیر مینائی کی نعت میں ” محشر ، پیمبر ، رہ بر ، کوثر ، بستر “ کو بطورِ قافیہ استعمال کیا گیا ہے۔

Advertisement

(ج) ردیف کون سے الفاظ ہوتے ہیں ؟

جواب : وہ لفظ یا الفاظ جو شعر میں قافیے کے بعد آتے ہیں وہ ردیف کہلاتے ہیں۔

سوال نمبر 5 : درست جواب پر(درست) کا نشان لگائیے :

(الف) شاعر نے رسول اکرم ﷺ کو نوح کا کہا ہے :

Advertisement
  • ۱)دوست
  • ۲)بزرگ
  • ۳)ہم دم ✔
  • ۴)رہ بر

(ب) شاعر نے بحر سخاوت کہا ہے :

  • ۱)حضرت آدمؑ کو
  • ۲)حضرت موسیٰؑ کو
  • ۳)حضرت عیسیٰؑ کو
  • ۴)حضرت محمد ﷺ کو ✔

(ج) نعت میں توصیف کی جاتی ہے :

Advertisement
  • ۱)اللہ تعالیٰ کی
  • ۲)رسول اکرمﷺ کی ✔
  • ۳)انبیائے کرام کی
  • ۴)صحابہ کرام کی

(د) تارک دنیا سے مراد ہے :

  • ۱)دنیا کو چاہنے والا
  • ۲)دنیا سے بےزار
  • ۳)دنیا کو چھوڑنے والا ✔
  • ۴)دنیا میں مصروف

(ہ) اس نعت میں مذکور انبیاء کی تعداد ہے :

Advertisement
  • ۱)چار
  • ۲)پانچ
  • ۳)چھے ✔
  • ۴)سات
Advertisement

Advertisement

Advertisement