تعارف

سید وحید اختر ۱۲ اگست ۱۹۳۴ء کو اورنگ آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام سید وحید اختر نقوی تھا۔ آپ مومن پورہ اورنگ آباد میں پیدا ہوئے اور ان کے والد کا نام سید نذر عباس تھا۔ تاہم ان کا آبائی وطن نظیر آباد، جائس (اترپردیش) تھا۔ وحید اختر کو خاندانی طور پر فارغ البالی حاصل نہیں تھی۔ ان کا بچپن ، لڑکپن اور جوانی تینوں سخت دشواریوں میں گزرے۔انہوں نے خود ہی لکھا ہے کہ پرائمری اسکول کے زمانے سے ہی زندگی کی سختیوں، دشواریوں اور جسم وجان کے رشتے کو برقرار رکھنے کی آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ وحید اختر کا خاندانی ماحول خاصا مذہبی اور روایتی تھا۔ محرم کے دنوں میں مذہبی امور و رسوم کی پابندی بڑھ جایا کرتی تھی۔ قرآن خوانی، نماز اور روزے کی پابندی وحید اختر کا شیوہ بن چکی تھی۔

آپ نے ۱۹۵۴ء میں جامعہ عثمانیہ سے بی اے کیا اور ۱۹۵۶ء میں ایم اے کیا۔ ۱۹۶۰ء میں خواجہ میر درد کے تصوف پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی پہلی نظم ۱۹۴۹ء میں شائع ہوئی۔ان کی طبیعت کا رجحان نظم کی طرف زیادہ ہے۔ شاعری کے ابتدائی دور میں انہوں نے اپنا تخلص برق رکھا۔  آپ کی شادی ایرانی خاتون سے ہوگئی۔ اپنی شادی پر وحید اختر طمانیت اور سکون کا اظہار کرتے تھے۔

ادبی زندگی

وحید اختر کی تخلیقات ہندوستان اور پاکستان کے معیاری رسالوں میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ آپ طالب علمی کے زمانے میں اورنگ آباد کالج کے رسالہ ’’نورس‘‘ اور مجلہ ’’عثمانیہ‘‘ کے مدیر رہ چکے ہیں۔  وحید اختر رسالہ ’’صبا‘‘ کی ادارت کے رکن کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔ آپ علی گڑھ یونیورسٹی میں صدر شعبۂ فلسفہ بھی رہے۔

اگرچہ وحید اختر بہت بڑے شاعر تو نہیں تھے لیکن نقادوں نے جس طرح انھیں نظر انداز کیا ہے وہ اتنے غیر اہم بھی نہیں۔ انھوں نے جب اقلیم سخن میں قدم رکھا تھا اس وقت ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی اس لیے وہ قدرتی طور پر اس سے متاثر ہوئے۔ لیکن جب ترقی پسندی ایک فارمولا بن گئی تو وحید اس تحریک کا بہت دور تک ساتھ نہیں دے سکے۔ انھوں نے ترقی پسندی کا دامن چھوڑ دیا اور جدیدیت کے دائرے میں آگئے۔ ان کا خیال تھا کہ خاص قسم کی آزادی کا پابند ہوجانا نئی طرح کی پابندی ہے ، لیکن جدید شاعر ہونے کے باوجود انھوں نے جدید حیثیت کی پیچیدگی کو اپنانے سے انکار کردیا۔

وحید اختر کے یہاں ذات کے کرب کا نوحہ بھی نہیں ملتا، جو جدید شاعری کا فیشن بن گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں ترقی پسندی اور جدیدیت کے درمیان کی کڑی سمجھا جاتا ہے۔ ان کا پہلا مجموعہ ۱۹۶۶ میں شائع ہوا، جس نے ادب کے تمام بڑے ناقدین کو چونکا دیا تھا، اس مجموعے کا عنوان ”پتھروں کا مغنی” تھا، اس مجموعے کی رسم اجرا کے موقعے پر بزرگ نقاد آلِ احمد سرور نے کہا تھا کہ :
”وحید اختر کی شاعری نئی شاعری کے اس پس منظر میں اور بھی زیادہ قابل قدر معلوم ہوتی ہے،انھوں نے جدیدیت کو کسی خاص صنعت، موضوع یا اسلوب میں محدود نہیں کردیا ہے؛بلکہ اپنی بات کو زیادہ بلیغ بنانے کے لیے موقع اور محل کا لحاظ رکھا ہے، کہیں انھوں نے کلاسیکل شاعری کی مرصع زبان سے استفادہ کیا ہے اور کہیں بول چال کے آہنگ سے فائدہ اٹھایا ہے۔”

نظم نگاری

وحید اختر نے نسبتاً طویل نظمیں کہی ہیں،  نظم ‘تنہائی’ میں ۴۷ اشعار ہیں۔  آج کے دور میں ‘تنہائی’ اور ‘کہاں کی رباعی کہاں کی غزل’ جیسی نظموں کو پڑھتے ہوئے اکتاہٹ محسوس ہوتی ہے، وحید اختر کی اکثر طویل نظموں میں فکر و آہنگ کا توازن برقرار ہے۔ اس کا ثبوت ‘کھنڈر آسیب اور پھول’ اور ‘صحرائے سکوت’ جیسی نظمیں ہیں، مجموعی طور پر ان کی نظمیں جدید ذہن کے احساس اور فکر کی نمائندگی کرتی ہیں۔ وحید اختر کی پہچان عام طور پر ان کی نظموں سے ہے ؛لیکن انھوں نے غزلیں بھی کہی ہیں۔

مرثیہ نگاری

وحید اختر کا آخری مجموعہ ”کربلا تا کربلا” ہے جو ان کی مراثی پر مشتمل ہے۔ اگرچہ مرثیہ کہنے والے بھی کم ہیں اور پڑھنے والے بھی،اس کے باوجود ہندوستان سے پاکستان تک مرثیہ نگاروں کا ایک قافلہ رواں دواں ہے۔ وحید اختر نے ایک درجن سے زائد مرثیے کہے۔  نظموں کی طرح وحید کے مرثیے بھی خاصے طویل ہیں۔ ان کے اکثر مرثیے دو سو یا اس سے بھی زائد بندوں کے ہیں۔ وہ جدید مرثیے کے نمائندہ تھے۔ اگرچہ انھوں نے مرثیوں میں کوئی ہئتی تبدیلی نہیں کی، بلکہ ان کا لہجہ بھی کسی حد تک کلاسیکی مرثیوں کی یاد دلاتا ہے ، لیکن فکر و آہنگ کی بنیاد پر وہ ایک منفرد مقام رکھتے ہیں،جدید مرثیے کے تعلق سے ان کا خیال تھا :
”میں جدید مرثیے کو انیس اور ان کی تقلید میں لکھے جانے والے تمام مراثی سے نقطۂ انحراف کی بنا پر الگ کرتا ہوں، انیس و دبیر کی اہمیت مسلم؛ لیکن آج کا شعر، محاورہ اور حالات دوسری زبان اور طرزِ اظہار کا متقاضی ہے۔”

جوش اور جمیل مظہری سے مرثیے کا نیا دور شروع ہوتا ہے اور زیادہ تر مرثیہ نگار ان دو شعرا سے متاثر ہیں ، لیکن وحید اختر کا لب و لہجہ ان سے بالکل جدا اور منفرد ہے۔ انھیں بلاشبہ جدید مرثیہ نگاروں میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔

شاعری

وحید اختر نے اپنی شاعری میں اس کائناتی آہنگ کو برتنے کی کامیاب کوشش کی۔ ’شب کا رزمیہ‘ کی پہلی نظم ’شاعری‘ ہے۔ یہ نظم شاعر کا نظریۂ شعر بھی ہے اور نظریۂ کائنات بھی۔ یہ ایک آزاد نظم ہے جس میں شاعر کا تخیل اپنی ذات کے زنداں سے نکل کر کائنات میں باہیں ڈال دیتا ہے۔ وہ زماں مکاں کی سیر کرتا ہوا ذات کی طرف آتا ہے۔ اس درمیان اسے زندگی اور کائنات کی مختلف سچائیاں متوجہ کرتی ہیں۔ ان سچائیوں کا رشتہ زندگی کی تلخ سچائیوں سے ہے۔ آپ انھیں زندگی کی بدصورتیاں کہہ لیجیے :

  • خلوت ِ ذات کے محبس میں وہ بے نام اُمنگ
  • جس پہ کونین ہیں تنگ
  • چھان کر بیٹھی ہے جو وسعت ِ صحرائے زماں
  • جس کو راس آنہ سکی رسم ورہِ اہلِ جہاں
  • نشۂ غم کی ترنگ
  • خود سے بھی بر سرِ جنگ
  • پستیِ حوصلہ و شوق میں ہے قید وہ رُوحِ امکاں
  • شو رِ بزمِ طرب و شیونِ بزم ِ دل میں
  • دہر کی ہر محفل میں
  • جس نے دیکھی ہے سدا عرصۂ محشر کی جھلک
  • بوئے بازارمیں گُم کردہ رہی جس کی مہک
  • عالم ِ آب و گل میں
  • جہد کی ہر منزل میں
  • اپنے ہی ساختہ فانوس میں ہے قید وہ شعلے کی لپک

تصانیف

  • وحید اختر کی مشہوع تصانیف درج ذیل ہیں :
  • پتھروں کا مغنی۔ (1966)
  • شب کا رزمیہ ۔ (1973)
  • زنجیر کا نغمہ ۔ (1982)
  • کربلا تا کربلا (1991)
  • خواجہ میر درد ( تصوف اور شاعری)

اعزازات

آپ کی گراں قدر ادبی خدمات کی بنا پر آپ کو  ہندوستان کی جانب سے بہت سے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ جن میں غالب ایوارڈ، سہتیہ ایوارڈ شامل ہیں ان کے علاوہ اردو اکادمی ادبیات آندھرا پردیش کی جانب سے بھی بہت سے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

آخری ایام

۱۹۵۵ میں وحید اختر نے ایران کا آخری سفر کیا۔ اس سے پہلے بھی وہاں ان کا قیام رہ چکا تھا۔ وہاں وہ رسالۃ التوحید (انگریزی) کے  مدیر رہے تھے۔ اس بار کے سفر میں وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہوئے اور پھر اسی سال گردے کی خرابی ہوئی جس کے سبب ان کا حیدرآباد کے اپولو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس کے بعد ۱۹۹۶ میں انہیں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ میں داخل کرایا گیا۔ آخر کار وہ قت آپہنچا کہ وہ ۱۳ دسمبر ۱۹۹۶ کو ۶۱ برس کی عمر میں آغوش اجل میں چلے گئے اور اپنے ادبی وجود کا سکّہ جہان ادب پر بٹھا گئے۔

منتخب کلام

وحید اختر کی زبان زد عام  غزل مندرجہ ذیل ہے۔

Quiz on Waheed Akhtar

وحید اختر 1
Advertisements