Advertisement

غزل

جسے عشق کا تیر کاری لگے
اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے
نہ چھوڑے محبت دم مرگ لگ
جسے یار جانے سوں یاری لگے
نہ ہووے اس جگ میں ہرگز قرار
جسے عشق کی بے قراری لگے
ہر ایک وقت مجھ عاشق زار کوں
پیاری! تیری بات پیاری لگی
وؔلی سوں کہے تو اگر اِک بچن
رقیباں کے دل میں کٹاری لگے

تشریح

پہلا شعر

جسے عشق کا تیر کاری لگے
اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے

شاعر کہتا ہے کہ جسے عشق کا کار گر تیر لگ جائے اس کے لیے زندگی دُشوار ہو جاتی ہے۔اس کے لیے زندگی گویا آسان نہیں رہتی۔ یعنی جِسے ایک بار عاشق ہوجاتا ہے وہ پھر مُشکلوں اور مُصیبتوں سے بچ نہیں سکتا۔

Advertisement

دوسرا شعر

نہ چھوڑے محبت دم مرگ لگ
جسے یار جانے سوں یاری لگے

کہ ایک بار جو معشوق کو اپنا بنا لیتا ہے، اس سے محبت کر بیٹھتا ہے اور پھر مرتے دم تک اس محبت کو چھوڑ نہیں پاتا۔

Advertisement

تیسرا شعر

نہ ہووے اس جگ میں ہرگز قرار
جسے عشق کی بے قراری لگے

کہ جس کو ایک بار عاشق کی بے قراری لگ جاتی ہے جو ایک بار عشق کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔اسے پھر دنیا میں کہیں بھی اور کبھی بھی قرار میسّر نہیں آسکتا۔

Advertisement

چوتھا شعر

ہر ایک وقت مجھ عاشق زار کوں
پیاری! تیری بات پیاری لگی

کے اے میری پیارے، میرے محبوب میں تمہارا زبردست چاہنے والا ہوں اور مجھے تمہاری ہر بات بہت پیاری، بھلی لگتی ہے۔

پانچواں شعر

وؔلی سوں کہے تو اگر اِک بچن
رقیباں کے دل میں کٹاری لگے

کہ اگر تو ایک لفظ وؔلی کو مخاطب ہو کر کہہ دے تو سارے رقیبوں کے دلوں پر چُھریاں چل جائیں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement