غزل

شغل بہتر ہے عشق بازی کا
کیا حقیقی و کیا مجازی کا
ہر زباں پر ہے مثلِ شانہ مُدام
ذکر تجھ زُلف کی درازی کا
آج تیری بھواں نے مسجد میں
ہوش کھویا ہے ہر نمازی کا
گر نہیں رازِ عشق سوں آگاہ
فخر بے جا ہے رازی کا
اے ولی! سرو قد کو دیکھوں گا
وقت آیا ہے سرفرازی کا

تشریح

پہلا شعر

شغل بہتر ہے عشق بازی کا
کیا حقیقی و کیا مجازی کا

اس شعر میں صوفیانہ خیالات کا اظہار ہوا ہے۔شاعر کہتا ہے کہ عشق کا شغل، محبت کا کام دراصل سب سے بہتر کام ہے۔وہ عشق چاہے عشقِ حقیقی ہو یا عشق مجازی بھی یعنی اس کے بندوں سے عشق بھی اور دراصل اس تک پہنچانے کا ایک زینہ ہے۔

دوسرا شعر

ہر زباں پر ہے مثلِ شانہ مُدام
ذکر تجھ زُلف کی درازی کا

شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب تمہاری زُلفیں بہت دراز ہیں اور کنگی کی زبان کی طرح جو ہر وقت تمہاری زُلفوں میں رہتی ہے، ہر کسی کی زبان پر ہمیشہ تمہاری زُلفوں کی درازی کا تذکرہ رہتا ہے۔

تیسرا شعر

آج تیری بھواں نے مسجد میں
ہوش کھویا ہے ہر نمازی کا

شاعر کہتا ہے کہ اے میرے محبوب تیری بھویں چونکہ مسجد کی محراب کی طرح ہیں۔ لہذا نماز ادا کرنے گئے لوگوں کی نظر جب محراب پر پڑی تو انھیں تمہاری محراب نما بھویں یاد آگئیں اور وہ اپنا ہوش و حواس کھو بیٹھے۔اور اس طرح ان کی نماز خطا ہوگی۔

چوتھا شعر

گر نہیں رازِ عشق سوں آگاہ
فخر بے جا ہے رازی کا

شاعر کہتا ہے کہ اگر کوئی عاشق کے رازوں سے آگاہ نہیں ہے، آشنا نہیں ہے تو اس کو اہلِ ایران ہونے کا فخر زیب نہیں دیتا۔ اس کا شہر ایران سے ہونے کا فخر بے جا ہے۔

پانچواں شعر

اے ولی! سرو قد کو دیکھوں گا
وقت آیا ہے سرفرازی کا

مقطع میں شاعر کہتا ہے کہ اے وؔلی آج اس قدر محبوب کے دیدار ہوں گے چونکہ عاشق کے لیے اس سے بڑا کوئی اعزاز نہیں ہوسکتا ہے۔لہذا وہ کہتا ہے کہ آج سرفرازی کا وقت آگیا ہے اس دراز قد محبوب کے دیدار ہوں گے۔

Advertisements