غزل

کیا مجھ عشق نے ظالم کوں آب آہستہ آہستہ
کہ آتش گُل کوں کرتی ہے گُلاب آہستہ آہستہ
عجب کچھ لُطف رکھتا ہے شب خلوت میں گلروسوں
خطاب آہستہ آہستہ، جواب آہستہ آہستہ
مرے دِل کوں کیا بےخود،تیری آنکھیاں نے آخر کو ں
کہ جیوں بے ہوش کرتی ہے شراب آہستہ آہستہ
ادا و نازسوں آتا ہے وہ روشن جبیں گھر سوں
کہ جیوں مشرق سوں نکلے آفتاب آہستہ آہستہ
وؔلی مجھ دِل میں آتا ہے خیالِ یار بے پروا
کہ جیوں انکھیاں منیں آتا ہے خواب آہستہ آہستہ

تشریح

پہلا شعر

کیا مجھ عشق نے ظالم کوں آب آہستہ آہستہ
کہ آتش گُل کوں کرتی ہے گُلاب آہستہ آہستہ

شاعر کہتا ہے کہ میرے عشق نے اس ظالم محبوب کو بل آخر خراب کردیا۔ یعنی اس کی تلخی اور سختی کو نرمی میں تبدیل کردیا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح آگ کی آنچ سے پھول عرق میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ہمارے عشق کی تپش نے بھی اس ظلم کرنے والے محبوب کو کرم کرنے پر مجبور کر دیا۔

دوسرا شعر

عجب کچھ لُطف رکھتا ہے شب خلوت میں گلروسوں
خطاب آہستہ آہستہ، جواب آہستہ آہستہ

شاعر کہتا ہے کہ تنہائی کی رات میں اس پھول جیسا چہرہ رکھنے والے یعنی خُوب صُورت محبوب کے ساتھ دھیرے، آہستہ کلام کرنا اور اسی دھیمےاور نرم لہجے میں اس کا جواب دینا، کچھ ایسا لُطف رکھتا ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔

تیسرا شعر

مرے دِل کوں کیا بےخود،تیری آنکھیاں نے آخر کو ں
کہ جیوں بے ہوش کرتی ہے شراب آہستہ آہستہ

شاعر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ میرے دل کو تمہاری آنکھوں نے بل آخر ایسا بے ہوش کر دیا کہ جیسے دھیرے دھیرے شراب اپنا اثر دکھاتی ہے اور پینے والوں کو بے خود کر دیتی ہے۔

چوتھا شعر

ادا و نازسوں آتا ہے وہ روشن جبیں گھر سوں
کہ جیوں مشرق سوں نکلے آفتاب آہستہ آہستہ

شاعر کہتا ہے کہ میرا محبوب جس کی پیشانی مِثلِ آفتاب روشن ہے، اس طرح ناز و انداز سے اپنے گھر سے نکلتا ہے جیسے دھیرے دھیرے مشرق سے سُورج طلوع ہوتا ہے۔

پانچواں شعر

وؔلی مجھ دِل میں آتا ہے خیالِ یار بے پروا
کہ جیوں انکھیاں منیں آتا ہے خواب آہستہ آہستہ

شاعر کہتا ہے کہ میرے دل میں میرے محبوب کا خیال اس طرح بے روک ٹوٹ آتا ہے جیسے دھیرے دھیرے آنکھوں میں خواب آتا ہے دل میں محبوب کے خیال کو آنکھوں میں خواب آنے سے تشبیہ دی ہے جو واقعی نادر تشبیہ ہے۔

Advertisements