غزل

عشق، بے تاب جاں گدُازی ہے
حُسن مشتاقِ دِل نوازی ہے
اشکِ خونیں سوں جو کیا ہے وضو
مذہب عشق میں نمازی ہے
جو ہوا رازِ عشق سوں آگاہ
وہ زمانے کا فخر رازی ہے
جاکے پہنچی ہے حدِظُلمت کوں
بس کہ تجھ زُلف میں درازی ہے
اے وؔلی!عیش ظاہری کا سبب
جلوۂ شاہدِ مجازی ہے

تشریح

پہلا شعر

عشق، بے تاب جاں گدُازی ہے
حُسن مشتاقِ دِل نوازی ہے

شاعر کہتا ہے کہ عشق جاں گدُازی، جان دُکھی کرنے کے لئے بے قرار رہتا ہے اور حُسن مہربانی، عنایت اور تشفی کا مشتاق ہے، چاہنے والا ہے۔

دوسرا شعر

اشکِ خونیں سوں جو کیا ہے وضو
مذہب عشق میں نمازی ہے

نماز ادا کرنے سے پہلے پاک ہونے کے لئے وضو کیا جاتا ہے یعنی ہاتھ مُنہ دھویا جاتا ہے۔ اب شاعر کہتا ہے کہ جو کوئی دل کو خون کر سکتا ہے اور ان خون کے آنسوؤں سے وضو کر سکتا ہے،عشق کے مسلک میں دراصل نمازی وہی ہے۔ گویا وہی عاشق ہے۔ جو مصائب جھیل نہیں سکتا، دل کو خون نہیں کر سکتا، وہ سچا عاشق نہیں ہو سکتا۔

تیسرا شعر

جو ہوا رازِ عشق سوں آگاہ
وہ زمانے کا فخر رازی ہے

شاعر کہتا ہے کہ جو آدمی عشق کے رازوں کا آشنا ہو جائے،جو عشق کے رازوں سے آگاہی حاصل کرلے اس کو زمانے میں وہ مرتبہ مل جاتا ہے کہ جس پر وہ فخر کر سکتا ہے۔

چوتھا شعر

جاکے پہنچی ہے حدِظُلمت کوں
بس کہ تجھ زُلف میں درازی ہے

ظلمت و تاریکی ہے جس میں آبِ حیات کا چشمہ خیال کیا جاتا ہے۔شاعر کہتا ہے کہ تمہاری سیاہ زُلفیں اس قدر دراز ہیں کہ حدِ ظُلمت کو چُھوٹی نظر آتی ہیں۔

پانچواں شعر

اے وؔلی!عیش ظاہری کا سبب
جلوۂ شاہدِ مجازی ہے

غزل کے مقطع میں شاعر خود سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اے وؔلی ہماری اس ظاہری عیش کا سبب دراصل مجازی محبوب کی جلوہ آرائی ہے۔

Advertisements