غزل

طالب نہیں مہر و مشتری کا
دیوانہ ہوا،جو تجھ پری کا
یو ٗ غمزۂ شوخ ساحری کا
اُستاد ہے سحرِ سامری کا
تجھ تِل سوں، اے آفتاب طلعت!
ممنون ہوں ذرّا پروری کا
کفارِ فرنگ کو دیا ہیجھ
زُلف نے درس کافری کا
توں سر سوں،قدم تلک جھلک میں
گویا ہے قصیدہ انواری کا
خورشید ستی ہوا ہے ہمسر
چیرہ،تیرے سر اُپر زاری کا

تشریح

پہلا شعر

طالب نہیں مہر و مشتری کا
دیوانہ ہوا،جو تجھ پری کا

شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب ایک بار جو تجھ جیسے خوبصورت محبوب کا عاشق ہو جاتا ہے، تیرا دیوانہ ہوجاتا ہے، اسے پھر کسی دوسری چیز کی طلب باقی نہیں رہتی۔ اس کے دل میں چاند تاروں کی خواہش باقی نہیں رہتی۔

دوسرا شعر

یو ٗ غمزۂ شوخ ساحری کا
اُستاد ہے سحرِ سامری کا

اے محبوب تمہارا یہ ان کا ہلکا سا شوخ اشارہ جادُوگری میں سامری کے جادو کا استاد ہے۔ سامری کا جادو وہ ہے کہ جس نے حضرت موسٰی کے زمانے میں سونے کے بچھڑے میں گویائی پیدا کر دی تھی۔

تیسرا شعر

تجھ تِل سوں، اے آفتاب طلعت!
ممنون ہوں ذرّا پروری کا

شاعر کہتا ہے کہ تمہارے اس سورج جیسے چمکتے چہرے پر جو تِل ہے، گویا نا چیز کو تو نے اعلٰی بنا دیا ہے۔ تمہاری اس ذرّہ پروری کا بہت مشکور ہوں۔ تو نے تل کو اپنے خوب صورت چہرے پر جگہ دی۔ یہ ذرّا پروری کی ایک مثال ہے۔

چوتھا شعر

کفارِ فرنگ کو دیا ہیجھ
زُلف نے درس کافری کا

شاعر کہتا ہے کہ اہل فرنگ جو اسلام کو نہیں مانتا، کافر ہے دراصل اے محبوب اس کو تمہاری زُلفوں نے کافری کا سبق پڑھا کر گُمراہ کر دیا ہے۔ ورنہ وہ بھی کافر نہ ہوتا۔

پانچواں شعر

توں سر سوں،قدم تلک جھلک میں
گویا ہے قصیدہ انواری کا

اے شوخ محبوب تو آب و تاب کا ایک مجسمہ ہے۔ سر سے پاؤں تک آپ و تاب اور مشاہسبہ میں تو جیسے انوری کا قصیدہ ہے۔ انوری فارسی کا زبردست قصیدہ گو شاعر ہے۔گویا اے محبوب تو سر سے پاؤں تک وہی آب و تاب رکھتا ہے جو انواری کے قصیدے میں ہوتی ہے۔

چھٹا شعر

خورشید ستی ہوا ہے ہمسر
چیرہ،تیرے سر اُپر زاری کا

شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب تیرے سر پر سونے کی ایک خوب صورت لیکرسی جو مانگ ہے۔ خورشید کی کرنوں کر رہی ہے۔ اس میں وہی سحج دھج ہے،وہی چمک ہے جو خورشید کی کرنوں میں ہوتی ہے۔

Advertisements