Advertisement

ورزش جسمانی سر گرمیاں اور مصروفیت کا نام ہے۔ورزش کا رجحان ہماری فطرت میں پایا جاتا ہے۔ورزش سے تفریح اور مسرت حاصل ہوتی ہے۔ورزش کرنے سے کاہلی اور سستی دور بھاگتی ہے اور بندہ چاک و چوبند اور مستعد ہو جاتا ہے۔برج زندہ دلی کا باعث بنتی ہے جسم کو آسودگی سے ہمکنار کرتی ہے۔

Advertisement


خوبصورت اور سمارٹ جسم


دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں ہو گا جو تندرستی کو نیم تنہ سمجھتا ہو۔آج کل ہر شخص خوبصورت اور سمارٹ اور جاذب نظر آنا چاہتا ہے۔ایک شخص دوسرے سے استفسار کرتا ہے کہ وہ کیسا نظر آتا ہے۔کسی کا خیال ہے کہ مرغن غذاؤں کے استعمال سے اس کا جسم بھدا ہو جاتا ہے۔ہر کوئی کہے گا کے مسلسل آرام کرنے سے اس کا پیٹ بڑھ گیا ہے۔کوئی اس وہم میں مبتلا ہے کہ اس کے جسم میں کولیسٹرول اور کیلوریز کا اضافہ ہو رہا ہے۔ان وہموں اور غلط فہمیوں کی دھند دور کرنے کے لیے ورزش وہ ورزش کا سہارا لیتے ہیں۔صحت کے ماہرین یہ کہتے ہیں کہ لوگ خوراک سے نہیں، آرام سے فربہ ہوتے ہیں۔موٹاپے کا شکار لوگوں اور چست جسم کے مالک افراد کے بارے میں رائے دینے سے قبل ان کے پیشوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ بیٹھ کر کام کرنے والوں کا وزن زیادہ بڑھ جاتا ہے۔جو لوگ جسمانی کام کرتے ہیں، ان کا وزن نہیں بڑھتا، وزن کم کرنے کے جنون میں کئی دنوں تک کھانا کھانے سے اجتناب کرنا اور پھلوں اور دودھ وغیرہ سے پرہیز کرنا بے شمار بیماریوں کو دعوت دیتا ہے۔اسمارٹ نظر آنے کو جنون اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ بعض خواتین اپنے جسم سے خون بھی نکل وا دیتی ہے۔مسلسل فاقہ کشی سے جسم میں وٹامن اور پروٹین وغیرہ کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔
سوس آتا ہے کہ اس کے جسم کے پٹھے نمایاں نظر آئیں تاکہ لوگ اس کے سڈول جسم کی تعریف کریں۔پٹھوں کی خوبصورتی کے لئے ورزش نہایت ضروری ہے۔ورزش کرنے والے شخص کا جسم پرکشش ہوتا ہے۔ورزش سے چربی پگھلتی ہے اور پٹھوں کے ریشے مضبوط ہوکر ابھرتے ہیں۔

Advertisement


ذہنی کارکردگی میں اضافہ


بعض حضرات کا خیال ہے کہ ورزش جسم کی مضبوطی اور اسکے سڈول پن کا نام ہے۔انہیں یہ علم نہیں ہوتا کہ وہ ذہنی کارکردگی، استعداد اور قوت میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے،بندے کو تندرستی اور توانائی کا احساس ہوتا ہے۔انسان کی سوچ مثبت ہوتی جاتی ہے۔اگر انسان میں قوت برداشت کا فقدان ہو تو وہ انسان چڑچڑا سا ہوجاتا ہے۔بات بات پر جھگڑ پڑتا ہے۔ایکسرسائیز کے ذریعے قوت برداشت پیدا ہوتی ہے۔کسی کھیل کی ابتدا میں یہ کسی ورزش کی ابتدائی ایام میں آپ کو تھکن ہوجاتی ہے،لیکن جب آپ اس کے لئے ورزش کے مستقل عادی ہو جاتے ہیں تو آپ تھکن محسوس نہیں کرتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی قوت برداشت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار مریضوں کو ڈاکٹر عموما تسکین پہنچانے والی ادویات تجویز کرتے ہیں۔حلا کہ نشہ آور سکون بخش ادویات مرض میں صرف عارضی افاقے کا باعث بنتی ہے۔باقاعدگی سے ورزش کرنے سے پٹھوں کا دباؤ اور تناؤ کم ہو کر رہ جاتا ہے اور مریض اپنے آپ کو تروتازہ اور ہشاش بشاش محسوس کرتا ہے۔چہل قدمی سے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور یہیں سے جسمانی صحت مندی کے دروازے کھلتے ہیں۔سروپ ورزش کے عادی ہوجاتے ہیں ان کی ذہنی کارکردگی میں خاطر خواہ اضافہ ہوجاتا ہے۔

Advertisement


ورزش کی اقسام


یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں ابھرتا ہے کہ ورزش کس قسم کی کرنی چاہیے اور اس کا دورانیہ کتنا ہونا چاہیے؟ہر کسی کے لیے ہر ورزش ہے بھی نہیں۔مثال کے طور پر ایک شخص کا فطری میلان جسم کے پٹھے مضبوط اور خوبصورت بنانے کی طرف ہے تو اس کے لئے ویٹ لفٹنگ سودمند ثاہت ہوگئی۔
بعض لوگ زیادہ دیر بیٹھ کر کام کرتے ہیں مثلا ڈاکٹر، پروفیسر، وکیل اور طالب علم ان کے لئے چلنا، دوڑنا، پھرنا یا سائیکل وغیرہ چلانا ہی کافی ہے۔
ٹینس، باسکٹبال، ہاکی اور فٹبال ایسی کھیلیں ہیں جن میں بھاگ دوڑ کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے،اس لیے اس ورزش کے دوران کی کیلوریز استعمال ہوتی ہیں۔اس سے دوران خون تیز ہوتا ہے اور جسم کے ہر حصے میں آسانی سے پہنچ جاتا ہے۔
ورزش کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ ورزش کی کتنی شدت برداشت کر سکتے ہیں۔کمزور حضرات بھاری ورزش کرنے سے اجتناب کریں کیونکہ اگر وہ اپنی قوت سے بڑھ کر ورزش کریں گے تو انہیں فائدہ ہونے کے بجائے نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
جہاں تک ورزش کے دورانیے کا تعلق ہے تو یہ ہر شخص کی قوت برداشت پر منحصر ہے۔ورزش میں اگر شدت زیادہ ہو تو اس کا دورانیہ کم ہوگا اور اگر شدت کم ہو تو اس کا دورانیہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

بعض لوگ تنگ وتاریک مکانات میں رہائش پذیر ہوتے ہیں۔وہ صبح دیر سے جاگتے ہیں اور جلدی جلدی ناشتہ کر کے یا ناشتے کے بغیر ہی دکان پر چلے جاتے ہیں۔دفتر یا دکان میں زیادہ تر بیٹھ کر کام کرتے ہیں اور کام کے دوران چائے سگریٹ پیتے ہیں۔جب وہ گھر واپس آتے ہیں تو چارپائی پر لیٹ جاتے ہیں۔انہیں نہ تو کسی کھیل سے دلچسپی ہوتی ہے نہ ورزش سے۔انہیں اکثر بد ہضمی کی شکایت رہتی ہے بلکہ وہ چڑچڑے ہوجاتے ہیں۔

Advertisement

یہی چڑچڑاپن انہیں ڈپریشن کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔زندگی کے بہاروں میں انھیں خزائیں دکھائی دینے لگتی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تھکے ہوئے ذہن کی سوچ اور فکر بھی تھکی ہوتی ہے۔یہی لوگ اگر تازہ ہوا میں رہیں، صبح جلدی جاگیر رات کو جلدی سے کھانا وقت پر کھایا چائے اور سگریٹ پر سے پرہیز کریں اور باقاعدگی سے ورزش کریں تو انہیں زندگی کے آسمان پر چاند ستارے چمکتے نظر آسکتے ہیں۔وہ مایوسیوں اور ناامیدیوں میں بھی مسکرا سکتے ہیں۔ورزش سے طبیعت میں شگفتگی پیدا ہوتی ہے اور تفکرات سے نجات ملتی ہے۔

آج کل جس سے بات کرو وہ مہنگائی، دہشت گردی، کم آمدنی اور بیماری کے موضوع پر بات کرتا ہے۔میری اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ انتشار اور پریشانی کا دور ہے۔اس کے علاوہ ان لوگوں نے بھی بہت سے غم اور دکھ اپنے خانہ دل میں بسا رکھے ہیں۔بجلیاں انہیں غم زدہ اور مایوس لوگوں کے آشیانوں کو جلاتی ہیں اور زلزلے انہی کے نشیمن پر بربادیاں لاتے ہیں۔ہر مشکل انہی کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔

Advertisement

جب دل سے زندہ دلی نکل جائے اور زندگی طوفان نظر آنے لگے تو بندہ نشے کا سہارا بھی ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔ورزش کی دنیا میں قدم رکھتے ہی انسان کو سکون میسر آئے گا۔زندگی اسے گلاب کے پھولوں کی طرح کھلی ہوئی دکھائی دے گی اور زندگی کے کٹھن اور نا گوار لمحات بھی اسے پر مسرت محسوس ہوں گے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement