• کتاب”اپنی زبان”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر19:نظم
  • شاعر کا نام: زبیر رضوی
  • نظم کا نام:یہ ہے میرا ہندوستان

نظم یہ ہے میرا ہندوستان کی تشریح

یہ ہے میرا ہندوستان
میرے سپنوں کا جہان
اس سے پیار ہے مجھ کو
ہنستا گاتا جیون اس کا دھوم مچاتے موسم
گنگا جمنا کی لہروں میں سات سروں کے سرگم
تاج ایلورا جیسے سندر تصویروں کے البم
یہ ہے میرا ہندوستان

یہ اشعار”زبیر رضوی” کی نظم "یہ ہے میرا ہندوستان” سے لیے گئے ہیں۔اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ مجھے میرے وطن ہندوستان سے بہت زیادہ پیار ہے۔ یہ وطن میرے خوابوں کی دنیا ہے۔یہاں کی زندگی ہر لمحہ انسان کو خوشیوں کا احساس دلاتی ہے اور اس سر زمین میں ہر طرح کے موسم موجود ہیں۔ جو بہت دھوم اور شان و شوکت سے آتے اور یہاں کے باسیوں کو لطف اندوز کرتے ہیں۔ یہاں کی ندیوں گنگا اور جمنا کی لہروں میں بھی موسیقی کے سات سروں جیسا مدھر احساس پایا جاتا ہے۔ یہاں کی پرشکوہ عمارات یعنی تاج محل اور ایلورا کے غار اس قدر خوبصورت ہیں کہ ان کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ جیسے یہ کوئی عمارات نہ ہوں بلکہ خوبصورت تصویری کتاب ہو۔میرا ملک ہندوستان ایسا خوبصورت ہے۔ یہاں شاعر نے تاج اور ایلورا کو تصویر کے البم سے تشبیہ دی ہے۔

بادل جھومے برکھا برسے پون جھکولے کھائے
دھرتی کے پھیلے آنگن میں یوں کھیتی لہرائے
جیسے بچہ ماں کی گود میں رہ رہ کے مسکائے
یہ ہے میرا ہندوستان

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ یہاں جب بادل اپنا ڈیرہ بساتے ہیں اور فضا میں ادھر ادھر لہراتے پھرتے ہیں۔ بارش برستی ہے اور ہوا کے جھونکے آتے ہیں۔ اس منظر سے یہاں کی سرزمین میں موجود کھیت لہرا اٹھتے ہیں۔ ان کھیتوں کا لہرانا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کوئی بچہ اپنی ماں کی گود میں مسکرا رہا ہو۔ میرا ہندوستان اس قدر خوبصورت ہے۔ شاعر نے کھیتوں کے لہلانے کو بچے کی مسکراہٹ سے تشبیہ دی ہے۔

Advertisement
راجا رانی گڈا گڈی اور پریوں کی کہانی
بچوں کے جھرمٹ میں سنائے بیٹھ کے بوڑھی نانی
لوری گائے ماتھا چومے ممتا کی دیوانی
یہ ہے میرا ہندوستان

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ میرے ہندوستان کی سرزمین میں ایسی روایات چلی آتی ہیں کہ بوڑھی نانی اپنے گرد بچوں کا جھرمٹ اکھٹا کیے ہوئے انھیں راجا رانی اور پریوں کی کہانیاں سناتی ہے۔ماں یہاں اپنے بچوں کو گود میں لیے لوری سناتی اور ان کا ماتھا چومتی اپنی ممتا کا اظہار کرتی دکھائی دیتی ہے۔

غالب اور ٹیگور یہیں کے میرا کالی داس
یہیں ہوا تھا سچائی کا گوتم کو احساس
یہیں لیا تھا ساتھ رام کے سیتا نے بن باس
یہ ہے میرا ہندوستان

اس بند میں شاعر ہندوستان کی سرزمین کی ادبی و ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ وہ سرزمین ہے جہاں سے غالب جیسے آفاقی فکر کے حامل مایہ ناز شاعر اور ٹیگور،میرا داس کا تعلق ہے۔ اسی سر زمین پر گوتم بدھ نے سچائی کا نروان پایا تھا۔ اس سرزمین سے رام اور سیتا کا تعلق تھا اور یہیں انھوں نے بن باس لیا تھا۔یعنی یہ سرزمین ہر لحاظ سے اپنے اندر عظمت سمیٹے ہوئے ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

شاعر اس گیت میں کیا کہنا چاہتا ہے؟

شاعر اس گیت میں ہندوستان کی سرزمین کی عظمت کو آشکار کرنا چاہتا ہے کہ یہاں کی سر زمین موسموں، فصلوں،لوک روایات اور علم و ادب ہر لحاظ سے عظیم ہے۔

اس نظم میں شاعر نے کن قدرتی مناظر کا ذکر کیا ہے؟

اس نظم میں شاعر نے ہندوستان کے خوبصورت موسموں اور گنگا و جمنا کی مدھر لہروں،جھومتے بادلوں،برستی بارش اور لہراتی ہوا کے ساتھ یہاں کے کھیتوں کے خوبصورت مناظر کو بیان کیا ہے۔

غالب کون تھے؟

غالب اردو ادب کے عظیم شاعر ہیں۔ان کا پورا نام مرزا اسد اللہ خان غالب تھا۔آپ ہندوستان کی سرزمین میں پیدا ہوئے۔اپنے عہد میں درباری شاعر کے رتبے پر بھی فائز رہے۔

گوتم بدھ کو کس بات کا احساس ہوا تھا ؟

گوتم بدھ کو سچائی کا نروان حاصل ہوا تھا کہ ہر چیز زندگی کا احساس لیے ہوئے ہے۔

ہنستا گاتا جیون اس کا دھوم مچاتے موسم
گنگا جمنا کی لہروں میں سات سروں کے سرگم
تاج ایلورا جیسے سندر تصویروں کے البم
یہ ہے میرا ہندوستان

اس بند کا مفہوم آسان لفظوں میں لکھیے۔

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ میری دھرتی کی زندگی ہر لمحہ انسان کو خوشیوں کا احساس دلاتی ہے اور اس سر زمین میں ہر طرح کے موسم موجود ہیں۔ جو بہت دھوم اور شان و شوکت سے آتے اور یہاں کے باسیوں کو لطف اندوز کرتے ہیں۔ یہاں کی ندیوں گنگا اور جمنا کی لہروں میں بھی موسیقی کے سات سروں جیسا مدھر احساس پایا جاتا ہے۔ یہاں کی پرشکوہ عمارات یعنی تاج محل اور ایلورا کے غار اس قدر خوبصورت ہیں کہ ان کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ جیسے یہ کوئی عمارات نہ ہوں بلکہ خوبصورت تصویری کتاب ہو۔میرا ملک ہندوستان ایسا خوبصورت ہے۔ یہاں شاعر نے تاج اور ایلورا کو تصویر کے البم سے تشبیہ دی ہے۔

مصرعے مکمل کیجیے۔

غالب اور ٹیگور یہیں کے میرا کالی داس
یہیں ہوا تھا سچائی کا گوتم کو احساس
یہیں لیا تھا ساتھ رام کے سیتا نے بن باس
یہ ہے میرا ہندوستان

واحد سے جمع اور جمع سے واحد بنایے۔

واحدجمع
سرسروں
کھیتیکھیتیاں
لہرلہروں
تصویرتصاویر
پریپریاں

پڑھیے سمجھیے اور لکھیے۔

موسم ، سرگم ،البم اس گیت کے پہلے بند میں موسم ، سرگم ، اہم قافیے استعمال ہوۓ ہیں ۔ ایک جیسے آواز اور حرف پرختم ہونے والے الفاظ کو’ قافیہ کہتے ہیں۔ اس گیت کے باقی بندوں کے قافیوں کو تلاش کر کے لکھیے۔

کھائے ،لہرائے ،مسکائے۔
کہانی،نانی،دیوانی۔
داس ،احساس،باس۔