Advertisement
نظم ”میری ماں“
میری ہر خوشی میری ہرآس ہے میری ماں
میری زندگی کی ہر اک نئی امید ہے میری ماں

میری زندگی کی ہر پرچھائی ہے میری ماں
زندگی کی الجھنوں سے نجات دلائے میری ماں

میرے دوست میری دھڑکن میری دعا ہے میری ماں
گرنے سے اٹھنا ہے جس نے سکھایا، ہے وہ میری ماں

ہر موڑ پر خوشیاں ملنے کا ذریعہ ہے میری ماں
وہ جوہر بلائیں لے صدقے اتارے میری ماں

میرے دکھوں کی ضامن ہے میری ماں
دھوپ میں جو سایہ بنے وہ ہے میری ماں

ڈرودں جو میں، آنچل میں چھپا لے میری ماں
چین جونہ آئے مجھ کو گود میں سکون دے میری ماں

کانٹا چبھےمجھ کو جو درد محسوس کرے میری ماں
میری ہمدرد، میری طاقت جو ہے میری ماں

ڈرجاؤں مشکل منزلوں سےآسان بنائے میری ماں
میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میری ماں

میرے آنسو جس سے دیکھے نہ جائیں ہے وہ میری ماں
میرے دل کا چین، میری روح کا سکون ہے میری ماں

میری جیت میری مسکراہٹ ہے میری ماں
میرا درد جس سے برداشت نہ ہو ہے وہ میری ماں

میری مہکتی ہوئی سانس ہے میری ماں
لوریاں دے کے جو مجھ کو سلائے ہے وہ میری ماں

میری جان، میرا دل، میرا سب کچھ ہے میری ماں
میری ہر خوشی میری ہرآس ہے میری ماں
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement