اپنے والد صاحب کو سرینگر میں برف کی مشکلات کے متعلق ایک خط

سرینگر کشمیر
مورخہ 8 فروری 2004

پیارے والد صاحب
السلام علیکم!

آپ کو اخباروں اور ریڈیو سے یہ خبر ملی ہوگی کہ یہاں اس بار اکتوبر میں کافی برف پڑ چکی ہے۔ میں آپ کو خط نہ لکھ سکا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ ڈاک بند تھی ہفتوں ہوائی جہاز نہیں گیا بانہال کی سڑک بند تھی۔ بارش کی وجہ سے سردی کا حال کچھ نہ پوچھئے۔ کانگڑی سے بھی سکون نہیں ملتا تھا۔ دو روز بخاری جلائی تو راتوں کو آرام نصیب ہوا۔ سرینگر کا یہ عالم میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اناج کو بھی کافی نقصان پہنچا، باہر سے جو چاول آرہے تھے وہ بانہال تک رکے پڑے تھے اور یہاں شہر اور گاؤں میں لوگ بے چین تھے۔ برف نے ننھے پودوں کو کافی نقصان پہنچایا، اس سے قبل سیلاب سے تباہی ہوئی تھی اور باقی جو کچھ بچا برف کی نظر ہو گیا۔ برف وقت پر ہی اچھی ہوتی ہے۔ اس وقت برف دیکھ کر بڑی کوفت ہوئی۔

سردی میں کانپتے ہوئے ہم سکول جاتے تھے اور وہاں بارش اور برف کی وجہ سے تمام کمرے میں اندھیرا ہوتا تھا۔دو روز بجلی بھی غائب رہی، ہماری تکلیف کے باعث اسکول دو روز کے لیے بند کردیا گیا۔ اس سے قدرے راحت و سکون ملا۔ سرکاری دفاتر کھلے رہے اور حکومت کا کام ہوتا رہا۔

ایسی فضا پیدا کر کے قدرت لوگوں کے صبر و تحمل کا امتحان لیتی ہے اور شکر ہے کہ لوگوں نے خاموشی سے قدرت کی ستم ظریفی برداشت کی۔

موسم اب بھی ٹھیک نہیں ہے۔ آسمان ابر آلود ہے۔ ریڈیو والے جب کہتے ہیں موسم خشک رہے گا اس روز بارش ضرور ہوتی۔ یہ محض اتفاق ہے آج بھی ریڈیو نے موسم سے متعلق ایسی ہی پیشن گوئی کی ہے۔

دعا فرمائیے خدا رحم کرے۔

امی جان کی خدمت میں سلام

آپ کا فرمانبردار بیٹا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Close