دوست کے نام اپنی بیکاری کے متعلق خط لکھیں

محمد اطہر
27 فروری 2018

میرے ہمدم!

کافی عرصہ کے بعد تمہارا خط ملا۔ یہ جان کر مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ تم نے مجھے لکھنؤ آنے کی دعوت دی ہے۔ لیکن یہاں تو حال یہ ہے کہ؀

ہم نے یہ مانا کہ دلّی میں رہیں کھائیں گے کیا

تم جانتے ہو کہ میں دو برس سے بیکار ہوں۔ نوکری کے لیے کہاں کہاں کی ٹھوکریں کھا چکا ہوں۔ لکھنؤ جاؤں کس امید پر؟

میں زندگی سے مایوس نہیں ہوں۔ البتہ حالات سے بہت گھبرا گیا ہوں۔ تم جانتے ہو مجھے زندگی سے کتنا پیار ہے۔ میں زندگی کی تلخیوں سے گھبرا کر کبھی موت کی آرزو نہیں کرسکتا۔ اگر لکھنؤ میرے لئے کوئی جگہ نکل سکے تو لکھنؤ درخواست بھیج دوں؟ تمہارے قریب رہ کر مجھے بہت سکون حاصل ہو گا۔

اس وقت میری حالت نہ پوچھو۔ اکثر اوقات مایوس اور مغموم سا رہتا ہوں۔ ماں نوکری کی امید لگائے بیٹھی ہے اور میں یہ سوچ رہا ہوں؀

زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

تمہارا دوست
ساجد ملک

Close