مورخہ 11 اگست 2018

                                    میرے نور چشم!

تم نے اپنے خط میں مجھ سے استفسار کیا ہے کہ نیک شہری کے اوصاف کیا ہیں۔عزیزم! نیک شہری اور نیک انسان میں چنداں فرق نہیں۔ ایک وقت تھا جب نیک شہری کو صرف اپنے ہی وطن کا سب سے زیادہ خیال ہوتا تھا اور اس کی اطاعت فقط اپنی ملکی حکومت تک محدود تھی۔مگر آج کی دنیا بدل چکی ہے۔ ایک عالمگیر بھائی چارہ وجود میں آ رہا ہےاور وہ دن دور نہیں جب تمام عالم پر ایک طرح کی مشترکہ سرکار یا کم ازکم بین الاقوامی ادارہ کنٹرول کرے گا۔ اس لئے نیک شہری کا تصور اب وسیع تر ہے۔گویا نیک انسان جس کی نظر میں تمام اہل علم برابر ہیں وہ ینیک شہری ہے۔

                                   سب سے پہلے نیک شہری کے لئے بے غرض خدمت کاجذبہ ضروری ہے۔ تنگ نظری، اخوت اور مساوات کے جذبات کے پنپنے میں سدراہ ہے۔ ایمانداری اور راستی ہر شہری کا جز و ایمان ہونا چاہئے ورنہ جس ملک کا وہ شہری ہے وہ بد نام اور رسوا ہو جائے گا۔ محنت اور ہمت بھی ضروری اوصاف میں سے ہیں اور کم ہمت انسان اہل وطن پر ایک ناگوار بار ثابت ہوتے ہیں اور ملک کی ترقی میں حائل ہوتے ہیں۔ اگر نام اور عزت کی ضرورت ہو تو مشقت سے کام لو۔؀

نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا
سو بار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا

بغض اور جہالت قوم کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے عظیم دشمن ہیں۔ نفرت، عداوت، بے علمی اور جہالت کا جب تک قلع قمع نہ ہوگا دنیا کو سکون وقرار نصیب نہیں ہوسکتا۔؀

انسان کے بغض و جہل سے دنیا تباہ ہے
طوفاں اٹھا رہا ہے یہ مشیت غبار کیا

تماری خوشی و صحت کا طالب

تمہارا والد : محمد اقبال

Close