اپنے دوست کو شادی کی مبارک باد پر ایک خط

کراچی پاکستان

مورخہ 17 اپریل 2017

میرے پیارے راشد! تسلیم

تمہارا خط مل گیا تھا موسم کی خرابی کی وجہ سے ڈاک نہیں نکلی۔ اس لیے جواب جلد نہ دے سکا۔ یہاں تو برف نے سارا رومان کافور کردیا ہے۔ پڑھنے لکھنے میں بھی طبیعت نہیں لگتی۔

مجھے سخت افسوس ہے کہ امتحان کی وجہ سے تمہاری شادی میں شریک نہ ہو سکا۔ تم نہیں سوچ سکتے کہ مجھے اس کا کتنا دکھ ہے۔ بچپن سے سوچتا تھا کہ اپنی بھابی کو سب سے پہلے میں دیکھوں گا۔ انسان حالات کا غلام تو نہیں لیکن بعض اوقات حالات سے مجبور ضرور ہو جاتا ہے اور اسی مجبوری کی وجہ سے میں تمہاری شادی میں شریک نہ ہو سکا۔ میں جانتا ہوں کہ تمہیں بھی اس کا افسوس ہوگا اور تم میری عدم موجودگی شدت سے محسوس کر رہے ہوں گے۔

میری طرف سے تم اور بھابھی دونوں دلی مبارکباد قبول کرو اور آج کی ڈاک سے جو حقیر تحفہ بھیج رہا ہوں اسے قبول کرکے عزت بخشو۔ انشاء اللہ بہت جلد ملاقات ہوگی۔ خدا یہ نئی زندگی تم لوگوں کو مبارک کرے آمین۔

تم سے دور تمہارا
دوست فاروق احمد

Close