Mera School Essay In Urdu | میرا اسکول

میرا اسکول

میں نیشنل پبلک ہائی سکول دہلی کا طالب علم ہوں۔ ہر شخص کو اپنا گھر، اپنا محلہ، اپنا شہر اور اپنا دیش پیارا ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر طالب علم کو اپنا سکول پیارا ہوتا ہے۔ مجھے بھی اپنے اسکول کے ساتھ خاص لگاؤ ہے۔

میں نے اپنے بچپن کے دس سال اس اسکول میں گزارے ہیں اس لئے مجھے اس اسکول کی ہر چیز سے عشق و محبت ہے۔ اس کی اینٹیں، اس کے درخت، پیڑ، پودے،دیواریں، کمرے، سب کے ساتھ مجھے بہت محبت ہے۔ مجھے یہ اسکول اپنے وجود کا ایک حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اپنے اسکول کا ہر طالب علم اور چپڑاسی تک مجھے پیارا ہے۔ میں اس اسکول کے اسٹاف کا نہایت ہی احترام کرتا ہوں اور تمام اساتذہ مجھ پر مہربان ہیں۔

اس اسکول کے ٹیچر ہمیں اپنے بچوں کی طرح پڑھاتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کی طرف خاص دھیان دیتے ہیں۔ وہ ہمارے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔نہایت ہی محنتی اور لائق ہیں۔ ہیڈ ماسٹر صاحب کو جب بھی دفتر کے وقت میں فرصت ملتی ہے تو وہ مطالعہ کرنے لگتے ہیں۔ان کے گھر اور آفس میں تو کتابوں کے ڈھیر لگے رہتے ہیں۔ آپ اتنے اچھے ہیں کہ جو کچھ بھی گھر میں رہ کر یا اسکول آ کر پڑھتے ہیں اس بارے دوسرے دن صبح کی اسمبلی میں سنا دیتے ہیں اس طرح سے ہماری واقفیت میں ہر روز اضافہ ہوتا رہتا ہے اور ہمیں نئی نئی باتوں کے بارے میں پتہ چلتا رہتا ہے۔

ہمارے استاد صاحبان بھی جو کچھ پڑھتے ہیں اس بارے میں کلاس میں اکثر بتا دیا کرتے ہیں۔ اس طرح زمانہ طالب علمی میں ہماری معلومات کافی وسیع ہوگئی ہیں اور ہم ہر موضوع کے بارے میں تھوڑا بہت ضرور جانتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے اسکول میں ویسی ہی پڑھائی ہوتی ہے جیسی ہونی چاہیے تو غلط نہ ہو گا کیونکہ تعلیم کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ طالب علم کے دماغ کی پرورش ہو اور وہ لگاتار ہو تی رہتی ہے۔

ہمارا سکول کافی پرانا ادارہ ہے شاید اس شہر کا سب سے پرانا سکول ہے۔اس کی عمارت کافی بڑی ہے۔ ایک کشادہ ہال ہے جس میں تین چار سو طالبعلم بیٹھ سکتے ہیں۔ ہمارے سالانہ امتحان اسی حال میں ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار شہر والے کوئی اجلاس یہاں بلا لیتے ہیں۔ ہائی اسکول میں تیس چالیس کمرے ہیں یہ نہایت صاف ستھرے ہیں۔صبح صفائی کرنے والا انہیں صاف کرتا ہے اور پھر شام کے وقت جب اسکول میں چھٹی ہوجاتی ہے تو وہ دوبارہ صفائی کرتا ہے۔ اسکول کا چپراسی رامدین باری باری سارے کمروں میں میزوں پر پڑی ہوئی دھول جھاڑتا ہے۔ صبح کے وقت کمروں میں صفائی کرنے کے بعد معمولی چھڑکاؤ بھی کردیتا ہے۔ کبھی کبھی اسکول کا مالی اس کا ہاتھ بٹاتا ہے اور چپراسی چھٹی والے دن مالی کی ہر طرح سے مدد کرتا ہے۔

صفائی کے ساتھ ساتھ اس اسکول میں روشنی کا بھی معقول انتظام ہے۔ جب میں اس اسکول میں داخل ہوا تھا تو اس وقت کمروں میں پنکھے کم ہی تھے مگر اب ہر کمرے میں دو دو تین تین پنکھے لگے ہوئے ہیں۔ اسکول کی اپنی کینٹین بھی ہے جہاں چائے اور کھانے پینے کا سامان کافی سستے میں مل جاتا ہے۔اس کینٹین میں بھی صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب ہر دوسرے تیسرے روز کینٹین اور کمروں کا معائنہ کرتے ہیں۔اسکول میں ایک سٹیشنری کی دکان ہے جہاں بازار کے مقابلے میں سبی پن اور کتابیں وغیرہ سستے دام میں مل جاتی ہیں۔

صفائی کے ساتھ ساتھ اسکول میں پڑھائی کے بہتر طریقے اپنائے جاتے ہیں۔پڑھائی کے وقت نالائق طلبہ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ فالتو ٹائم دے کر ان کی کمی دور کی جاتی ہے۔ ہر دو تین ماہ بعد والدین کو اپنے بچے کی پڑھائی اور اس کی ترقی وغیرہ کے بارے میں اطلاع دی جاتی ہے۔ اسکول میں ہر آخری اتوار کو والدین استاد کا اجلاس بلایا جاتا ہے اس طرح والدین اور استاد صاحبان کے تعلقات زیادہ گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ اگر کوئی لڑکا غلط ہو یا پڑھائی میں کمزور ہو تو اس کے والدین سے صلاح کرکے اسے سدھارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تعلیم کی طرف خاص دھیان دینے کی وجہ سے سکول کے نتائج دوسرے اسکولوں کے مقابلے میں نہایت ہی اعلی آتے ہیں۔ بہت سے طلباء ہر سال میرٹ لسٹ میں آتے ہیں۔

اس اسکول کے پڑھے ہوئے بہت سے طلباء اب بڑے بڑے عہدوں پر لگے ہوئے ہیں۔ کچھ ایک فوج میں بھی ہیں۔ ہمارے ھیڈماسٹرصاحب یہ کوشش کرتے ہیں کہ اسکول کے اولڈ بوائز سال میں ایک مرتبہ ضرور اکھٹے ہوا کریں۔ ایسا عام طور پر دیوالی یا عید کے دنوں میں کیا جاتا ہے۔ 15اگست اور 26 جنوری کے روز بھی اسکول کا سٹاف کوشش کرتا ہے کہ جھنڈا لہرانے کی رسم کو کوئی پرانا طالب علم ہی ادا کرے۔ہر سال سکول سٹاف ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔پھر اس کا چرچا کہیں دنوں تک ہوتا رہتا ہے۔ ہر تقریب سے پہلے اس اسکول کے طالبعلم خوب تیاری کرتے ہیں۔ کمروں کو سجایا جاتا ہے۔ ہال میں رنگ برنگی جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں۔ دیواروں، درختوں اور کیاریوں کے ساتھ چونا لگایا جاتا ہے۔ تقریب والے دن تو خوب ہی رونق ھوتی ھے۔

اس اسکول کی لائبریری بھی کافی مشہور ہے۔ یہاں اردو-ہندی-انگریزی- پنجابی وغیرہ کی بہت سی کتابیں موجود ہیں۔ بچوں کے بہت سے رسائل بھی آتے ہیں۔ تین چار اخبارات بھی ہر روز خریدی جاتی ہیں۔ ہر طالب علم کو کہا گیا ہے کہ وہ ہفتہ میں ایک کتاب لائبریری سے لے کر ضرور پڑھے۔ لائبریری کلرک ہر وقت وہاں موجود ہوتا ہے اور جب بھی کوئی طالبعلم کتاب لینے یا بدلنے کے لیے جاتا ہے تو وہ خندہ پیشانی سے پیش آتا ہے اور اسے اس کے ذوق کے مطابق اچھی سی کتاب دیتا ہے۔

میں تو خدا کے آگے یہی دعا کروں گا کہ یہ اسکول سدا سلامت رہے۔ ہمارے ہر استاد کی عمر دراز ہو اور اس اسکول کے طالب علم زندگی میں ترقی کرکے اپنے والدین اور اس اسکول کا نام روشن کریں۔ آمین۔

Close