Meri Zindagi Ka Maqsad Essay In Urdu | میری زندگی کا مقصد

میری زندگی کا مقصد

ہر شخص جب ہوش سنبھالتا ہے تو وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو امیر ہونے کی خواہش رکھنے کی بجائے یا اچھا گزارا کرنے کے ساتھ ساتھ انسانیت کی سیوا کا جذبہ اپنے دل میں رکھتے ہیں۔ خدا مجھے کس حال میں رکھتا ہے یہ تو خدا ہی جانتا ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ بڑا ہو کر زندگی میں کوئی ایسا پیشہ اختیار کروں جس کی بدولت ساری عمر باعزت روٹی بھی کما سکوں اور انسانیت کی سیوا بھی کرسکوں۔ کیونکہ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے؀

درد دل کے واسطے پیدا کیا انساں کو
ورنہ اطاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

یعنی خدا نے انسانوں کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ ہر وقت عبادت ہی کرتے ہیں رہیں بلکہ لوگوں کی خدمت کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ عبادت بھی ضروری ہے اس سے ڈسپلن پیدا ہوتا ہے اور انسان کا اخلاق بلند ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اگر کوئی انسان خدا کی مخلوق سے پیار کرتا ہے تو خدا ایسے بندوں کو زیادہ پیار دیتا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ ہر انسان کے دل میں خدا کا نور ہے۔ بے شک انسان خدا نہیں اور ایسا دعویٰ کرنے والا کافر ہے مگر انسان خدا کے نور سے جدا بھی نہیں ہے۔ شاعر نے کہا ہے؀

آدم کو خدا مت کہو آدم خدا نہیں
لیکن خدا کے نور سے آدم جدا نہیں


اس لئے میں نے پکا ارادہ کر لیا ہے کہ بڑا ہو کر جہاں ایمانداری سے اپنی روزی کماؤں گا وہاں عوام کی خدمت بھی ساتھ ساتھ کرتا رہوں گا۔ ایسا جذبہ اپنے اندر پیدا کرنے کا درس بھی تو ہر مذہب کے نبیوں نے دیا ہے۔

سیاست کا پیشہ

عوامی خدمت کے لیے کچھ لوگ سیاست کو ترجیح دیتے ہیں مگر آج کل سیاست بد نام ہو گی ہے۔ اگر سیاست میں خدا کا خوف اپنے دل میں رکھ کر ایمانداری سے کام کیا جائے تو بری بات نہیں۔ ایسا کام صرف وہ لوگ ہی کر سکتے ہیں جو امیر ہوں، جن کے پاس اپنی جائداد ہو یا جن کا کوئی کام چل رہا ہو کیونکہ ایماندارانہ سیاست میں آمدنی کی کوئی گنجائش نہیں۔

میں درمیانہ طبقہ سے تعلق رکھتا ہوں۔ جب تک میری آمدنی کا اچھا وسیلہ نہ بن جائے مجھ جیسے لوگوں کو سیاست میں نہیں آنا چاہیے۔ جب عام آدمی سیاست میں آجاتا ہے تو وہ اپنا گھر چلانے کے لیے لوگوں سے روپیہ بٹورنا شروع کردیتا ہے۔ وہ لوگوں سے روپیہ لے کر ان کے کام کرواتا ہے اور جو غریب ضرورت مند ہوتے ہیں ان کے کام نہیں آتا۔ اس طرح سیاست تجارت بن جاتی ہے اور اس کے ذریعے ایک ایماندار آدمی انسانیت کی خدمت نہیں کرسکتا۔ وہ تو ایک طرح سے امیروں کا ایجنٹ بن جاتا ہے اور ان کے لیے ہی کام کرتا ہے۔ اسے سیاست نہیں شیطانی کام بھی کہا جاسکتا ہے۔

دوسرے آج کے بہت سے سیاستدان اپنی طاقت بڑھانے کی چکر میں رہتے ہیں۔ انہیں انسانیت کی بجائے اپنا مفاد اور اپنے گروپ کا مفاد زیادہ عزیز ہوتا ہے اس وجہ سے وہ اپنے گناہگار ساتھیوں کی حمایت کرکے بھی ایسا گناہ کرتے ہیں جسے خدا ہرگز پسند نہیں کرتا۔

ڈاکٹری کا پیشہ

دوسرا پیشہ ڈاکٹری کا ہے۔ یہ ایک اچھا پیشہ ہے اگر ڈاکٹر روپیہ کے لالچ میں نہ آئے اور عوامی خدمت کا جذبہ رکھے تو وہ انسانیت کے لیے بہت کچھ کرسکتا ہے۔ بعض ڈاکٹر ایسے ہیں جو امیروں سے تو پوری فیس وصول کرتے ہیں اور غریب ضرورت مندوں کو دوائی بھی مفت دے دیتے ہیں ایسے لوگ انسان کہلانے کے حق دار ہیں۔

میرے والدین کی مالی حالت اتنی اچھی نہیں کہ وہ مجھے ڈاکٹری کی تعلیم دلوا سکیں۔ اس لئے یہ پیشہ اچھا ہوتے ہوئے بھی اپنا نہیں سکتا۔ دوسرے ڈاکٹر کے پاس عوام میں جاکر ان کی مشکلات حل کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔ اگر وہ ایمانداری سے مریضوں کی سیوا کرتا رہے تب بھی خدا اس سے ضرور خوش ہو گا۔

وکالت کا پیشہ

ایک اور باعزت پیشہ وکالت کا ہے مگر میں اسے پسند نہیں کرتا۔ بہت سے لوگ جن کے دل میں انسانیت سے پیار ہے اگر وہ یہ پیشہ اپنا لیں تو بہت جلد وہ اس پیشے سے اکتا جاتے ہیں۔ کیونکہ لوگ انہیں اپنی ضمیر کے الٹ کام کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں۔ہر وکیل کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا موکل مقدمہ جیت جائے اس لئے وہ گواہوں کو بیان یاد کراتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر جھوٹ بلواتا ہے۔ اگرچہ اس پیشہ میں آمدنی کافی ہے مگر میں ہمیشہ حق کا ساتھ دینے والا ہوں لہذا مجھ سے یہ پیشہ اپنایا نہ جا سکے گا۔

تجارت کا پیشہ

تجارت کے پیشے میں عزت بھی ہے اور آمدنی بھی واہ واہ ہو جاتی ہے۔ آدمی ایمانداری کے ساتھ کافی پیسہ کما سکتا ہے۔ میں نے بہت سے ایسے دوکانداروں کو دیکھا ہے جنہوں نے اپنی شرین زبانی اور ایمانداری کی وجہ سے اپنا کاروبار چمکایا ہے اور لاکھوں روپیہ کمایا ہے۔ اگر دوکان اچھے اڈہ پر مل جائے تو وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دوکاندار کو سارا دن اپنے کام سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ وہ خیرات تو دے سکتا ہے عوامی بھلائی کے کاموں میں حصہ نہیں لے سکتا۔ اگر وہ انسانی خدمت کے پیش نظر عوامی بھلائی کے کاموں میں حصہ لے گا تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی دکان کی طرف پورا دھیان نہیں دے سکے گا اور پیسہ ہوتے ہوئے بھی میں اس پیشہ میں جانا پسند نہیں کرتا۔ حالانکہ میرے والدین کی خواہش ہے کہ میں ایک کامیاب تاجر بنوں کیونکہ مجھے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا ڈھنگ آتا ہے اور میں ہر ایک کے ساتھ نہایت ہی ادب کے ساتھ پیش آتا ہوں۔

کارخانہ دار کا پیشہ

یہی حالت کارخانے والوں کی ہے۔ انہیں تو گھر آ کر بھی آرام کرنے کی فرصت نہیں ملتی۔ کئی بار گھر بیٹھ کر خط لکھتے ہیں، اپنے کارخانہ بارے سوچتے ہیں، جن لوگوں کو ملنا ہوتا ہے ان کے گھر جاتے ہیں یا پھر مزدوروں کی تلاش میں کارخانہ بند کرنے کے بعد ان کے گھر جاتے ہیں۔ جن لوگوں کو مال سپلائی کیا ہوتا ہے ان سے وصولی کرنے کے لئے ان کے ہاں جاتے ہیں۔ کامیاب کارخانہ دار اگر محنت سے کام کرتا ہے تو وہ اکثر حالتوں میں خوب تھک کر گھر واپس آتا ہے۔ ایسی حالت میں وہ بھی عوامی بھلائی کے لئے چندہ وغیرہ تو دے سکتا ہے مگر بذات خود کسی تحریک میں حصہ نہیں لے سکتا۔ اس کا عوام سے ناطہ ٹوٹ جاتا ہے، اس کا سماج علیحدہ ہوجاتا ہے۔ ہفتہ میں ایک دن اسے فرصت ہوتی ہے کیونکہ اس دن کارخانہ بند ہوتا ہے مگر اس دن بھی اسے کافی مصروفیات گھیر لیتی ہیں۔اس لیے میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ کارخانہ دار بنوں اور عوامی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوکر کارخانہ کی فکر کیے بغیر عوام میں پھرتا رہوں۔ اس صورت میں اپنے کام کی طرف دھیان نہ دے سکوں گا۔ جب تک مالک سامنے نہ ہو تو نوکر بھی پوری توجہ اور محنت سے کام نہیں کرتے اور نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔

ادیب کا پیشہ

ایک پیشہ جو مجھے بہت پسند ہے وہ ادیب کا پیشہ ہے۔ ادیب اپنی قلم کے ذریعے لوگوں کے حق میں آواز بلند کرسکتا ہے، وہ سوشل کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکتا ہے، اپنے مضامین سے لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے، سماج میں نئی روح پھونک سکتا ہے۔ مگر ہندوستان اور پاکستان میں ابھی لوگوں کا دوسرے ترقی پذیر دیشوں کی طرح ادب پڑھنے کا شوق نہیں بڑھا۔ بہت کم لوگ کتابیں پڑھتے ہیں اور ان میں بھی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو مانگ کر کتابیں پڑھنے کے عادی ہیں۔ جب ہم مانگ کر کپڑے نہیں پہنتے، مانگ کر کھانا نہیں کھاتے، مانگ کر گھر کا کرایہ نہیں دیتے تو پھر ادھار مانگ کر کتابیں کیوں پڑھتے ہیں؟

جب تک لوگوں میں مطالعے کا شوق نہیں بڑھتا اور لوگ نقد روپیہ دے کر کتابیں خریدنا شروع نہیں کرتے تب تک ہندوستان اور پاکستان میں کسی بھی ادیب کی مالی حالت اچھی نہیں ہو سکتی۔ادیب صرف اپنی قلم کے سہارے زندہ نہیں رہ سکتا اگر وہ کوئی دوسرا کام کرے گا تو ظاہر ہے کہ وہ عوامی خدمت کے لیے وقت نہیں نکال سکے گا۔اس لئے یہ پیشہ پسند ہوتے ہوئے بھی میں اسے اپنانے سے ہچکچاتا ہوں مگر ساتھ ہی اس جیسا پیشہ اختیار کرنے کی خواہش رکھتا ہوں۔

اخبار نویس کا پیشہ

میرا دل چاہتا ہے کہ میں بڑا ہو کر اخبارنویس بنوں۔ اخبار نویس کا عوام کے ساتھ سیدھا تعلق ہوتا ہے۔چھ سات گھنٹے کی ڈیوٹی دینے کے بعد اخبارنویس آسانی سے عوام میں جاکر ان کے حالات سے واقف ہو کر دوسرے دن ان کی مشکلات بارے اخبار میں لکھکر حکومت اور سماج کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ عوام کی تکلیف کی طرف دھیان دیں یا کسی فرد واحد کی مشکل حل کریں۔

اخبار نویس کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ عوامی بھلائی کے لئے چلائی گئی کسی تحریک میں حصہ لے سکے اور ہر روز تین چار گھنٹے انسانیت کی خدمت کے لیے صرف کر سکے۔اس پیشہ میں عزت بھی ہے، روزی بھی ہے اور عوامی خدمت کا اکثر موقع بھی ملتا ہے۔ اس لئے میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اپنی تعلیم ختم کرنے کے بعد میں اخبارنویس بنوں گا اور خدا کے بندوں سے پیار کرتے ہوئے ان کے دکھوں کا مداوا بن جاؤں گا۔ اس پیشہ میں میں بطور ادیب بھی لوگوں کی خدمت کر سکوں گا۔

Close